ا ان کوابن عقدہ نے بیان کیاہےاوراپنی سندکے ساتھ ابوغیلان یعنی سعدبن طالب سے انھوں نے ابواسحاق سے انھوں نے عمرو ذی مراوریزید بن نثیع اورسعید بن وہب اورہانی بن ہانی سے روایت کی ہے ابواسحاق نے کہاہے کہ مجھ سے بے شمارلوگوں نے بیان کیاکہ حضرت علی نے لوگوں کو کوفہ کے میدان میں قسم دے کرپوچھاکہ کن لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےمن کنت مولاہ فعلی مولاہ اللہم وال من والاہ وعادوم من عاداہقول کوسناہے(جس نے سناہوبیان کرے یہ سن کے)کچھ لوگ کھڑے ہوگئے اور گواہی دی کہ (ہم نے)اس کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہے اورکچھ آدمیوں نے اس کوچھپایا(ان کی یہ حالت ہوئی)کہ دنیا میں اندھے ہوگئے اوران کوکوئی آفت (ضرور)پہنچی ان میں (یعنی جنھوں نے اس خبرکوپوشیدہ رکھاتھا) سے یزیدبن ودیعہ اورعبدالرحمن بن مدلج بھی تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان سے دعامانگتے وقت ہاتھ اٹھانے کی کیفیت میں حدیث (مروی )ہے ان کا تذکرہ ابوعمرنےلکھاہے اور کہاہے کہ ان کی (حدیث)میرے نزدیک مرسل ہے ان کوصحابہ میں ذکرکرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے سوااس کے کہ یہ ان لوگوں میں ہیں جورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھےاس کے متعلق عبداللہ بن محیریز کےبیان میں بحث ہوچکی ہے۔عقیل نے بھی ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔بعض لوگوں نے کہاہے کہ ان کانام عبداللہ تھااور(یہ)بڑے بزرگ تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
محمد کے والد ہیں ۔مجہول ہیں۔ان کا صحابی ہونا مشہورنہیں ہے ان کو (بعض لوگوں نے )صحابہ میں ذکرکیاہے۔وکیع نے محمد ابن فضیل سے انھوں نے یحییٰ بن محمد بن عبدالرحمن انھوں نے اپنے دادا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جب آپ خیبر میں تشریف لائے تو آپ کے پاس ایک یہودی عورت بکری کابھناہواگوشت لائی آپ نے اوربشربن براءبن معرور نے اس گوشت کو کھالیا اورپوری حدیث بیان کی۔ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن شدادبن جذیمہ بن وراع بن عدی بن داربن ہانی داری ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدالرحمن رکھا ان کا(اصل)نام عروہ تھا اور تمیم دارمی کے قبیلے سے تھے۔ ان کا ۱؎ترجمہ وہ لوگ لوٹ گئے اس حال میں کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھےاس رنج میں کے ان کے پاس خرچ کرنے کونہیں ہے۱۲۔ تذکرہ ابوموسیٰ نے عروہ بن مالک کے نام میں کیاہے اورابن کلبی نے کہاہے کہ ان کا نام مروان بن مالک تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن نام رکھایہ ان داریوں سے ہیں جن کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (غنیمت)خیبر (سے کچھ دینے)کی وصیت فرمائی تھی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کوعلی بن سعید عسکری نے افراد میں ذکرکیاہے۔اورابن مندہ نے ان کوعبداللہ کے نام میں بیان کیا ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
خشنی کےبھائی تھے ان کےنام میں بہت اختلاف کیاگیاہے ہم نے اس (اختلاف) کو ان کے بھائی کے تذکرہ میں ذکرکردیاہے انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وفات پائی تھی قاسم بن ثابت کی(کتاب)دلائل النبوت وغیرہ میں ان کاذکربہت ہے۔ ان کا تذکرہ غسانی نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کی کنیت ابولیلیٰ تھی انصاری مازنی ہیں۔مازن بن نجار کے خاندان سے تھے۔ابونعیم نے کہاہےکہ بعض لوگ ان کا نام عبداللہ بن کعب بیان کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ تبوک میں نہ جاسکنے کی وجہ سے رونے لگےتھے۔پس ان کے اوران کے ساتھیوں کے حق میں (یہ آیت)نازل ہوئی تولواواعینہم تفیض من الدمع حزناان لایجدواماینفقونان کاتذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ میں کہتاہوں کہ بعض علمانے ابونعیم کے اس قول کوذکرکرکے کہ بعض نے ان کا نام عبداللہ بیان کیا ہےاورکہاہے کہ یہ ابونعیم کی غلطی ہے کیوں کہ کسی عالم نے ابولیلیٰ کا نام عبداللہ نہیں بیان کیا بلکہ ان کا نام عبدالرحمن تھااور ان کے ایک بھائی تھےان کا نام عبداللہ تھا۔ابن کلبی نےعبدالرحمن اور عبداللہ فرزندان کعب کو بھائی بھائی لکھاہے اس سے ابونعیم کے قول کی تردید ہوگئی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن قیس بن لوذان بن ثعلبہ بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ انصاری ہیں غزوۂ احد میں اپنے والد قنیطی کے ساتھ شریک تھے اورواقعہ یمامہ میں شہیدہوئے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کے تذکرہ کوفقط ابن عقدہ نے لکھا ہے۔جعفر بن محمد نے اپنے والد اور ایمن بن مائل سے ان دونوں نے عبداللہ بن یامیل سے روایت کرکے بیان کیا ہے وہ کہتے تھے کہ میں نے سنا تھاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے کہ جس کا میں ولی ہوں اس کے ولی علی (بھی) ہیں۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔عبسی۔یہ عمار بن یاسر کے بھائی ہیں انشاء اللہ تعالیٰ ان کا پورانسب ان کے بھائی عمارکے تذکرے میں ذکرکیاجائےگا۔یاسر اور یاسرکے لڑکے عبداللہ دونوں مکہ ہی میں مسلمان ہوکر مرے۔ یہ سب سابقین اسلام میں تھے اور ان لوگوں میں تھے کہ جو لوگ فی سبیل اللہ عذاب و مصیبت میں ڈالے گئے تھے۔ ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید