پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

سیّدنا عبدالعزیز عبدالغفور رضی اللہ عنہ

   کے والد تھے ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ابونعیم نے ان کابیان لکھ کر کہاہے کہ ان کا نسب نہیں بیان کیاگیاابوزکریایعنی ابن مندہ نے اس بیان میں انھیں کی پیروی کی ہے۔ہم کو ابوموسیٰ نے اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہم کو ابوعلی نے خبردی وہ کہتے تھے ہم کو ابونعیم نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے احمد بن جعفربن سلم نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے مروان بن جعفر بن سعد بن سمرہ نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبدالرحمن بن محمد محاربی نے عثمان بن مطربصری سے انھوں نے عبدالغفور بن عبدالعزیزسے انھوں نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(ماہ)رجب ایک بزرگ مہینہ ہے اس میں نیکیوں کا ثواب دوناملتاہے جس نے اس مہینے میں ایک دن روزہ رکھاتووہ ایک سال کے برابرہے ابوموسیٰ نے کہاہے کہ یہ (حدیث)مرسل ہے اس میں ابوموسٰی نے دوغلطیاں کی ہیں اول تو ان کوصحابی کہاہے حالاں کہ یہ تابعی ہیں دوسرے۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالعزیز بن عبداللہ رضی اللہ عنہ

  ا بن اسید اس نسب کوابن شاہین نے بیان کرکے کہاہے کہ اسی طرح ابن ابی داؤد نے بھی بیان کیاہے۔ان کے حال میں اختلاف کیاگیاہے یزیدبن ہارون نے عوام بن حوشب سےانھوں نے سفاح بن مطر شیبانی سے انھوں نے عبدالعزیز بن عبداللہ بن اسید سے روایت کرکے بیان کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاعرفہ کادن ایسادن ہے کہ اس میں لوگ پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

 سیّدنا عبدالعزیز ابن سیف رضی اللہ عنہ

   بن ذی یزن حمیری ہیں ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےایک خط بھیجاتھا اس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے ابونعیم نے کہاہے کہ ان کوبعض متاخرین نے ذکرکیاہے مگرجن کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھاہے زرعہ بن سیف ابن ذی یزن تھے۔میں نہیں جانتاکہ کسی نے ان کا نام عبدالعزیزبیان کیاہومگرابونعیم نے نہ توان کی کوئی حدیث ذکرکی اورنہ کچھ ان کا بیان لکھا۔ ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کوابوعبداللہ یعنی ابن مندہ نے بیان کیا ہےاورکہاہے کہ ان عبدالعزیز کو رسول خدانے خط لکھاتھامگراس خط کی روایت میں کوئی سند نہیں بیان کی اسی وجہ سے ابونعیم نے ان کے قول کاانکارکیاہے اورکہاہے جن کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھاتھاوہ زرعہ بن سیف بن ذی یزن ہیں اورکہاہے کہ میں نہیں جانتاکہ کسی نے ابن مندہ کے سوا ان کا نام عبدالعزیز بیان کیا ہوابوعبداللہ بن مندہ نے ان (عبدالعزیز)کی حدیث (اہل)خراسان سے روایت کی ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالعزیز ابن سنجر رضی اللہ عنہ

  بن جبیربن منبہ بن سعد بن عبداللہ بن مالک غافقی ہیں ان کا نام عبدالعزی تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالعزیزرکھا۔یہ مصرچلے گئے تھے۔اس کو ابوعبداللہ جیزی نے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالعزیز ابن بدر رضی اللہ عنہ

  بن زیدبن معاویہ بن خشان بن اسعدبن ودیعہ بن مبذول بن عثم بن ربعہ بن رشدان بن قیس بن جہنیہ ربعی ہیں۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد میں آئے تھے آپ نے فرمایا تمھاراکیانام ہے انھوں نے عرض کیاکہ(میرانام)عبدالعزٰی ہے۔پھرآپ نے ان کا نام عبدالعزیز رکھاابن کلبی نے ان کوقضاعہ کے نسب میں ذکرکیاہے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالعزیز بن اصم۱ رضی اللہ عنہ

  ا؎ موذن تھےحارث ابن ابی اسامہ نے روح بن عبادہ سے انھوں نے موسیٰ بن عبیدہ سے انھوں نے نافع سے انھوں نے عبداللہ بن عمرسے روایت کی ہے وہ کہتےتھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوموذن تھے ان میں سے ایک حضرت بلال اوردوسرے عبدالعزیز بن اصم۔ان کا تذکرہ ابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎ایک موذن حضرت کے ابن ام مکتوم بھی تھے۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالعزیز بن اصم۱ رضی اللہ عنہ

  ا؎ موذن تھےحارث ابن ابی اسامہ نے روح بن عبادہ سے انھوں نے موسیٰ بن عبیدہ سے انھوں نے نافع سے انھوں نے عبداللہ بن عمرسے روایت کی ہے وہ کہتےتھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دوموذن تھے ان میں سے ایک حضرت بلال اوردوسرے عبدالعزیز بن اصم۔ان کا تذکرہ ابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎ایک موذن حضرت کے ابن ام مکتوم بھی تھے۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدرُضا خولانی رضی اللہ عنہ

   ہیں ان کی کنیت ابومکنف تھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خولان کے وفد میں آئے تھے (آپ نے)ایک خط ان کے واسطے معاذ کی طرف لکھ دیا(تھا)یہ اسکندریہ کے اطراف میں فروکش تھے ان کا صحابی ہونا یارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنامعلوم نہیں ہے۔اس کو ابوسعید بن یونس نے بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ

  ان کانسب نہیں بیان کیاگیاہے۔عبدالرحمن بن ابی مالک نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے دادا عبدالرحمن سےروایت کی ہے کہ وہ رسو ل خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یمن سے  حاضرہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کواسلام کی طرف بلایا۔یہ اسلام لے آئے آپ نے ان کے سرپرہاتھ پھیرااوربرکت کی دعادی اوران کویزیدبن ابی سفیان کے یہاں رہنے کاحکم دیاجب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک لشکرشام کی طرف روانہ کا یہ(عبدالرحمن بھی)یزیدکے ساتھ شام کی طرف چلے گئے اور (وہاں سے پھر)نہیں لوٹے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ابونعیم اورابوموسیٰ نے ان کو عبدالرحمن ابوعبداللہ  بیان کیاہےاوران کاذکرپہلے ہوچکاہے ابوموسیٰ نے ابن مندہ پرجو ان کا استدراک کیاہے تووہ یہی سمجھے کہ یہ عبدالرحمن کوئی دوسرے شخص ہیں اور ابونعیم نے دونوں کوبیان  کیاہے اور یہ سمجھے ہیں کہ یہ دونوں دو شخص ہیں۔لیکن ابن مندہ نے جوایک کو۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن یعمر رضی اللہ عنہ

   ویلمی ہیں انھوں نے کوفہ میں سکونت اختیارکی تھی۔ہم کو ابراہیم بن محمد وغیرہ نے اپنی سندوں کومحمد بن عیسیٰ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن بشارنے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے یحییٰ بن سعید اورعبدالرحمن بن مہدی نے بیان کیاوہ دونوں کہتے تھے ہم سے سفیان نے بکیر بن عطاسےانھوں نے عبدالرحمن بن یعمرسے روایت کرکے بیان کیاکہ کچھ لوگ اہل نجد سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم (مقام)عرفہ میں (تشریف فرما)تھےان لوگوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ پوچھا آپ نے ایک منادی کو (نداکرنے کا)حکم فرمایا پس اس نے ندادی کہ حج (کابڑارکن مقام)عرفہ (میں وقوف کرنا) ہے جو شخص شب مزدلفہ کی فجرسے پہلے یعنی نویں تاریخ کو(عرفہ میں )آجائےاس کاحج پورا ہوگیا۔منٰی (میں رمی کرنے)کے تین دن ہیں اگرکوئی شخص دوہی دن میں فراغت کرلےتواس پرکچھ گناہ نہیں اورجوپورے ت۔۔۔

مزید