نہایت بزرگ اور علوم کا کافی حصہ رکھتے تھے۔ فضائل بے شمار اور خصائل پسندیدہ کے ساتھ موصوف تھے۔ قطع نظر اس کے حافظ کلام ربانی تھے۔ سلطان المشائخ کے اکثر اقربا نے ان ہی بزرگ سے قرآن مجید حفظ کیا۔ کاتب حروف کے اعمام بزرگ اورخود کاتب حروف ان ہی کے شاگرد ہیں۔ آپ پر جگر سوز گریہ بہت کچھ غالب تھا اور انتہا درجہ کی مشغولی میں مصروف تھے ساری عمر تلاوت قرآن مجید میں بسر کی اور طریقہ اولیاء اللہ پر اس دنیائے غدار سے سفر کیا رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔
مزید
سید با وقار سرور ساداتِ روزگار سید کمال الدین امیر احمد ابن سید محمد کرمانی ہیں جو کاتب حروف کے عم بزرگوار تھے اور مردی وجوانمردی میں حیدر ثانی۔ صدق وافر اور فراستِ کامل رکھتے اور درویشوں اور لشکری محتاجوں کو چاندی سونے کی کافی مقدار سِکّے دیتے اگرچہ یہ بزرگ گاؤں اور زمین کے مالک تھے اور طبل و علم برداری کا عہدہ رکھتے تھے لیکن باوجود ان علائق کے تمام تصوفی اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ عقل کامل رکھتے اور اپنے تمام کاموں کا انجام بمقتضایٔ عقل دیتے تے۔ امیر خسرو خوب فرماتے ہیں۔ کارے نکرد جز بکمالات علم و عقل گوئی کہ صد عمامہ بزیرِ کلاہ داشت سبحان اللہ عجب قوت رکھتے تھے کہ بجز صدق و راستی کے زبانِ مبارک پر کوئی بات جاری نہیں ہوئی تھی۔ اور یہ تمام فضائل اس تربیت و پرورش کا ثمرہ تھا جو آپ کو سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں حاصل ہوئی تھی۔ سب سے بڑ۔۔۔
مزید
سادات کرام کے شرف برگزیدہ مخلوق کے خلاصہ خاص و عام کے مقبول سید السادات منبع البرکات شمس الملۃ والدین سیدخاموش ابن سید محمد کرمانی کاتب حروف کے چھوٹے چچا ہیں جو علم و فضل اور فیاضی و سخاوت و لطافت طبع اور خاص و عام کو کھانا دینے میں بے مثل اور یگانہ روز گار تھے۔ آپ نے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی۔ اور مجلس خلوت میں سلطان المشائخ کے سامنے نظامی کا خمسہ نہایت خوش الحانی اور درد کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ سلطان المشائخ کی نظر خاص کے ساتھ مخصوص اور بے اندازہ جمال اور بے حد لطافت رکھتے تھے۔ یہ ضعیف عرض کرتا ہے۔ در زات مبارک تو پید است وصف تو حد بیان من نیست ھر جاکہ لطافتے است ای جان حسنِ تو بس است دلیل و برھان (تیری ذات مبارک سے جہان کہیں کہ لطافت اور خوبی ہے پیدا ہے۔ تیرے اوصاف کا بیان کرنا میری قدرت سے باہر ہے تیرا کمال ہی تیرے اوصاف ک۔۔۔
مزید
پیشوائے اصحاب طریقت مقدم ارباب حقیقت خواجہ ابو بکر مندہ رحمۃ اللہ علیہ علم و زہد اور ورع و تقوی میں آراستہ اور سلف صالحین کی سیرت و صورت سے پیراستہ تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد سید مبارک محمد کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ خواجہ ابوبکر مندہ سلطان المشائخ کے مصاحب قدیم تھے اور دونوں حضرات باہم ایک دوسرے کی صحبت میں بہت رہے ہیں۔ ابھی سلطان المشائخ شیخ شیوخ العالم فریدالحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کی شرف خلافت سے ممتاز و مشرف نہ ہوئے تھے کہ خواجہ ابوبکر مندہ نے آپ سے عرض کیا تھا کہ جب آپ شیخ شیوخ العالم شیخ کبیر کی سعادت خلافت سے مشرف ہوں گے میں آپ کی خدمت میں ارادت لاؤں گا اور حضور سے بیعت کروں گا چنانچہ جس وقت سلطان المشائخ شیخ شیوخ العالم کبیر کی دولت خلافت اور دوسری سعادتوں سے مشرف ہوئے اور شہر میں تشریف لائے تو ہر ایک شخص نے چند روز کے بعد آپ سے بیعت کی التما۔۔۔
مزید
صحراے تصوف کے شیر تکلف و بناوٹ سے عاری مولانا جلال الملۃ والدین اودھی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو زہد و ورع اور ترک و تجرید کے ساتھ اول آخر تک موصوف رہے آپ نے تمام دنیاوی تعلقات دفعۃً ترک کر دئیے اور دنیا کے غوغا سے عاجز آکر گوشہ نشینی اختیار کی اور خدا کی عبادت سلطان المشائخ کی محبت میں مشغول ہوئے آپ اودھ کے اکثر یاروں سے ارادت و بیعت میں سابق تھے اور سب کے نزدیک معظم و مکرم سمجھے جاتے تھے ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اودھ کے تمام یاروں نے اتفاق کیا کہ سلطان المشائخ سے علمی تبحر حاصل کرنے کی اجازت لینی چاہیے اگرچہ ان بزرگوں میں ایک ایک بزرگ عالم متبحر اور فاضل عصر تھا لیکن سلطان المشائخ کے حکم سے یاد حق میں مشغول تھا مگر چونکہ ایک عمر دراز علم کے شغل میں مصروف کی تھی اس لیے انہیں یہ ہوس دامن گیر ہوئی کہ اس کام کے ساتھ علمی مناظروں۔۔۔
مزید
صورت صفا سیرت وفا خواجہ کریم الملۃ والدین سمر قندی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو مکارم اخلاق میں دنیا میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے آپ کا ظاہر و باطن اہل تصوف کے اوصاف سے آراستہ تھا فضائل خاص اور علوم بے شمار میں بے مثل تھے آپ کی فیاض طبیعت غایت درجہ کی لطافت اور عقل کامل انتہا مرتبہ کی فراست پر واقع ہوئی تھی اور یہ تمام باتیں حقیقت میں اس کا ثمرہ تھا تھا کہ آپ سلطا المشائخ کی سلک ارادت میں منسلک تھے اور اپنے صفائی اعتقاد کی وجہ سے مخدوم جہان کی محبت میں نہایت راسخ قدم اور محکم تھے اور اس کے ساتھ ہی حضرت سلطان المشائخ کے ہمیشہ منظور نظر تھے یہاں تک کہ حضور کی بخشش و مہربانی آپ کے بارے میں حد درجہ تھی اور اس کا سبب یہ ہوا کہ آپ کے والد بزرگوار خواجہ کمال الملۃ والدین سمر قندی جو دولتِ خراسان کے وزیر اعظم تھے دیار ہندوستان میں تشریف لائے اور بادشاہ ہند کی طرح طرح کی ۔۔۔
مزید
فضلاء کے ملک و الملوک لطافت طبع میں دریا امیر حسین علاء سنجری رحمۃ اللہ علیہ ہیں جن کی جگر سوز غزلیات عاشقوں کے دلوں کی چقماق سے محبت کی آگ نکالتی تھیں اور دلپذیر اشعار سخنوروں کے دلوں کو راحت پہنچاتے تھے۔ آپ کے روح افزا لطائف اہل ذوق کا مایہ تھا اور آپ کا کلام شیخ سعدی کی چاشتی رکھتا تھا چنانچہ آپ نے ایک بیت اسی بارہ میں کہی ہے فرماتے ہیں۔ حسن گلے ز گلستان سعدی آور دہ است کہ اھل معنی گلچین آن گلستان اند (حسن یہ پھول گلستان سعدی سے لائے ہیں کہ اہل معنی اسی گلستان کے گلچین ہیں۔) مولانا حسن ہمیشہ نامدار شاعروں میں نہایت وقعت و عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اور کوئی شخص لطیفہ اور نظم بالبداہتہ آپ سے بہتر نہ کہہ سکتا تھا اس عہد کے بادشاہ اور شہزادے آپ کے لطائف و ظرائف گوش ہوش سے سننے کی رغبت رکھتے تھے اور ان تمام سعادتوں کے حصول کا سبب یہ تھا کہ آپ سلطان المشائخ کے غلاموں کی سلک میں منس۔۔۔
مزید
: مبتلائے سماع تھے اور اس کام میں آپ کو صدق و راستی کمال ذوق و شوق حاصل تھا۔ آپ جمال ولایت پیر کے عاشق اور ان کی محبت میں دیوانہ تھے۔ خوشنویسی اور علم الخط میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے آپ نے اکثر معتبر کتابیں جیسے کشاف۔ مفصل وغیرہ جناب سلطان المشائخ کے لیے نہایت خوشخط اور عمدہ طور پر لکھیں اور خدمت اقدس میں پیش کیں کاتب حروف نے اس عاشق صادق کو پایا ہے اور ان کے باطنی ذوق سے کمال و تمام بہرہ حاصل کیا ہے۔۔۔۔
مزید
ترک و تجرید میں بے مثال اور زہد و تقویٰ میں بے نظیر تھے آپ نے مرتے دم تک اپنے لیے کوئی مسکن نہیں بنایا اور اگرچہ اہل و عیال رکھتے تھے لیکن آپ نے کبھی اینٹ پر اینٹ نہیں رکھی اور خام و پختہ کوئی مکان نہیں بنایا اور بجائے درو دیوار اور چھت کے صرف ایک مختصر جھونپڑی تیار کی آپ کا طریقہ مشائخ کا ساتھا اور سماع کے وقت کسی طرح سے آپ کو قرار نہ ہوتا تھا چنانچہ بار ہا دیکھا گیا ہے کہ مجلس سماع میں مستانہ وار گردش کرتے اور ہاتھ پاؤں مارتے تھے ایک دفعہ اس بزرگ نے کاتب حروف کو بے انتہا بزرگی عنایت فرمائی اور بندہ آپ کی علمی مجلس میں مسائل شرعی کی تحقیق کے لیے حاضر ہوا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور خوش ہیں فرمایا مجھے تمام و کمال اسی وقت خوشی حاصل ہوتی ہے کہ پنج وقتہ نماز میں حاضر ہوتا ہوں۔ رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔
مزید
صوفی با صفا۔ زاہد با وفا۔ شیخ مبارک گوپا موی رحمۃ اللہ علیہ بذل و ایثار اور امر المعروف و نہی عن المنکر میں تمام یاران اعلی میں مشہور تھے آپ کو امیر داد بھی کہا جاتا تھا سینۂ مصفا اور ہئیت دلکشا رکھتے تھے آپ جمال ولایت پیر کے عاشق اور جناب سلطان المشائخ کے سابق مریدوں میں سے تھے سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز نے پورے سو رقعے اپنے خط مبارک سے مزین و آراستہ کر کے اور طرح طرح کے کرم و بخشش کا اظہار کر کے آپ کی طرف بھیجے ہیں۔ جب یارانِ اودھ جیسے مولانا شمس الدین یحییٰ اور شیخ نصیر الدین محمود اور مولانا علاؤ الدین نیلی اور دوسرے عزیز سلطان المشائخ کی خدمت واپس جاتے تو ان کی نسبت حضور کی درگاہ سے حکم صادر ہوتا کہ جب تم گو پاؤ میں پہنچو تو خواجہ مبارک سے ضرور ملنا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کاتب حروف شیخ نصیر الدین محمود کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں خواجہ مبارک تشریف لائے۔۔۔
مزید