اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

سیّدنا عبد ابن عبدغنم رضی اللہ عنہ

   ابوہریرہ (ان کی کنیت تھی)دوسی ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت تمام صحابہ سے زیادہ کی ہے ان کے نام میں بہت اختلاف کیاگیاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد رضی اللہ عنہ

  عرکی ہیں بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کا نام عبیدہے یہ وہی شخص ہیں کے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے دریاکے پانی کی نسبت پوچھاتھا(کہ اس سے طہارت ہوسکتی ہے یانہیں اور حضرت نے فرمایاتھاکہ ہوسکتی ہے)ابن منیع نے کہاہے کہ مجھ کو خبرپہنچی ہے کہ ان کانام عبدہے اور ان کوطبرانی نے ان لوگوں میں ذکرکیاہے کہ جن کا نام عبید تھااورعرکی (ملاح کوکہتے ہیں)ان کانام نہیں ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد ابن عبدجدل رضی اللہ عنہ

   زمانۂ قدیم سے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاجاتاہے مگر(ان کا صحابی ہونا) صحیح نہیں ہے ان سے معبد بن خالد نےروایت کی ہے ان کوبخاری نے تابعین میں ذکرکیاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد ابوالحجاج رضی اللہ عنہ

  ابن عبدکنیت ان کی ابوالحجاج ہے شمالی ہیں بعض نے بیان کیاہے کہ ان کا نام عبداللہ بن عبدہے یہ اپنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہور تھے ہم ان کو انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں (پورے طورسے) ذکرکریں گے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے ابوالحجاج شمالی کے عنوان میں لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد رضی اللہ عنہ

  زمعہ کے والد تھے بلوی ہیں یہ ان شخصوں میں سے ہیں جنھوں نےدرخت کے نیچے بیعتہ الرضوان والی بیعت کی تھی یہ مصرمیں رہتے تھے ان کے نام میں اختلاف کیاگیاہے جعفر نے کہاہے کہ ان کا نام عبدتھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد ابن زمعہ رضی اللہ عنہ

   بن اسود ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے بھائی تھے ان کا نسب ابونعیم نے اسی طرح بیان کیا ہے ابوعمرنے کہاہےکہ عبدقیس زمعہ بن قیس بن عبد  شمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامربن لوی عامری ہیں ان کی والدہ تک بنت احنف بن علقمہ خاندان بنی معیص بن عامربن لوی سے تھیں ابن مندہ نے کہاہے کہ عبداللہ بن  زمعہ ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے بھائی تھے یہ عبد سرداران صحابہ میں سے ایک بزرگ سردارتھے اور ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے علاقی بھائی تھے اور عبدالرحمن بن زمعہ کے حقیقی بھائی تھےیہ زمعہ کی لونڈی کے لڑکے تھے انھیں کی بابت عبد بن زمعہ نے سعد بن ابی وقاص کے ساتھ جھگڑاکیاتھااوران کے اخیانی بھائی قرظہ بن عبدعمروبن نوفل بن عبدمناف تھے ہم کو یحییٰ بن محمود نے اپنی سند کوابوبکربن عاصم تک پہنچاکر اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ہمارے و۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد ابوحدر رضی اللہ عنہ

  ان کی کنیت ابوحدردہے۔اسلمی ہیں یہ اپنی کنیت ہی کے ساتھ مشہورتھے۔ان کا تذکرہ انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں آئے گا ان کے نام میں علماء (نسب)نے اختلاف کیاہےاحمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے توان کا نام عبدبیان کیاہے اورہشام ابن کلبی نے ان کا نام سلامہ بن عمیربیان کیاہے اور پہلے بیان ہوچکاہے کہ یہ عبداللہ بن ابی حدردہیں امردرداء کے والدتھے واللہ اعلم۔ہم کوعبیداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند کویونس بن بکیرتک پہنچاکرخبردی انھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے جعفربن عبداللہ بن اسلم سے انھوں نے ابوحدردسے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے اپنی قوم کی ایک عورت سے نکاح کیااوردوسودرہم اس کے مہرکے مقررکیے اور میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اس واسطے)حاضرہواکہ آپ میرے نکاح میں کچھ مددکریں آپ نے (مجھ سے) دریافت کیا کہ تم نے مہرکس قدرمعین کیاہے میں نےعرض کیادوسودرہم رسول خدا صلی اللہ ع۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد بن جلندی رضی اللہ عنہ

  ا یہ اوران کے بھائی جیفررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لائے تھے اور (شہر)عمان میں (رہتے)تھے۔ان کا بیان ابوعمرنے ان کے بھائی جیف کے تذکرے میں لکھاہے اور ہم نے بھی ان کوجیفرکے تذکرے میں بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد ابن حجش رضی اللہ عنہ

   بن ریاب اسدی قبیلہ اسد(خاندان)خزیمہ سے تھےان کے بھائی عبداللہ کے تذکرے میں ان کا نسب بیان ہوچکاہے ان کی کنیت ابواحمد تھی ان کے نام پران کی کنیت غالب تھی (یعنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہورتھے)یہ حرب  بن امیہ کے حلیف تھے۔جن لوگوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ان میں سے یہ بھی ہیں۔زینب بنت حجش( زوجۂ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم )کے بھائی تھے کنیت کے باب میں ان کا تذکرہ اس مقام سے زیادہ آئے گا۔ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبد رضی اللہ عنہ

  ابن ازوربعض لوگوں نے ان کوضراربن ازوربیان کیاہے اوریہی زیادہ مشہورہے مجاہدبن مروان نے کہاہے مجھ کومیرے والد نے اپنے والد سے انھوں نے عبدبن ازورسے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھےمیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا جب آپ کے سامنے کھڑاہواتو میں نے ان اشعارکوپڑھا  ؎ ۱؎        تقول جمیلہ فرقتنا                                         وصدعت اہلک شتی سلالا ترکت القداح وعزف القیان                  والخمرتصلیتہ وابہالا ان کاتذکرہ ضرار کے بیان میں گذرچکاہے۔ ۱؎ترجمہ۔۔۔۔

مزید