مظعون حمجی ہیں ان کا نسب انشاء اللہ تعالیٰ ان کے والد کے تذکرہ میں بیان کیاجائےگا۔ ان کی اور ان کے بھائی سائب بن عثمان کی والدہ خولہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ بن اوقص سلمیہ تھیں ان عبدالرحمن کاکسی نے ذکرنہیں کیاہے اورمیں نے ان کوذکرکیاہے کیوں کہ ان کے والد نے مدینے ۲ ھ میں وفات پائی تھی اور ان کی والدہ مدینہ میں موجود تھیں پس بلاشک یہ عبدالرحمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں موجودتھےاور کئی برس کا سن تھاواللہ اعلم۔ ۱؎ مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن لج بن عمروبن بصیس بن کعب بن لوئی بن غالب قریشی جمحی تھے ان کی کنیت ابوسائب تھی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
قریشی تیمی ہیں طلحہ بن عبیداللہ کے بھتیجے تھے ان کی والدہ عمیرہ بنت جدعان عبداللہ بن جدعان کی بہن تھیں واقعہ حدیبیہ میں اسلام لائے تھےبعض لوگ کہتے ہیں کہ فتح مکہ میں اسلام لائے تھےاورابوعبیدہ بن جراح کے ساتھ واقعہ یرموک میں شریک تھے معاذ اور عثمان ان کے بیٹے تھے ان دونوں نے ان سے روایت کی ہے اوران سے سعیدبن مسیب اورابوسلمہ اوریحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب نے روایت کی ہے یہ عبداللہ بن زبیرکے ساتھیوں میں سے تھے اور انھیں کے ساتھ شہیدہوئےعبداللہ ابن زبیرکے حکم سے یہ مسجد میں دفن کیے گئے اور ان کی قبرپوشیدہ کردی گئی پھرقبرپرگھوڑے دوڑائے گئے تاکہ اہل شام اس قبرکونہ دیکھیں ہم کومنصور بن ابی الحسن بن ابی عبداللہ مخزومی نے اپنی سندکواحمد بن علی بن متنی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوعبداللہ ابن دورقی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے طالقانی یعنی ابراہیم بن اسحاق نے بیان کیا و۔۔۔
مزید
بن عویم بن ساعدہ۔ابوعمرنے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے۔ ان کاصحابی ہونااورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت سےشرفیاب ہوناثابت نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن اسید بن ابی العیص بن امیہ بن عبدشمس قریشی اموی ہیں ان کی والدہ جویریہ نبت ابی جہل تھیں جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کرناچاہاتھامگررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (نکاح کرنے سے)منع فرمایااس کے بعدعتاب نے ان کے ساتھ نکاح کرلیااور ان سے یہ عبدالرحمن پیداہوئے یہ حضرت عائشہ کے ساتھ جنگ جمل میں شریک تھےاورنمازمیں ان لوگوں کے امام تھے جنگ جمل میں بمقام بصرہ شہیدہوئے جب حضرت علی نے ان کو مقتول دیکھاتوکہا یہ قوم کے یعسوب(سردار) تھے جب یہ قتل ہوگئے توایک پرندان کے ہاتھ کواٹھالے گیااور مدینہ میں جاکے ڈال دیاوہاں کے لوگوں نے ان کی انگوٹھی سے جوان کے (کٹے ہوئے)ہاتھ میں تھی انکو پہچاناچنانچہ اس ہاتھ پرنمازجنازہ پڑھکر اس کودفن کردیا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
میری ہیں ان کاشمار اہل شام میں ہےابن ابی عاصم نے ان کو احاد میں ذکرکیاہے ابونعیم نے ان کوعلیحدہ بیان میں لکھاہےہم کوابوموسیٰ نے اجازتاًخبردی ہے وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سےعبدالرحمن بن ابی بکراوراحمد بن عبداللہ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عبداللہ بن محمد بن محمد نے بیان کیا ہے وہ کہتے تھےہم سے احمد بن عمرو بن ابی عاصم نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عمروبن عثمان نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے بقیہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے اوزاعی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے یحییٰ بن ابی عمروشیبانی نے عبداللہ بن ویلمی سے انھوں نے عبدالرحمن بن عبیدنمیری سےروایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ اسلام میں تین سوپندرہ اخلاق ہیں جوشخص ان میں سے ایک خصلت پربھی بغرض تحصیل ثواب عمل کرے اس کو اللہ جنت میں داخل کرے گا ابن ابی عاصم نے کہاہے کہ یہ حدیث میری کتاب میں مرفوعاً نہیں مروی ہے۔اور۔۔۔
مزید
بن عثمان بن عمروبن کعب بن سعد بن مرہ قریشی تیمی طلحہ بن عبیداللہ کےبھائی تھے اور صحابی تھے جنگ جمل میں ماہ جمادی الاخری۳۶ھ میں شہیدہوئے اور اسی واقعۂ جمل میں ان کے بھائی طلحہ بھی شہیدہوئے۔اس کو ابوعمرنے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بعض لوگ ابن عبیدبیان کرتے ہیں یہ راشدکے والد تھے اوران کی کنیت ابومعاویہ تھی ان سے ان کے بیٹے عثمان نے روایت کی ہے ان کی حدیث اہل شام سےمروی ہے عثمان بن محمد نے اپنے والد محمد بن عثمان سے انھوں نے والد عثمان بن عبدالرحمن سے انھوں نے اپنے والد عبدالرحمن بن ابی راشد بن عبیدسے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں اپنی قوم کے سوسواروں کے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیاتھاجس وقت ہم لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے توٹھہرگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایااے ابومعاویہ تم آگے آؤ۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے مگرابونعیم اورابوعمر نے ایک دوسرا تذکرہ بھی لکھا ہے اس میں عبدالرحمن نام ابوراشد ان کی کنیت بیان کی ہے ابونعیم نے یہ دونوں تذکرے لکھے ہیں لیکن ابوعمرنے صرف ایک تذکرہ عبدالرحمن ابوراشدکالکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں قارہ ہون بن خزیمہ برادراسدبن خزیمہ کی اولادکوکہتے ہیں یہ عبدالرحمن رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں پیداہوئے تھے مگرانھوں نے نہ تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنی اورنہ آپ سے کوئی روایت کی واقدی نے ان کوصحابی کہاہے۔اوراپنی کتاب طبقات میں ان لوگوں کاذکرکیاہے جورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھےاورکہاہےکہ یہ عبدالرحمن حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں عبداللہ بن ارقم کے ساتھ بیت المال کے محافظ تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ان کوصرف ابن عقدہ نے بیان کیاہے ہم کوابوموسیٰ نے اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہمیں سید ابومحمد یعنی حمزہ بن عباس نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن فضل مصری نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے عبدالرحمن بن محمد مدینی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے احمد بن محمد بن سعید نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے محمد بن اسمعیل بن اسحاق راشدی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے محمد بن خلف نمیری نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے علی بن حسن عبدی نے اصبغ بن نباتہ سے نقل کرکے بیان کیاکہ وہ کہتے تھے کوفہ کے ایک میدان میں حضرت علی نے لوگوں سے کہا خم غدیر کے دن جس کسی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوکچھ فرماتے ہوئےسناہوتوکھڑے ہوکربیان کرے اور وہ شخص کھڑانہ ہو جس نے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہ سناہو حضرت علی کے اس قول سے دس سے زیادہ آدمی کھڑے ہوگئے ان لوگوں میں ابوایوب انصاری اور ابوعمرہ بن عمروبن محصن۔۔۔
مزید
کے والد ہیں ان کانسب کسی نے نہیں بیان کیاہے۔ابوعمران محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداسےجوصحابی تھےروایت کی وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسم نے ایک جماعت کی طرف دیکھا اورپوچھایہ کون لوگ ہیں لوگوں نے عرض کیاکہ قبیلۂ ازد کے لوگ ہیں فرمایاقبیلۂ ازد کے لوگ تمھارے پاس آئے ہیں وہ بہت اچھی صورت والے ہیں اور شیریں کلام اور خندہ پیشانی ہیں پھردوسرے گروہ کی طرف دیکھ کرپوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے عرض کیاقبیلۂ بکر بن وائل کے لوگ ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دعادی کہ یااللہ ان کی شکستگی کودورکردے ان کے ٹوٹے ہوئے کوجوڑدے(یعنی ان کی مصیبت دورکراورفلاح عنایت کر)اوران کے بے ٹھکانے والوں کو جگہ دے اور ان کے کسی سائل کورد نہ کر۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید