کان ذوق مایۂ شوق زاہد با کمال عابد با جمال مولانا شہاب الملۃ والدین حضرت سلطان المشائخ کے امام ہیں۔ یہ بزرگوار بڑے پایہ کے شخص تھے اس سے زیادہ اور کون سی کرامت و عظمت ہوسکتی ہے کہ سلطان المشائخ کی امامت کے شرف سے مشرف ہوئے اور دن رات میں پانچ وقت ایسے جلیل القدر بادشاہ کی سعادت بخش نظر کے منظور و ملحوظ ہوتے تھے جس کی نظر جان بخش کے محتاج تمام بادشاہانِ جہان تھے۔ جب مولانا شہاب الدین علیہ الرحمۃ سلطان المشائخ کی دولتِ ارادت سے مشرف ہوئے تو حضور کا فرمان جاری ہوا کہ خواجہ نوح کو تعلیم و تربیت دینا شروع کریں (خواجہ نوح کا ذکر سلطان المشائخ کے اقربا میں مذکور ہے) ایک چھوٹا سا حجرہ جماعت خانہ میں تھا آپ کے حوالہ کیا گیا اور آپ جناب سلطان المشائخ کے یاروں اور خدمت گاروں میں پرورش پانے لگے۔ برسوں سے آپ کے دل میں یہ آرزو تھی کہ اگر کسی طرح ایک دفعہ سلطان المشائخ۔۔۔
مزید
مولانا فصیح الدین عالم علوم دینی صاحب اسرار یقینی کمال علم و فضل اور ورع و تقویٰ سے آراستہ تھے آپ اکثر یاران اعلی سے ارادت و بیعت میں سابق و اول تھے اور سلطان المشائخ کی علمی مجلس میں اکثر سوالات علمی اور عالم حقیقت کے رموزات کا استکشاف کیا کرتے تھے اور شافی جوابوں کے ساتھ مشرف ہوا کرتے تھے متعلمی کے زمانہ میں مولانا فصیح الدین اور مولانا قاضی محی الدین کا شانی دونوں ایک دوسرے کے بہت ساتھ رہے ہیں اور مولانا شمس الدین قوشچہ کی مجلس میں اعلیٰ طبقہ کے طلبا میں علم اصول فقہ کی تحقیق میں شاغل و مصروف رہ کر علماء کے جرگہ میں وفور علم اور ذکائے طبع میں مشہور و معروف تھے۔ جب فضل ربانی اور جذب رحمانی نے مولانا فصیح الدین کے دل میں ایک فوری جوش پیدا کیا تو آپ نے راہ حقیقت کو طے کرنا شروع کیا اور اس راہ میں نہایت کوشش کے ساتھ گام زن ہوئے اور علم کو عمل کے ساتھ مقرون کرنے کی خواہش دل میں پیدا ہو۔۔۔
مزید
امیر خسرو سلطان الشعرا برہان الفضلا رحمۃ اللہ علیہ فضیلت و بزرگی میں متعقد میں و متاخرین سے سبقت لے گئے تھے اور باطن صاف رکھتے تھے آپ کی صورت و سیرت میں اہل تصوف کا طریقہ عیاں تھا اور اگرچہ بظاہر بادشاہوں سے تعلق رکھتے تھے لیکن حقیقت میں ان لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے جو تصوف کے رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں جیسا کہ فرمایا ہے۔ مراد اھل طریقت لباس ظاھر نیست کمر بخدمت سلطان بہ بند و صوفی باش یعنی اہل طریقت سے یہی مراد نہیں ہے کہ ظاہری لباس میں ان کی مشابہت کرے بلکہ حقیقت میں صوفی رہ گو بادشاہ کی خدمت میں کمر بستہ رہتا ہو۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار کو فرماتے سنا ہے کہ جس زمانہ میں امیر خسرو پیدا ہوئے ہیں ان کے والد امیر لاچین کے پڑوس میں ایک صاحب نعمت دیوانے کے پاس لے گئے دیوانہ نے امیر خسرو کو دیکھتے ہی فرمایا کہ امیر لا چین جس شخص کو تم میرے پاس لائے ۔۔۔
مزید
مشائخ کی صورت و سیرت رکھتے اور زہد و ورع تقوی و پرہیز گاری سے آراستہ تھے ایک نہایت مسن اور بوڑھے عزیز تھے اور جناب سلطان المشائخ کے مریدان سابق میں اعلی درجہ کے مرید تھے۔۔۔۔
مزید
یہ بھی بوڑھے عزیز تھے اور اپنے پیر کی بے انتہا محبت کی وجہ سے وطن مالوف اور شہر کو یک لخت ترک کر دیا تھا اور سلطان المشائخ کی محبت میں غیاث پور میں آ بسے تھے کاتب حروف ان بزرگ کو دیکھا ہے کہ ایک بوڑھے شخص تھے نورانی دراز قد کہ آپ کے اکثر کلمات و حکایت عشق سے لبریز تھے۔۔۔۔
مزید
علوم بسیار اور فضائل بے شمار کے ساتھ آراستہ تھے طبقہ خواجگان چشت قدس اللہ ارواحہم کے مشائخ کا شجرہ نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ عربی زبان میں نظم کیا۔۔۔۔
مزید
جنہیں لوگ فوق کہتے تھے یہ بزرگوار خزانہ علم کے مالک اور فضائل خاص کے سرچشمہ تھے تقوی و ورع میں کمال رکھتے تھے۔۔۔
مزید
ذوق و درد کی مجسم تصویر تھے۔ کاتب حروف نے اس بزرگ کو حالت سماع میں دیکھا ہے کہ آپ کے ذوق سماع اور جگر سوز گریہ تمام حاضرین مجلس کے دلوں میں اس قدر اثر کر دیا کہ کسی کو اپنے آپے تک کی خبر نہ تھی۔۔۔۔
مزید
ہیں یہ ایک بوڑھے عزیز تھے جو ارادت و بیعت میں اکثر یاران اودھ دسے سابق تھے اور بیشتر اوقات مشغول بحق رہتے تھے۔ شیخ نصیر الدین محمود جیسے بزرگ آپ کی تعظیم و تکریم میں حد کوشش کرتے تھے رحمۃ اللہ علیہما۔۔۔۔
مزید
ایک عمر رسیدہ عزیز تھے جو علم کامل اور زہد وافر اور ورع رکھتے تھے اور جن کی تعظیم و تکریم میں یاران اعلی انتہا درجہ کی کوشش کرتے تھے۔ کاتب حروف نے اس بزرگ کو شیخ نصیر الدین محمود کی مجلس میں دیکھا ہے کہ نہایت مصفا اور تقریر دلکشا رکھتے تھے رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔
مزید