یوسف بن اسمٰعیل المعروف بہ ابن المعلم بن عثمان تقی الدین قرشی: رشید الدین لقب[1]تھا۔عالم فاضل،فقیہ کامل تھے۔فقہ اپنے والد ماجد سے پڑھی اور مدت تک تدریس وافتاء میں مشغو رہے۔اپنے والد کی وفات کے بعد ایک ماہ زندہ رہ کر قاہرہ میں ۷۱۴ھ میں وفات پائی۔ 1۔ تقی الدین لقب،اپنے والد سے کچھ عرصہ قبل فوت ہوئے’’شذرات الذہب‘‘ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
اسمٰعیل بن عثمان بن عبد الکریم بن تمام بن محمد قرشی دمشقی: رشید الدین لقب تھا مگر ابن و المعلم کے نام سے مشہور تھے۔اپنے زمانے کے امام فاضل،شیخ حنفیہ،مفسر،محدث،فقیہ اصولی،ادیب،حکیم،لغوی،نحوی،منطقی،متکلم تھے۔ ۶۲۳ھ میں پیدا ہوئے،لڑکپن میں جمال الدین حصیری سے فقہ حاصل کی پھر سخاوی سے ساتوں قراء تیں پڑھیں اور ابن زبیدی وغیرہ سے حدیث کو سماعت کیا یہاں تک کہ جملہ علوم میں فائق ہوئے اور قاہرہ میں ۷۰۰ھ میں تشریف لائے اور اسی جگہ اخیر دم تک ٹھہرے رہے اور تدریس و افتاء آپ کا کام رہا۔ابن حبیب نے آپ سے سماع کیا۔ بڑے زاہد و متقی تھے مگر وفات سے دو برس پہلےآپ کا ذہن متغیر ہو گیا تھا۔ وفات آپ کی ماہ رجب ۷۱۴ھ میں ہوئی۔’’محدث زبدۃ انجمن‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
حسن،یاحسین بن علی بن حجاج بن علی سغناقی: حسام الدین لقب تھا اور شہر سغتاق کے جو ترکستان میں واقع ہے،رہنے والتے تھے۔اپنے زمانہ کے فقیہ کامل اور علام فاضل نھوی جدلی تھے،فقہ حافظ الدین کبیر محمد بن محمد بن نصر بخاری اور فخرالدین محمد بن محمد بن الیاس ما یمر غی اور عبد الجلیل بن عبد الکریم اور نحو غجدوانی وغیرہ سے حاصل کی،پھر بغداد میں تشریف لے گئے اور وہاں مشہد امام ابی حنفیہ کے مدرس بنے۔بعد ازاں ۷۱۰ھ میں دمشق کی طرف حج کی غرض سے آئے اور قاضی القضاۃ ناصر الدین محمد بن عمر بن عدیم سے ملاقات کر کے اپنی مرویات و مسموعات کی سند حاصل کی۔آپ سے قوام الدین محمد بن محمد بن احمد کا کی صاحب معراج الدرایہ شرح ہدایہ اور سید جلال الدین کرلانی صاحب کفایہ نے تفقہ کیا۔آپ ابھی جو ان ہی تھے کو فتوےٰ کا کام آپ کے سپر د کیا گیا۔آپ نے ہدایہ کی شرح مسمی بہ نہایہ بہت مبسوط تصنیف کی،علاوہ اس کے شرح تمہید فی قواعد ال۔۔۔
مزید
یحییٰ بن علی بن رومان[1]رومی: نجم الدین لقب تھا۔عالم،فاضل، صالح، امام جامع دمشق تھے۔دور دور سے لو گ اکر آپ سے فیض یاب ہوتے اور فائدہ اٹھاتے تھے،وفات آپ کی ۷۱۰ھ میں ہوئی۔ 1۔ حبان علی ’’جواہر المفیہ ‘‘ (مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
اسحٰق بن علی بن یحییٰ: ابو طاہر کنیت اور نجم الدین لقب تھا۔علوم شرعیہ و دینیہ میں آپ کو پرلے درجے کی دسترس اور مہارت حاصل تھی۔ہدایہ پر آپ نے بہت مفید اور نفیس حواشی تحریر کیے اور ۷۱۱ھ میں شہر قاہرہ میں وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
احمد بن ابراہیم بن عبدالغنی بن اسحٰق سروجی: قاضی القضاۃ خطاب اور ابو العباس کنیت تھی۔اصل میں شہر سروج کے رہنے والے تھے جو شام کے ملک میں شہر حران کے پاس جہاں زر تشت پید اہوا تھا،واقع ہے۔فقہ واصول میں امام فاضل اور معقول و منقول میں شیخ زمانہ تھے فقہ قاضی القضاۃ ابی ربیع سلیمان اور محمد بن عباد خلاطی تلمیذ جمال الدین حصیری شاگرد وقاضی خان سے پڑھی،مدت تک مصر کے قاضی و مفتی اور مدرس رہے اور آپ سےامیرعلاء الدین علی بن بلبان بن عبداللہ فارسی اور علاء الدین علی بن عثمان ماردینی معروف بہ ابن ترکمانی نے فقہ پڑھی۔ آپ نے ہدایہ کی شرح کتاب الایمان تک غایۃ السروجی نام سے چھہ جلدوں میں تصنیف کی اور اس کو دلائل عقیلیہ و نقلیہ ے خوب مؤید کیا۔علاوہ اس کے کتاب ادب القضاء،فتاویٰ سروجیہ،کتاب المناسک،کتاب نفحات النسمات فی وصول الثواب الی الاموات،مؤلف فی حکم الخیل،رسالۃ الحجۃ الواضحہ فی ان البسملۃ لیست من الفا۔۔۔
مزید
عبد الغنی بن اسمٰعیل بن عبد الغنی نابلسی دمشقی: عالم محقق،فاضل مدقق تھے۔علوم وفنون اپنے ملک کے علماء و فضلاء سے حاصل کیے اور اپنے چشمۂ فیض سے ایک جماعتِ کثیرہ کو سیراب کیا۔کتاب نہایۃ المراد شرح ہدیۃ ابن العماد اور خلاصۃ التحقیق فی مسائل التقلید والتلفیق اور لؤ لؤ المکنون فی الاخبار عما سیکون اور غایۃ الوجازہفی تکرار الصلوٰۃ علی الجنازہ وغیرہ تصنیف کیں اور ۱۱۴۴ھ میں وفات پائی۔ ’’محقق مذہب حنفی‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
عبداللہ بن احمد بن محمود نسفی: ابو البرکات کنیت اور حافظ الدین لقب تھا۔ شہر نسف یعنی نخشب کے جو ماوراء النہر میں واقع ہے،رہنے والے تھے۔اپنے زمانہ کے امام کامل،عالم محقق،فقیہ مدقق،فاضل عدیم النظیر،فقہ واصول میں سرآمد کے معانی میں بارع،زاہد و پرہیرز گار تھے۔ابنِ کمال پاشا نے آپ کو فقہاء کے چھٹے طبقہ میں شمار کیا ہے جو روایات ضعیفہ اور قویہ کے تمیزکرنے پر قادر ہوں۔فقہ شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری اور حمید الدین ضریر اور بدر الدین خواہر زادہ سے حاصل کی اور امام محمد کی زیادات کو احمد بن محمد عتابی سے روایت کیا اور آپ سے سغناقی نے سماع کیا۔تصانیف آپ نے فقہ واصول میں بہت عمدہ اور معتبر کیں چنانچہ کنز الدقائق اور وافی اور اس کی شرح کافی اور مناراور اس کی شرح کشف الاسرار اور مصفی شرح منظومہ نسفیہ اور مستصفے شرح فقہ النافع اور اعتماد شرح عمدہ اور عقیدہ حافظیہ اور منتخب اخسیکتی پر دو شر۔۔۔
مزید
علی بن محمد بن حسن قاروسی رکابی: عالم فاضل اور قاہرہ کے مدرس ہدایہ پر تعلیقات لکھیں،قاروسی آپ کو اس لیے کہتے تھے کہ آپ بہت بڑا لمبا عمامہ باندھا کرتے تھے اور رکابی کے لقب سے اس لیے ملقب ہوئے کہ آپ کے پاس رسول اللہﷺکی رکابیاں موجود تھیں،وفات آپ کی ۷۰۸ھ میں ہوئی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمود بن احمد المعروف بہ ابن سراج قونوی: جمال الدین لقب تھا۔ اپنے زمانہ کے امام فاضل،شیخ حنفیہ تھے۔آپ نے شیخ ابو محمد مکی قیسی متوفی ۴۳۷ھ کی تفسیر مختصر احکام القرآن کو نہایت خوبی و خوش اسلوبی سے ملخص کیا اور ۷۰۷ھ[1]میں وفات پائی۔’’شمع رہنما‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔ ولادت ۷۰۰ھ سے قبل وفات ۷۷ھ متصل حالات آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید