یزید کے والد ہیں ان سے ان کے بیٹے یزید نے روایت کی ہے۔ہم کو ابوالفرج بن ابی الرجا نے اپنی سند کوابن ابی عاصم تک پہنچاکراجازتاًخبردی وہ کہتے تھے ہم سے یعقوب بن حمید نے ابن وہب سے انھوں نے عمروبن حارث سے انھوں نے ایوب بن موسیٰ سے انھوں نے یزید بن عبدمزنی سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کرکے بیان کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایالڑکے کا عقیقہ کیاجائے مگراس کے سرمیں(عقیقہ کا)خون نہ لگایاجائے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ابوعمرنے کہاہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اور ابواحمد عسکری نے اس حدیث کو ذکرکرکے بیان کیاہے کہ میں اس حدیث کو مرسل خیال کرتاہوں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عامربن خالد بن عامر بن زریق انصاری زرقی ہیں یہ (بیعت)عقبہ اور(غزوۂ) بدر میں شریک تھے ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابوہریرہ (ان کی کنیت تھی)دوسی ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث کی روایت تمام صحابہ سے زیادہ کی ہے ان کے نام میں بہت اختلاف کیاگیاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
عرکی ہیں بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کا نام عبیدہے یہ وہی شخص ہیں کے جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے دریاکے پانی کی نسبت پوچھاتھا(کہ اس سے طہارت ہوسکتی ہے یانہیں اور حضرت نے فرمایاتھاکہ ہوسکتی ہے)ابن منیع نے کہاہے کہ مجھ کو خبرپہنچی ہے کہ ان کانام عبدہے اور ان کوطبرانی نے ان لوگوں میں ذکرکیاہے کہ جن کا نام عبید تھااورعرکی (ملاح کوکہتے ہیں)ان کانام نہیں ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
زمانۂ قدیم سے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاجاتاہے مگر(ان کا صحابی ہونا) صحیح نہیں ہے ان سے معبد بن خالد نےروایت کی ہے ان کوبخاری نے تابعین میں ذکرکیاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن عبدکنیت ان کی ابوالحجاج ہے شمالی ہیں بعض نے بیان کیاہے کہ ان کا نام عبداللہ بن عبدہے یہ اپنی کنیت کے ساتھ زیادہ مشہور تھے ہم ان کو انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں (پورے طورسے) ذکرکریں گے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے ابوالحجاج شمالی کے عنوان میں لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
زمعہ کے والد تھے بلوی ہیں یہ ان شخصوں میں سے ہیں جنھوں نےدرخت کے نیچے بیعتہ الرضوان والی بیعت کی تھی یہ مصرمیں رہتے تھے ان کے نام میں اختلاف کیاگیاہے جعفر نے کہاہے کہ ان کا نام عبدتھا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن اسود ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے بھائی تھے ان کا نسب ابونعیم نے اسی طرح بیان کیا ہے ابوعمرنے کہاہےکہ عبدقیس زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدود بن نصر بن مالک بن حسل بن عامربن لوی عامری ہیں ان کی والدہ تک بنت احنف بن علقمہ خاندان بنی معیص بن عامربن لوی سے تھیں ابن مندہ نے کہاہے کہ عبداللہ بن زمعہ ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے بھائی تھے یہ عبد سرداران صحابہ میں سے ایک بزرگ سردارتھے اور ام المومنین سودہ بنت زمعہ کے علاقی بھائی تھے اور عبدالرحمن بن زمعہ کے حقیقی بھائی تھےیہ زمعہ کی لونڈی کے لڑکے تھے انھیں کی بابت عبد بن زمعہ نے سعد بن ابی وقاص کے ساتھ جھگڑاکیاتھااوران کے اخیانی بھائی قرظہ بن عبدعمروبن نوفل بن عبدمناف تھے ہم کو یحییٰ بن محمود نے اپنی سند کوابوبکربن عاصم تک پہنچاکر اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہم سے سعید بن یحییٰ بن سعید نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ہمارے و۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابوحدردہے۔اسلمی ہیں یہ اپنی کنیت ہی کے ساتھ مشہورتھے۔ان کا تذکرہ انشاء اللہ تعالیٰ کنیت کے باب میں آئے گا ان کے نام میں علماء (نسب)نے اختلاف کیاہےاحمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین نے توان کا نام عبدبیان کیاہے اورہشام ابن کلبی نے ان کا نام سلامہ بن عمیربیان کیاہے اور پہلے بیان ہوچکاہے کہ یہ عبداللہ بن ابی حدردہیں امردرداء کے والدتھے واللہ اعلم۔ہم کوعبیداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند کویونس بن بکیرتک پہنچاکرخبردی انھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے جعفربن عبداللہ بن اسلم سے انھوں نے ابوحدردسے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے اپنی قوم کی ایک عورت سے نکاح کیااوردوسودرہم اس کے مہرکے مقررکیے اور میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (اس واسطے)حاضرہواکہ آپ میرے نکاح میں کچھ مددکریں آپ نے (مجھ سے) دریافت کیا کہ تم نے مہرکس قدرمعین کیاہے میں نےعرض کیادوسودرہم رسول خدا صلی اللہ ع۔۔۔
مزید
ا یہ اوران کے بھائی جیفررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لائے تھے اور (شہر)عمان میں (رہتے)تھے۔ان کا بیان ابوعمرنے ان کے بھائی جیف کے تذکرے میں لکھاہے اور ہم نے بھی ان کوجیفرکے تذکرے میں بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید