ابوذرہ حارث بن معاذ بن زرارہ انصاری ظفری،نملہ انصاری کے بھائی تھے،دونوں بھائی اپنے والد معاذ کے ہمراہ غزوۂ احد میں موجود تھے،ابوعمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوزیادانصاری رضی اللہ عنہ،ان کے بیٹے زیاد نے ان سے روایت کی ہے،کہ انہوں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کی آیت" اِنَّ المُجرِمِینَ فِی ضَلَالِ وَسعر "پڑھتے سنا،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوذویٔب الہذلی،شاعر تھے اور مسلمان اور حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمعصر تھے،لیکن حضورِ اکرم کی زیارت نصیب نہ ہوئی،اور اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ جاملی تھے اور اسلامی بھی،ایک روایت کی روسے ان کا نام خویلد بن خالد بن محرث بن روبید بن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن حارث تمیم بن سعد بن ہذیل ہے،ابن اسحاق کہتے ہیں،ابوذویٔب شاعر سے مروی ہے،مجھے پتہ چلا کہ حضورِ اکرم بیمار ہیں،توغمر سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے رات کو سویا ،تو رات اتنی طویل تھی،کہ اس کا اندھیرا ختم ہونے کا نام نہیں لیتاتھا،اور نہ صبح طلوع ہوتی تھی،میں رات بھر اس کی طوالت پر غور کرتا رہا،جب صبح ہونے کو آئی تومیں سوگیا،اور میں نے ایک ہاتف کو یہ کہتے سُنا۔ ۱۔خطب اجل اناخ بالاسلام بین النخیل ومعقد الاطام ترجمہ۔اسلام پر جو نخلستا ن اور شہری آبادی کے درمیان واقع ہے ز۔۔۔
مزید
ابوعبدالرحمٰن انصاری رضی اللہ عنہ،ان کا نام یزید بن ثعلبہ بن خرمہ بن احرم بن عمارۃ البلوی ہے، جو بنوسالم (ازانصار) کے حلیف تھے،بدراوراحد میں شریک ہوئے ابوعمرنے مختصراً ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوعبدالرحمٰن مذحجی،ان کی حدیث کو عیاض بن عبدالرحمٰن نے اپنے والد سے،انہوں نے داداسے روایت کی،ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے،جیساکہ پہلے ذکرہوچکاہے،ابن مندہ اورابونعیم نے ان کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوسُلمی حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے تھے،اوران کا نام حریث کوفی یا شامی تھا،ان سے ابوسلام اسود اورابومعمر عبادبن عبدالصمد نے روایت کی۔ فتیان بن محمد بن سودان نے ابونصراحمدبن محمدبن عبدالقاہر طوسی سے،انہوں نے حسین بن نقور سے،انہوں نے ابوالقاسم عیسیٰ بن علی بن جراح سے،انہوں نے ابوالقاسم البغوی سے،انہوں نے ابوکامل حجدری سے،انہوں نےعباد بن عبدالصمد سے،انہوں نے ابوسلمی سے روایت کی، حضورِاکرم نے فرمایا،جوشخص اللہ سے ایسی حالت میں ملے کہ خداکی وحدانیت،میری رسالت کا قائل ہواورقیامت اور حساب کتاب پر ایمان رکھتاہو،وہ ضرور جنّت میں داخل ہوگا،میں نے کہا،کیا آپ نے حضورِاکرم سے یہ بات سنی ہے،انہوں نے دونوں کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور کہا،کہ میں نے ان کانوں سے بارہایہ بات سنی ہے۔ فضل بن حسین نے عباد بن عبدالصمد سے۔۔۔
مزید
ابوسریحہ غفاری حذیفہ بن اسیدبن خالدبن اغوس بن وقیعہ بن حرام بن غفاربن ملیل،یہ خلیفہ کا قول ہے بقول ابن کلبی حذیفہ بن اسید بن اغوزبن واقعہ بن حرام بن غفار سے خلیفہ نے اغوس اور کلبی نے اغوز اور وقیعہ کی جگہ واقعہ لکھاہے،کوفی ہیں،اوربیعت رضوان میں موجود تھے،ان سے اسود بن یزید نے ان وہ واقعہ جو سبیعہ اسلمیہ کے ساتھ پیش آیا،بیان کیا ہے۔ ابراہیم اور اسماعیل وغیرہ نے باسنادہم ابوعیسیٰ سے،انہوں نے محمد بن بشارسے،انہوں نے محمد بن جعفرسے،انہوں نے شعبہ سے،انہوں نے سلمہ بن کہیل سے روایت کی،میں نے ابوالطفیل کوابوسریحہ سے یا زید بن ارقم(شعبہ کو شبہ ہے)سے یہ حدیث سُنی،کہ حضورِ اکرم نے فرمایا،کہ میں جس شخص کا مولیٰ ہوں،علی بھی اس کا مولیٰ ہے،ابوعمر،ابوموسیٰ اور ابونعیم نے ان کا ذکرکیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوسروعہ عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ ابوسروعہ عقبہ بن حارث بن نوفل بن عبدمناف بن قصیٰ قرشی،نوفلی،حجازی،انہیں صحبت ملی،ان سے عبید بن ابومریم اور ابن ابی ملیکہ نے روایت کی،حسب روایت محدثین ہم نے انہیں عقبہ کے ترجمے میں ذکرکیاہے،مگرعلمائے انساب زبیراور ان کا چچامصعب اورعدوی کہتے ہیں،کہ ابوسروعہ بن حارث،عقبہ بن حارث کے بھائی تھے،نیزانہوں نے لکھاہےکہ ابوسروعہ فتح مکہ کے سال ایمان لائے تھے،ابوعمر نے ان کا ذکرکیاہے۔ ۔۔۔
مزید
ابوتحیا انصاری،جناب سمرہ کی حدیث میں ان کا ذکر آیا ہے،ثعلبہ نے عباد سے روایت کی کہ سمرہ بن جندب نے خطبہ دیا،اورکہا،کہ انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سُنا،کہ قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی،جب تک تیس۳۰جھوٹے جن کاآخری آدمی کانادجال ہوگا،نہ آچکے ہوں گے،دجال کی بائیں آنکھ کانی ہوگی،بالکل ابوتحیا کی آنکھ کی طرح،ابنِ مندہ اور ابونعیم نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ابو تمام ثقفی،ابوموسیٰ نے کتابتہً حسن بن احمد بن عبداللہ سے،انہوں نے سلیمان بن احمد سے (یعنی معجم الاوسط میں) انہوں نے احمد بن خلید سے،انہوں نے عبداللہ بن جعفرالرقی سے،انہوں نے عبداللہ بن عمرو سے،انہوں نے زید بن انیسہ سے،انہوں نے ابوبکر بن حفص سے،انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے،انہوں نے اپنے والد سے روایت کی،کہ بنو ثقیف کے ایک آدمی نے جس کا نام ابوتمام تھا،حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شراب کی ایک ٹھلیا بطور ہدیے کے پیش کی،آپ نے فرمایا،ابوتمام شراب تو حرام ہو چکی ہے،اس نے عرض کیا،اس کی قیمت خرچ فرمادیجئیے،آپ نے فرمایا،جس نے اس کا پیناحرام کردیا ہے اس کی قیمت بھی حرام کردی، ابوموسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید