اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

سیدنا) اسماعیل (رضی اللہ عنہ)

  صحابہ میں سے ایک شخص ہیں بصرہ میں آکے رہے تھے۔ بشرط یہ کہ یہ روایت محفوظ ہو۔ ہمیں ابو الفرح یحیی بن محمود اصفہانی نے خبر دی وہ کہتے تھے ابو علی حسین بن احمد نے بیان کیا ا سوقت میں موجود تھا وہ کہتے تھے ہمس ے حافظ ابو نعیم نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں عبداللہ بن جعفر بن اسحاق موصلی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن احمد بن مثنی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیں جعفر ابن عون نے خبردی وہ کہتے تھے ہمس ے اسماعیل بن ابی خالد نے ابوبکر بن عمارہ بن روبیہ سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کر کے خبر دی کہ وہ کہتے تھے بصرہ کے رہنے والے ایک بوڑھے میرے والد کے پاس آئے اور انھوں نے کہا کہ جو کچھ آپ نے رسول خدا ﷺ سے سنا ہو مجھ سے بیان کیجئے میرے والد نے کہا میں نے حضرت کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ شخص دوزخ میں نہ جائے گا جو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے (٭تخصیص نماز فجر و عصر کی اس وجہس ے ہے کہ ان د۔۔۔

مزید

سیدنا) اسماعیل (رضی اللہ عنہ)

  ابن ابی حکیم مزنی۔ قبیلہ بنی فضیل میں سے ایک شخص ہیں۔ عبداللہ بن سلمہ نے ابن شہاب سے انھوںنے اسماعیل بن ابی حکیم مزنی سے جو نبی فضیل کے ایک شخص ہیں روایت کی ہے کہ انھوںنے کہا میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ اللہ عزوجل جب سورہ لمیکن الذیکفروا کو پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو فرماتا ہے کہ میرے بندے کو بشارت دے دو کہ قسم ہے اپنے عزت کی میں تجھے جنت میں جگہ دوں گا یہاں تک کہ تو خوش ہو جائے گا۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ محمد بن اسمعیل جعفی نے عبداللہ بن سلمی سے اسی طرح رویت کیا ہے مگر میرے نزدیک یہ سناد منقطع ہے اس لئے کہ کسی امام نے اسمعیل کا ذکر صحابہ میں نہیں کیا ابن مندہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے اس کو بخاری نے افراد میں ذکر کیا ہے اور مجھے معلوم نہیں کہ انھوں نے حضرت کو دیکھا ہو یا آ کی صحبت اٹھائی ہو۔ انکا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

(سیدنا) اسماء (رضی اللہ عنہ)

  ابن ربان بن معاویہ بن مالک بن سلی۔ سلی کا نام حاث بن رفاعہ بن عذوہ بن عدی بن شمیس بن طرو دین قدامہ بن جرم بن ریان ہے قبیلہ جریم کے ہیں۔ یہ وہ شخص ہیں جنھوںنے بنی عقیل کے مقابلہ پر عقیق (نامی وادی۹ کے بارے میں دعوی کیا تھا وہ عقیق جو قبیلہ بنی عامر بن صعصعہ کے زمیں میں ہے نہ وہ عقیق جو مدینہ میں ہے۔ تو حضرت نے وہ وادی قبیلہ جرم کے لوگوںکو دل دی۔ انھیں کے یہ د ونوں شعر ہیں۔ وانی اخو جرم کما قد علمتم     اذا اجتمعت عند النبی المجامع  فان انتم لم تقتغو یقضانہ      فانی بما قال النبی لقانع (٭لوگوں نے جب ان سے اس وادی کے بارے یں پھر جھگڑا کیا تو انھوںنے یہ شعر کہے تھے ترجمہ ان شعروں کا یہ ہے میں قبیلہ جرم کا بھائی ہوں جیسا کہ تم جانتے ہو نہ جب نبی کے پاس لوگ جمع ہوئے تھے پس اگر تم نبی کے فیصہ پر راضی نہیں تو نہ ہو مگر میں تو نبی کے فیصلہ پ۔۔۔

مزید

سیدنا) اسماء (رضی اللہ عنہ)

  ابن حارثہ بن ہند بن عبداللہ بن غیاث بن سعد بن عمرو بن عامر بن ثعلبہ بن مالک بن افعی یہ ابو عمر کا قول ہے اور انکے نسب میں اس کے علاوہ اور اقوال بھی ہیں۔ ابن کلبی کہتے ہیں کہ (انکا یہ نسب ہے) اسماء بن حارثہ بن سعید بن عبداللہ بن غیاث ابن سعد بن عمرو بن عامر بن ثعلبہ بن مالک۔ اور مالک بن افصی اسلم کے بھائی ہیں اور مالک کے دونوں بیٹے اکثر قبیلہ اسلمکی طرف منسوب کر دیے جاتے ہیں اور لوگ انھیں سلمی کہتے ہیں اسماء کی کنیت ابو ہند ہے ان کا صحابی ہونا ثابت ہے یہ اور ان کے بھائی ہند اہل صفہ (٭مسجد نبوی میں ایک سائبان تھا اسی کو صفہ کہتے ہیں کچھ غربا وہاں رہا کرتے تھے) میں سے تھے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حارثہ کے دونوں بیٹوں اسماء اور ہندکو رسول خدا ﷺ کا خادم سمجھا کرتا تھا بوجہ س کے کہ یہ دونوں حضرت کے دروازے پر اکثر رہا کرتے تھے اور آپ کی خدمت بہت کیا کرتے تھے۔ یہ اسماء وی۔۔۔

مزید

سیدنا) اسلم ۰رضی اللہ عنہ)

  یہ ایک دوسرے ہیں ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھا ہے انوںنے کہا ہے کہ عبدان مروزی نے بیان کیاہے کہ مجھے ان اسلم کا نہ کچھ حال معلوم ہے اور نہ ان کا نسب میں جانتا ہوںسوا اس حدیث کے (کہ اس میں البتہ ان کا تذکرہ ہے) اور ممکن ہے کہ اسلم سے مراد (اس حدیث میں) قبیلہ اسلم ہو اور یہی قرین قیاس ہے۔ عبدان نے کہا ہے کہ ہمیں نبدار نے اور ابو موسینے خبر دی یہ دونوں کہتے تھے کہ ہمیں محمدبن جعفر نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں شعبہ نے قتادہ سے انھوں نیعبدالرحمن بن منہال بن مسلمہ خزاعی سے انھوں نے اپنے چچا سے نقل کر کے خبر دی کہ رسول خدا ﷺنے اسلم سے فرمایاکہ تم لوگ آج کیدن (یعنی عاشورا) کا روزہ رکھو ان لوگوں نے کہا کہ ہم تو کھا چکے ہیں آپنے فرمایا اب جس قدر دن باقی ہے اس میں کچھ نہ کھائو ابو موسی کہتیہیں کہ یہ حدیث اسی سند سے محفوظ ہے اس حدیث سے سمجھا جاتا ہے کہ اسلمسے مراد قبیلہ اسلم ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ۔۔۔

مزید

سیدنا) اسلم (رضی اللہ عنہ)

  ابن عمیرہ بن امیہ بن عامر بن جشم بن حارثہ انصاری حارثی۔ جنگ احد میں شریک ہوئے تھے یہ قول طبرانی کا ہے۔ ان کا تذکرہ ابو عمر نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسلم (رضی اللہ عنہ)

  ابن سلیم۔ خنساء بنت معاویہ بن سلیم صریمیتہ کے چچا ہیں۔ یہ تین بھائی تھے۔ حارث اور معاویہ اور اسلم یہ ابن مندہ کا بیان ہے ابو نعیم نے بیان کیا ہے ہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے یہ گمان کیا ہے کہ ان کا نام اسلم ہے حالانکہ یہ صحیح نہیں اور انھوں نے ان کی ایک حدیث عوف اعرابی سے روایت کی ہے وہ خنساء بنت معاویہس ے روایت کرتیہیں وہ اپنے چچا سے روایت کرتی ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا۔ نبی جنتی ہیں اور شہید جنتی ہیں اور چھوٹے بچے جنتیہیں اور زندہ درگور (٭عرب میں اسلام سے پہلے دختر کی ولادت بہت ناگوار تھی جہاں کسیکے ہاںلڑکی پیدا ہوئی وہ مارے شرم کے اپنی قوم کو منہ دکھاتا تھا اس شرمندگی کے دفع کرنے کے لئے اکثر لڑکیاں زندہ گاڑ دی جاتی تھی) کی ہوئی لڑکی جنتی ہے اور بعض راویوں نے اس حدیث میں خنساء بنت معاویہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا مجھ سے میری پھوپھی نے یہ حدیث بیان کی۔ انکا تذکرہ ابن مندہ ا ور ا۔۔۔

مزید

سیدنا) اسلم (رضی اللہ عنہ)

  کنیت ان کی ابو رافع رسول خدا ﷺکے غلام تھے کنیت ان کی زیادہ مشہور ہے ان کے نام میں لوگوں نے اختلاف کیا ہے ابن مدینی نے بیان کیا ہے کہ ان کا نام اسلم ہیاور ابن نمیر نے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے اور بعض لوگوںنے ان کا نام ہرمز بیان کیا ہے اور بعض لوگوں نے ابراہیم۔ ابراہیم کے نام میں اس کا ذکرہوچکا ہے۔ یہ ایک قبطی غلام تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی ملک میں انھوں نے نبی ﷺ کو ہبہ کر دیا تھا۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ سعید بن عا کے غلام تھے سعید بن عاص کے بعد انک ی بیٹی ان کی وارث ہوئے ان کے آٹھ بیٹے تھے سبھوں نے ان کو آزاد کر دیا سوا خالد کے کہ انھوں نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا تو ان سے رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنا حصہ یا تو آزد کر دیں یا آپ کے ہاتھ بیچ ڈالیں یا آپکو ہبہ کر دیں مگر انھوں نے نہیں مانا چند روز کے بعد انھوںنے رسول خدا ﷺ کو ہبہکر دیا آپنے انھیں آزاد کر دیا اور بعض لوگ کہتے۔۔۔

مزید

(سیدنا) اسلم (رضی اللہ عنہ)

  ابن حصین بن جبیرہ بن نعمان بن سنان۔ بخاری نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیا ہے مگر ان کی کوئی حدیث نہیں بیان کی ان کا تذکرہ ابن مندہ ور ابو نعیم نے کیا ہے۔ ایک اسلم بن جبیرہ کا بیان اوپر ہوچکا ہے میں ان دونوں کو ایک سمجھتا ہوں۔(اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔

مزید

سیدنا) اسلم (رضی اللہ عنہ)

  چرواہے جن کا لقب اسود ہے۔ ابن مندہ نے بیان کیا ہے کہ اسلم چرواہے جنکی کنیت ابو سلمی ہے خیبر میں شہید ہوئے ان کی حدیث ابو سلام نے بواسطہ ابو سلمی چرواہے کے نبی ﷺسے نقل کیہے کہ آپنے فرمایا پانچ چیزیں بہت مبارک ہیں ترازوے اعمال میں ان کا وزن بہت بھاری ہے۔ ابو نعیم نے بیان کیا ہے کہ ابو سلمی رسول خدا ﷺ کے چرواہے تھے بعض وہم کرنے والوںنے گمان کیا ہے ہ ان کا نام اسلم ہے حالانکہ ان کا نام حریث ہے اور انھوں نے یہ بھی دعوی کیا ہیک ہ وہ خیبر میں شہیدہوئے حالانکہ یہ ایکدوسرا وہم ہے اور ابو نعیم نے وہ حدیث بھی بیان کی ہے جو ابن مندہنے رویت کی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا پانچ چیزیں بہتمبارک ہیں ترازوے اعمال میں ان کا وزن بہت بھاری ہے (وہ پانچ چیزیں یہ ہیں) لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ور سبحان اللہ اور الحمد للہ اور اوللاد صالح جو کسی مرد مسلمان کی فوت ہو جائے اور وہ اس پر صبر کرے ابو نعیم نے کہ۔۔۔

مزید