ابن معمر بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح جمحی۔ مہاجرین حبش میں سے ہیں ان کو ابن مندہ نے ذکر کیا ہے انھوں نے عکرمہ سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا جن لوگوں نے سرزمیں حبش کی طرف ہجرت کی تھی ان میں قبیلہ بنی جمح بن عمر سے حارث بن معمر بن حبیب بھی تھے اور ان کے ساتھ ان کی بی بی تھیں جو مظعون کی بیٹھی تھیں۔ سرزمیں حبش میں ان کے بطن سے حاطب پیدا ہوئے تھے۔ اس حدیث کو ابن لہیعہ نے ابو الاسود سے انھوں نے عروہ سے روایت کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن معلی۔ انصاری۔ کنیت ان کی ابو سعید۔ خلیج بن سعید بن حارث بن معلی نے ان کا نام بیان کیا ہے۔ حفص بن عاصم نے ابو سعید بن معلی سے روایت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا سبع مثانی اور قرآن عظیم جو مجھ کو دیا گیا ہے اس سے مراد سورہ الحمد ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے اور کنیت کے باب میں ان شاء اللہ تعالی ان کا ذکر آئے گا۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن معاویہ۔ جن کا ذکر صحابہ بن ہے عبدہ بن صامت کی حدیث میں حسن نے مقدام رہاوی سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے کہ عبادہ اور ابو الدرداز اور حارث بن معاویہ بیٹھے ہوئے تھے ابو الدرورا نے کہا کہ تم میں سے کسی کو اس دن کا واقعہ یاد ہے جب رسول خدا ﷺ نے غنیمت کے اونٹ کے پیچھے کھڑے ہو کر ہمیں نماز پڑھائی تھی عبادہ نے کہا ہاں مجھے یاد ہے پھر انھوں نے بیان کیا کہ کہ رسول خدا ﷺ نے غنیمت کے ایک اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھائی پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو اونٹ کی ایک میگنی کی طرف اشارہ کر کے آپ نے فرمایا کہ تمہارے مال غنیمت سے میرے لئے اس قدر بھی حلال نہیں جو اس میگنی کی برابر ہو سوا خمس کے جو وہ خمس بھی پھر تمہیں میں واپس جاتا ہے۔ اس حدیث کو ابو سلام اسود نے مقدام بن سعد مکرب کندی سے روایت کیا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ (یہ حدیث) حارث بن معاویہ کندی (سے مروی ہے) یہ حدیث بواسطہ مقدام کے حارث بن معاویہ۔۔۔
مزید
ابن معاذ بن نعمان بن امراء القیس بن زید بن عبد الاشہل۔ اوسی اشہلی سعد بن معاذ کے بھائی ہیں صحابی ہیں۔ غزوہ بدر میں شریک تھے یہ تین بھائی تھے سعد اور حارث اور اوس۔ عروہ نے ان لوگوں کے نام میں جو انصار کے قبیلہ اوس کی شاخ بنی عبد الاشہل سے جنگ بدر میں شریک تھے حارث بن معاذ بن نعمان کا نام بھی کہا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مضرس بن عبد رزاح۔ انھوں نے بیعۃ الرضوان (٭واقعہ حدیبیہ میں آنحضرت ﷺ نے ایک درخت کے نیچے تمام صحابہس ے بیعت لی تھی الہ نے اس بیعت والوں سے اپنی رضامندی کی خبر دی اسی لئے اس کو بیعۃ الرضوان کہتے ہیں) کی تھے اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے اور جنگ قادریہ میں شہید ہوئے۔ ان کی اولاد بھی تھی یہ عدوی کا قول ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مسلم بن حارث تمیمی۔ بعض لوگ ان کو مسلم بن حارث کہتے ہیں مگر پہلا ہی قول صحیح ہے کنیت ان کی ابو مسلم ہے۔ ان کی حدیث ہشام بن عمار نے ولید بن مسلم سے انھوں نے عبدالرحمن بن حسان کنانی سے انھوں نے مسلم بن حارث بن مسلم تمیمی سے رویت کی ہے کہ ان کے والد نے ان سے بیان کیا کہ رسول خدا ﷺ نے انھیں ایک لشکر کے ہمراہ بھیجا۔ (یہ کہتے تھے) جب ہم مقام صفاء میں پہنچے تو میں نے اپنے گھوڑے کو تیز کر دیا اور اپنے ساتھیوں سے پہلے مقام زمیں میں جاکے حریف کے لوگوں سے ملا اور میں نے ان سے کہا کہ لا الہ الا اللہ کہہ دو تو بچ جائو گے ان لوگوں نے کہہ دیا جب میرے ساتھی آئے تو انھوں نے مجھے ملامت کی تو تم نے ہمیں مال غنیمت سے محروم کر دیا حالانکہ وہ ہمرے لئے ثبت ہوچکی تھی ہم جب وہاں سے لوٹے تو لوگوں نے رسول خدا ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ نے مجھے بلایا اور جو کچھ میں نے کیا تھا اس کی تعریف کی اور فرمایا کہ آگاہ ر۔۔۔
مزید
ابن مسعود بن عبدہ بن مظہر بن قیس بن امیہ بن معویہ بن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف۔ انصاری اوسی۔ صحابی ہیں۔ جسر کے دن حضرت ابو عبیدہ کے ہمراہ شہید ہوئے۔ اس کو طبری نے ابن شہاب اور ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مخلد۔ عبدان نے اور ابن شاہین نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے حالانکہ یہ تابعی ہیں۔ احمد بن یحیی صوفی نے محمد بن بشر سے انھوںنے سفیان بن سعید سے انھوں نے سہیل سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حارث بن مخلد سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص عورتوں کی دبر میں ادخال کرے گا قیامت کے دن اللہ عزوجل اس کی طرف (رحمت کی) نظر نہ کرے گا۔ احمد بن یحیی نے اس کو اسی طرح مرسل روایت کیا ہے۔ اور معاویہ بن عرو نے محمد بن بشیر سے اس کو روایت کیا ہے اور موسی بن ایمن ثوری سے انھوں نے سہیل سے انھوں نے حارث بن مخلد زرقی سے انھوں نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول خدا ﷺ نے ایسا فرمایا۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مخاشن۔ اسماعیل بن اسحاق نے علی بن مدینی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے حارث بن فحاش مہاجرین میں سے تھے ان کی قبر بصرہ میں ہے۔ ابو عمر نے ان کا تذکرہ مختصر لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن مالک۔ ابو ہند حجام کے آقا تھے۔ ابن مندہ نے کہا ہے کہ بعض اہل علم نے ان کا نام ہم سے بتایا ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہند ہی کانام حارث بن مالک تھا۔ ابو حوانہ نے جابر سے انھوں نے شعبی سے انھوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے (ایک مرتبہ) پچھنے لگوائے اور حجام کو اس کی مزوری دی ابو ہند نے جو بنی بیاضہ کے غلام تھے آپ کے پچھنے لگائے تھے ان کو ہر روز دیڈھ مزدوری دینا پڑتی تھی رسول خدا ﷺ نے ان کے آقا سے ان کی سفارش کی تو انھوں نے نصف معاف کر دیا۔ اس حدیث کو شعبہ اور ثوری اور شریک اور ابواسرائیل نے جابر سے روایت کیا ہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ ابو عبید کے غلام تھے اور بعض نے کہا ہے کہ بنی بیاضہ کے غلام تھے۔ اور اس حدیث کو اسحاق بن بہلول نے اپنا والد سے انھوں نے ورقاء سے انھوں نے جابرسے انوں نے شعبی سے انھوں نے ابن عباس سے رویت کیا ہے کہ ابو ہند نے جن کا نام حارث بن مالک ۔۔۔
مزید