فقیر صفت ، عالم باعمل ، شیخ الفقہ ، استاد العلماء مولانا قاری مفتی عبدالرحمن قاسمی جن کی عمر کا کافی حصہ درس و تدریس میں گذرا۔ درس و تدریس آپ کا محبوب مشغلہ تھا ۔ بلکہ پڑھنا پڑھانا آپ کی پہچان تھی ۔ گوٹھ جلال واہ کوٹھو (تحصیل ٹھل ضلع جیکب آباد ) کے پہنور قبیلہ کے علی محمد پنھو ر مرحوم کے گھر تقریبا ۱۹۳۳ء کو آپ کی ولادت با سعادت ہوئی ۔ اس دور میں پوری بستی ناخواند گی کی شکار تھی ۔ مفتی صاحب کا بتدائی دور وہیں نا خواندگی میں گذرا۔ شادی ہوئی ، پانچ بچے پیدا ہوئے اور والدین انتقال کر گئے ۔ دنیا فانی ہے ۔ والدین کی جدائی سے سے آپ کو آخر ت کی تیاری کے لئے علم حاصل کر نے کی تڑپ پیدا ہوئی ۔ تقریبا تیس سال کی عمر میں علم دین پڑھنا شروع کیا ۔ مختلف اساتذہ سے مختلف علوم و فنون حاصل کئے ۔ دربار عالیہ مشوری شریف میں قائم شدہ عظیم دینی درسگاہ ’’جامعہ عر بیہ قاسم العلوم ‘&l۔۔۔
مزید
’’دربیلو‘‘ ضلع نوشہرو فیروز (سندھ )کے شمال میں ایک ایسا قصبہ ہے، جہاں کے ’’مخادیم ‘‘ نے اپنی علمی و ادبی اور دینی خدمات کے ذریعے شہرت حاصل کر رکھی ہے۔ ان کے جدامجد حضرت سعد بن ابی وقاص ، مجاہد اسلام فاتح سندھ حضرت محمد بن قاسم کے ساتھ سندھ میں تشریف لائے تھے۔ مفتی صاحب کی آٹھویں پشت میں مخدوم محمد عثمان دربیلائی بہت بڑے عالم دین گذرے ہیں جن کا تذکرہ سندھ کی قدیم تاریخ ’’تحفۃ الکرام ‘‘میں مورخ سندھ میر علی شیر قانع ٹھٹھوی نے بھی کیا ہے ۔ اس خاندان کے پاس قضاء کا منصب ایک عرصہ تک رہا اور اس خاندان کے فتاویٰ کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے ۔ اسی خاندان کے چشم و چراغ مولانا مفتی عبدالعلیم و قاصی دربیلائی ہیں جو کہ ۱۹۰۱ء کو بروز جمعرات مخدوم عبدالنبی دربیلائی کے گھر تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت: ُآپ کے چچا مخدوم محمد داوٗد ج۔۔۔
مزید