اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

سیّدناعدی ابن حاتم رضی اللہ عنہ

   بن عبداللہ بن سعدبن حشرج بن امرءالقیس بن عدی بن اخزم بن ابی اخزم بن ربیعہ بن جرول بن ثعل ابن عمروبن غوث بن علی طائی ہیں ان کے والد حاتم ایسے بخشش والے تھے کہ ان کی بخشش ضرب المثل تھی۔عدی کی کنیت ابوطریف تھی اوربعض نے کہاہے کہ ابووہب تھی ان کے نسب میں طی تک بعض ناموں کی نسبت نسب جاننے والوں نے اختلاف کیاہے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ۹ھ ہجری ماہ شعبان میں وفدہوکرآئےتھے۔بعض نے کہاہے کہ۱۰ھہجری میں آئے تھےاوراسلام لائےیہ (پہلے )نصرانی تھے۔ہم کوابوالفضل یعنی عبداللہ بن احمدبن عبدالقاہر نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو ابومحمدیعنی جعفربن احمدقاری نے خبردی وہ کہتےتھے ہم کو علی بن محسن تنوخی نے خبردی وہ کہتےتھےہم سے عیسیٰ بن علی بن داؤدنے خبردی وہ کہتےتھے ہم کوعبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے اسحق ابن ابراہیم مروزی نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے حمادبن زیدنے ایوب سے۔۔۔

مزید

سیّدناعثمان ابن عبدغنم رضی اللہ عنہ

   بن زہیربن ابی شدادبن ربیعہ بن ہلال بن مالک بن ضبہ بن حارث بن فہربن مالک قریشی فہری ہیں یہ اول زمانے میں اسلام لائے تھے انھوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی یہ سب کا قول ہے مگر ہشام بن کلبی نے کہاہے کہ یہ عامربن عبدغنم ہیں۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔

مزید

سیّدناعتیبہ رضی اللہ عنہ

یہ بلوی النسب ہیں پھرانصاری کے حلیف ہوگئے تھے۔حسن نےابن ابی ثعلبہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازپڑھ رہے تھے کہ آپ کے پیچھے ایک شخص کھڑا ہوگیااورکہنے لگا۱؎ سبحانک اللہم وبحمدک اشھد ان لاالہ الاانت وحدک لاشریک لک عملت سوءًوظلمت نفسی فاغفرلی وارحمنی وتب علی انک انت التواب الرحیمآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بعدنمازکے)فرمایاکہ یہ کلام کہنے والاکون شخص تھا اس شخص نے کہا یارسول اللہ میں ہوں اور یہ شخص خاندان بلی سے پھرانصار سے تھاعتیبہ ان کا نام تھا پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاقسم ہے اس کی جس کے قدرت میں میری جان ہے۔تیرے منہ سے یہ کلمات ختم بھی نہ ہونےپائےتھے کہ میں نے گیارہ فرشتوں کودیکھاکہ وہ لکھنے میں سبقت کرتے ہیں کہ کون لکھ لے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ ۱؎ترجمہ پاکی بیان کرتاہوں تیری اے اللہ اورتیری حمدکے سات شہادت دیتاہوں کوئی معبود تیرے سوانہیں ۔۔۔

مزید

حَسن بصری رحمتہ اللہ علیہ

حسن بصری سےایک صحابی سے،یزیدبن ہارون نے ہشام سے،انہوں نے حسن بصری سے،انہوں نے ایک صحابی سے روایت کی،کہ ہم ایک سفرمیں حضورِاکرم کےساتھ تھے کہ اللہ اکبر کی آواز آئی، فرمایا،یہ آوازفطرت کے عین مطابق ہے،اس کے بعداس نے اَشۡہَدُ اَنۡ لَااِلٰہَ اِلَّااللہ کہا،فرمایا،آگ سےنجات پاگیا،ہم اس وادی کی طرف بڑھے،وہاں ایک چرواہے کودیکھا،جو ادائے نماز کی تیاری کررہاتھا،ابنِ مندہ نے ذِکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

حَسن بصری رضی اللہ علیہ

حَسن بصری اصحاب رسول سے،زیدالعمی وغیرہ نے حسن بصری سےروایت کی،وہ کہتے ہیں کہ انہوں نےپچاس صحابہ سےیہ حدیث سنی،حضورِاکرم نے منع فرمایا،کہ مردمردکوآغوش میں لے اورچھری کوتیزنہ کرے،جب بکری دیکھ رہی ہو،اورآدمی اپنی بیوی سے،کسی دوسرے کے سامنے مجامعت سےپرہیزکرے،خواہ وہ دودھ پیتابچہ ہی کیوں نہ ہو،اورقرآن مجید کےالفاظ کولعابِ دہن سے نہ مٹایاجائے،اوراسی طرح معاوضہ لے کرقرآن پڑھانے،اذان دینےاورامامت کرنے سے منع فرمایا،دونوں نےذکرکیاہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن عبدالغفار رضی اللہ عنہ

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے حمادبن سلمہ نے ثابت بنانی سے انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے غلام عبدالغفار سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے جب میرےصحابہ کا ذکرکیاجائے توتم ان کی برائی کرنے سے بازرہوان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید ابن عمر رضی اللہ عنہ

 بن صالح رعینی پھرذبحانی ہیں ان کو لوگوں نے صحابہ میں ذکرکیاہے یہ فتح مصر میں شریک  تھے اس کوابوسعید بن یونس نے لکھاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ نے لکھاہے۔ان سے کوئی روایت نہیں ہے میراخیال ہے کہ یہ عبیدوہی عرکی ہیں جن کاتذکرہ ان سے پہلے بیان ہوچکاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبید رضی اللہ عنہ

عرکی (یعنی ملاح) ہیں۔ان کا تذکرہ طبرانی نے عبیدنام والے صحابہ میں لکھاہے اوربعض لوگوں نے ان کا نام عبدبیان کیاہے ان کی حدیث جودریاکے پانی کے نسبت ہے پہلے بیان ہوچکی ہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم نے لکھاہے اورابوموسیٰ نے ان کا حال یہاں پرنہیں بیان کیاہے بلکہ عبدکے نام میں ان کاتذکرہ لکھ کریہ کہاہے کہ بعض لوگ ان کا نام عبیدبیان کرتےہیں۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمن مکفوف رضی اللہ عنہ

ان کا ذکرصلوۃ الاعمی (یعنی نابیناکی نماز پڑھنے کے بیان )میں کیاگیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے اورکہاہے کہ ہم نے کتاب وصائف میں ان کو ذکرکیاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمن ابن معاویہ رضی اللہ عنہ

۔ان کو (کچھ لوگوں نے)صحابہ میں ذکرکیاہے مگرصحیح نہیں ہے۔انھوں نے مصر میں سکونت اختیارکی تھی۔یزید ابن ابی حبیب نے سوید بن قیس سے انھوں نے عبدالرحمن معاویہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یارسول اللہ کون سی چیزحلال ہے اور کون سی مجھ پر حرام ہے(راوی نےکہا)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کے)سکوت فرمایاپھر(اس شخص نے) رسول خداسے یہی سوال تین بارکیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہربارسکوت کیا۔تھوڑی دیر کے بعد آپ نے فرمایاکہ دریافت کرنےوالاکہاں ہے (اس شخص نے عرض کیایارسول اللہ میں ہوں آپ نے فرمایاجس چیزسے تیراقلب انکار کرے اس کو تو چھوڑ دے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎سبابہ انگوٹھے کے برابروالی انگلی کوکہتے ہیں یہ سب سے ماخوذ ہے جس کے معنی برابھلا کہنااورگالی دینا ہے ایام جاہلیت میں اہل عرب کاقاعدہ تھا کہ جب کسی کوبرابھلاکہتے یاگا۔۔۔

مزید