ابن غنم اشعری ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان تو تھے مگرآپ کو دیکھانہ تھا۔ اور نہ آپ کے پاس وفد میں آئے جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل کویمن کی طرف روانہ کیا تویہ عبدالرحمن ان کے ہمراہ (یمن کی طرف)چلے گئےتھےاوروہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ان کا انتقال ہوگیایہ معاذ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ان کے شاگرد مشہورتھے انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے حدیثیں سنی ہیں اہل شام میں یہ اتنے بڑے فقہ جاننے والے تھے کہ انھوں نے شام کے تابعین کو فقیہ بنادیاتھایہ بڑے قدراوربزرگی والے تھے یہ وہی عبدالرحمن ہیں جنھوں نے ابودرداء اورابوہریرہ پر(اس وقت )غصہ کیاتھاجب وہ دونوں حضرت معاویہ کا پیغام پہنچاکر حضرت علی کے پاس لوٹے ہوئے واپس آرہے تھے انھوں نے ان دونوں سے کہاکہ تم دونوں سے تعجب ہے کہ کس طرح تم دونوں نےاپنے اوپریہ جائزکرلیا جس کی وجہ سے تم دونوں علی سے کہتے ہ۔۔۔
مزید
ہیں۔یحییٰ بن یونس نے کتاب المصابیح میں ان کا نام بیان کیا ہے علاوہ یحییٰ کے کسی دوسرے شخص نے ان کانام نہیں ذکرکیااس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے اور ابن مندہ نے اپنی سند کے ساتھ قعنبی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ہم سے سلیمان بن بلال نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے انھوں نے عبداللہ بن عنبسہ سے انھوں نے ابن غنام سے انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا جس شخص نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی اللہم مااصبح بی من نعمتہ اوباحد من خلقک فمنکپھرپوری حدیث بیان کی ابونعیم نے کہا ہے کہ عبدالرحمن بن غنام ہی عبداللہ ابن غنام ہیں عبداللہ کے بیان میں ان کو ذکرکیا ہے ۔ان کا تذکرہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے ان کو بوجہ حدیث قعنبی کے اس شخص کے نام میں بھی ذکرکیاہے جس کانام عبداللہ تھا۔اوران شخصوں میں بھی بیان کیا ہے جن کا نا م عبدالرحمن تھا۔ اور انھوں نے اپنی سند کے ۔۔۔
مزید
بن عقیل اوربعض نے (بجائے عقیل کے)معقل ثقفی بیان کیا ہے۔زیاد بن علاقہ نے عیسیٰ بن معقل سے روایت کی ہے کہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مع اپنے لڑکے کے آیا لوگ اس کو عارم کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن نام رکھا۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کے والد ہیں اشجعی تھے عبدالرحمن اشجعی کے تذکرہ میں ان کا بیان ہوچکاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن ساعد ہ انصاری ہیں ان کے والد کے بیان میں انشاءاللہ ان کا نسب بیان کیا جائے گا یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھے اور بعض نے بیان کیا ہے کہ ہجرت کے پیشترپیداہوئے تھے۔محمد بن اسحاق نے محمد بن جعفر بن زبیر سے انھوں نے عروہ بن زبیرسے انھوں نے عبدالرحمن بن عویم سے روایت کی ہے کہ جب ہم لوگوں (یعنی اہل مدینہ)نے سنا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (بارادہ ہجرت مکہ سے )کوچ کردیاہے ہم لوگ (حضور کے استقبال ۱؎ اس قسم کے الفاظ کسی میت کے غم میں نکالنا شرعاً ممنوع ہیں مگرشدت غم میں جب عقل زائل ہوجائے تو تکلیف شرع قائم نہیں رہتی۱۲۔ کے واسطے)ہرروز ظہرتک(اپنے اپنے مکانوں سے)نکل کر انتظارکیاکرتے تھےپھرپوری حدیث طول کے ساتھ بیان کی اس کو ابن مندہ نے کہا ہے ابونعیم اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق سے انھوں نے محمد بن جعفربن زبیر سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے عبدالر۔۔۔
مزید
بن ساعد ہ انصاری ہیں ان کے والد کے بیان میں انشاءاللہ ان کا نسب بیان کیا جائے گا یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھے اور بعض نے بیان کیا ہے کہ ہجرت کے پیشترپیداہوئے تھے۔محمد بن اسحاق نے محمد بن جعفر بن زبیر سے انھوں نے عروہ بن زبیرسے انھوں نے عبدالرحمن بن عویم سے روایت کی ہے کہ جب ہم لوگوں (یعنی اہل مدینہ)نے سنا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (بارادہ ہجرت مکہ سے )کوچ کردیاہے ہم لوگ (حضور کے استقبال ۱؎ اس قسم کے الفاظ کسی میت کے غم میں نکالنا شرعاً ممنوع ہیں مگرشدت غم میں جب عقل زائل ہوجائے تو تکلیف شرع قائم نہیں رہتی۱۲۔ کے واسطے)ہرروز ظہرتک(اپنے اپنے مکانوں سے)نکل کر انتظارکیاکرتے تھےپھرپوری حدیث طول کے ساتھ بیان کی اس کو ابن مندہ نے کہا ہے ابونعیم اپنی سند کے ساتھ ابن اسحاق سے انھوں نے محمد بن جعفربن زبیر سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے عبدالر۔۔۔
مزید
جرشی ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہےاسی طرح بن ابی یاس نے کہا ہے مگریہ غلط ہے عبدالرحمن اہل حمص کے تابعین میں سے ہیں آدم بن ابی یاس نے جریر بن عثمان سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی عوف سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز تاریکی میں پڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔یہ ابن مندہ کا بیان تھا۔ابونعیم نے کہاہے کہ عبدالرحمن بن ابی عوف جرشی اہل شام کے تابعین سے تھے بعض متاخرین نے ان کو صحابہ میں کہا ہے میں کہتا ہوں (انھیں ابونعیم) کے مانندابن مندہ نے بھی کہاہےکہ بے شک آدم نے ان کے (بیان میں) غلطی کی ہے کیونکہ یہ عبدالرحمن اہل حمص کے تابعین سے ہیں پھر(ابن مندہ پر)کوئی طعن کی وجہ نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
جرشی ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہےاسی طرح بن ابی یاس نے کہا ہے مگریہ غلط ہے عبدالرحمن اہل حمص کے تابعین میں سے ہیں آدم بن ابی یاس نے جریر بن عثمان سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی عوف سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز تاریکی میں پڑھتے ہوئے دیکھے گئے۔یہ ابن مندہ کا بیان تھا۔ابونعیم نے کہاہے کہ عبدالرحمن بن ابی عوف جرشی اہل شام کے تابعین سے تھے بعض متاخرین نے ان کو صحابہ میں کہا ہے میں کہتا ہوں (انھیں ابونعیم) کے مانندابن مندہ نے بھی کہاہےکہ بے شک آدم نے ان کے (بیان میں) غلطی کی ہے کیونکہ یہ عبدالرحمن اہل حمص کے تابعین سے ہیں پھر(ابن مندہ پر)کوئی طعن کی وجہ نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبدبن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ قریشی زہری ہیں ان کی کنیت ابومحمدتھی اورایام جاہلیت میں ان کا نام عبدعمروتھابعض لوگوں نےعبدالکعبہ بیان کیا ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدل کر)عبدالرحمن رکھاان کی والدہ شفابنت عوف بن عبدبن حارث بن زہرہ تھیں یہ واقعہ فیل کے دس برس کے بعد پیداہوئےتھےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں پہنچنےسے پیشترایمان لائےتھےاوریہ ان آٹھ شخصوں میں سےہیں جو سب سے پیشترایمان لائے تھے اور ان پانچ آدمیوں میں سے جوحضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پرایمان لائے تھے ایک یہ بھی تھے ان لوگوں کوہم نے حضرت ابوبکر صدیق کے بیان میں ذکرکیاہے۔اوریہ ان مہاجرین اولین میں سے ہیں جنھوں نے حبش اورمدینہ کی طرف ہجرت کی تھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اورسعدبن ربیع میں بھائی چاراکرایاتھایہ غزوۂ بدراوراحداورتمام غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ۔۔۔
مزید
د بن اسد بن عبدالعزی بن قصی قریشی اسدی ہیں ان کی والدہ ام الخیربنت مالک بن عمیلہ بن سباق بن عبداللہ بن قصی تھیں یہ فتح مکہ میں اسلام لائے تھےاورصحابی تھے زبیر(ابن بکار)نے کہاہے کہ ایام جاہلیت میں ان کا عبدالکعب تھارسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن رکھاواقعہ یرموک میں شہید ہوئے تھےاور ان کے بیٹے عبداللہ حضرت عثمان کی شہادت کے واقعہ میں قتل کیے گئے اورابوعبداللہ عدوی نے اپنی کتاب النسب میں بیان کیاہے کہ انھیں عبدالرحمن کے سبب سے حسان بن ثابت نے آل زبیربن عوام کی ہجوکی تھی اور کہا(ابوعبداللہ نے)یہی درست ہےاورجس نے کہاہے کہ یہ ہجوعبداللہ بن زبیرکے سبب سے تھی اس کا قول صحیح نہیں ہے۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید