حضرت مولانا نصیر بخش چشتی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا نصیر بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ ، خواجہ غلام فرید رحمۃ اللہ علیہ کے والد کریم حضرت خواجہ خدا بخش رحمۃ اللہ علیہ (کوٹ مٹھن شریف)کے شاگر د و مرید ِ خاص تھے۔مولانا حسام الدین صاحب المعروف حکیم محمد سوہانرا (فقیر کے بھی استاد تھے) مولوی محمد عبداللہ صاحب موہانے والا (تلمیذ مولانا احمد علی خانقاہ شریف والے و شاگردِ خاص شاہ جمالی) کے برادر و شاگرد تھے اور مولانا جندوڈہ صاحب چشتی سلیمانی کوٹ خلیفہ والے کے بھی شاگرد تھے (فقیر نے مولانا جندوڈہ کے پاس تحفۃ ا لاحرار پڑھی تھی) مخدومان بخاری اوچی کے استاد و دربار جلالیہ عالیہ کے خطیب تھے اور بہترین حکیم ، صوفی با صفا و عاشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، مدینہ منوّرہ میں بوقتِ تہجد فقیر نے مولانا حسام الدین صاحب کو خواب میں دیکھا کہ ریاض الجنۃ میں ان سے ملاقات ہوئی، مولانا نے فرمایا کہ میں ح۔۔۔
مزید
حضرت خواجہ حاجی شریف زندنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ بڑے احوال عجبہ اور مقامات غریبہ کے مالک تھے آپ مقتدائے مشائخ اور پیشوائے ابدال تھے آپ کا لقب نیر الدین تھا۔ حضرت خواجہ موجود چشتی رحمۃ اللہ علیہ سے خرقۂ خلافت پایا تھا۔ چودہ سال کی عمر سے باوضو رہنے لگے۔ کپڑے پرانے اور پیوند شدہ پہنتے تھے۔ فقر و تجرید پر کار بند رہے، آپ کا روزہ بھی مسلسل روزہ تھا،تین روز کے بعد بے نمک سبزی سے روزہ افطار کرتے تھے۔ اس سبزی میں یہ کمال تھا کہ آپ کا تبرک کوئی اور کھاتا تو مجذوب ہوجاتا۔ اگر سماع سن لیتا تو اس قدر روتا کہ بے ہوش ہوجاتا، اگر دنیا پرست ایک بار مجلس سماع میں شریک ہوتا تو تارک الدنیا ہوجاتا تھا۔ ایک فکر مند فقیر جس کی سات بیٹیاں تھیں، اور غربت و افلاس کی وجہ سے سخت پریشان تھا۔ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کی اگر آپ کی نگاہ فیضان سے میرے رزق میں کشادگی ہوجائے اور بیٹیوں کے نکاح سے فارغ۔۔۔
مزید