اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

حافظ عبدالستار خالصپوری

۔۔۔

مزید

سیّدناعقیل ابن ابی طالب

   یعنی عبدمناف بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف قریشی ہاشمی ہیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاداورعلی اورجعفرکے علاقی بھائی تھےیہ اپنے دونوں بھائیوں سے بڑےتھے چنانچہ جعفرسےدس برس بڑےتھےاورجعفر علی سے دس برس بڑے تھے۔اس کو محمد بن سعدوغیرہ نے کہاہےانک کنیت ابویزیدتھی ان کی والدہ فاطمہ بنت اسد بن ہاشم تھیں ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا کہ میں تم کو بسبب دومحبتوں کے بہت زیادہ محبوبو رکھتاہوں ایک تو حب قرابت کی وجہ سے دوسرے یہ کہ تم سے اپنے چچاکی محبت کا میں زیادہ عالم ہوں۔عقیل ان لوگوں میں ہیں جوکہ مشرکین کے ساتھ غزوۂ بدرمیں جبراشریک تھے پس یہ اسی روزقید کرلیےگئے ان کے پاس کچھ مال نہ تھاتوان کے چچاعباس نے ان کافدیہ دیاتھا۔پھرواقعہ حدیبیہ کے قبل مسلمان ہوکرآگئےتھے اور۸ھہجری میں انھوں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی تھی۔اور غزوۂ موتہ میں شریک تھےپھروہاں ۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن عروہ رضی اللہ عنہ

سعدی ہیں سعدبن بکرکے خاندان سے تھے ان کی حدیث ان کی اولادسے مروی ہے۔ عروہ بن محمد بن عطیہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ان کے والد نے بیان کیاکہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی سعد بن بکرکے لوگوں کے ساتھ آیا۔اورمیں ان سب میں بہت چھوٹا تھاچنانچہ ان لوگوں نے مجھ کو اپنے قافلہ میں چھوڑدیااورخود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئےاوراپنی حاجتیں بیان کیں آپ نے فرمایاکیاتم میں اورکوئی بھی باقی ہے ان سب نے کہاکہ ہاں ایک لڑکاہمارے قافلہ میں ہے توآپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ لوگ مجھ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس بھیج دیں پس ان لوگوں نے مجھ سے کہاکہ تم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤچنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضرہواکہ دینے والے کا ہاتھ بہت بلندہے اورسوال کرنے والے کاہاتھ بہت نیچاہے۔اسمعیل بن عبیداللہ نے عطیہ بن عمروسے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روا۔۔۔

مزید

سیّدناعصمہ رضی اللہ عنہ

اسدی تھے اسد بن خزیمہ کی اولادسے تھے غزوۂ بدرمیں شریک تھے اوربنی مازن بن نجار کے حلیف تھے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہے۔اورابونعیم نےکہاہے ان کانام عصیمہ بھی بیان کیا گیاہےعصیمہ کے نام میں انشاء اللہ تعالی ان کاحال بیان کیاجائےگا۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعروہ رضی اللہ عنہ

  ابن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام بن عمروبن طریف بن عمروبن ثمامہ بن مالک بن حدعان بن ذہل بن رومان ابن جندب بن خارجہ بن سعد بن قطرہ بن طی یہ اپنی قوم کے سردارتھے اورریاست کی وجہ سے عدی بن حاتم سے دشمنی رکھتے تھے۔ان کے والد بھی بڑی ریاست والے تھے یہ وہی عروہ ہیں جنکے ساتھ خالد بن ولید نے عنینہ بن حصین فزاری کوبھیجاجبکہ انھوں نے ان کوزمانہ ردت میں قید کرکے ابوبکرصدیق کے پاس بھیجاتھا ہم کواسمعیل  بن عبید اورابراہیم ابن حمید وغیرہمانے اپنی سندوں کوابوعیسیٰ محمدبن عیسیٰ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھےہم سے ابن ابی عمرنے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے سفیان نے داؤدبن ابی ہندسے انھوں نے اسمعیل بن ابی خالد اورزکریا بن زائدہ سے انھوں نے شعبی سے انھوں نے عروہ بن مضرس بن اوس  بن حارث بن لام طائی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ میں آیا جبکہ آپ نمازادا ۔۔۔

مزید

سیّدناعروہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ

  غفاری ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے ان سے شعبی نے روایت کی ہے کہ انھوں نے ماہ رمضان کی نسبت ایک حدیث رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اس کے واسطے ایک سیاق ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اورکہاہے میں نہیں جانتا ہوں کہ کسی نے ان کاعروہ نام بیان کیاہوکیوں کہ یہ ابن مسعود ہی کہے جاتے ہیں ان کا کوئی نام نہیں بیان کیاگیاہے ہاں بعض لوگوں نے عبداللہ نام بیان کیاہےہم اس سے پہلے تذکرہ میں اس کوذکرکرچکے ہیں پس اگر یہ قول محفوظ ہے تو وہ ضرورہے نادر ہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعروہ رضی اللہ عنہ

  ابن مسعود بن مسعب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعدبن عوف بن ثقیف بن منبہ بن بکربن ہوازن بن عکرمہ ابن خصفہ بن قیس غیلان ثقفی ہیں کنیت ابومسعودتھی اوربعض لوگوں نے کہاہے کہ ابویعفورتھی اوران کی والدہ سبیعہ بنت عبدشمس بن عبدمناف قریشیہ تھیں۔عروہ اورمغیرہ بن شعبہ بن ابی عام بن مسعود کا سلسلہ نسب مسعود میں جاکرمل جاتاہے یہ عروہ وہی شخص ہیں کہ جن کو قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واقعہ حدیبیہ میں بھیجاتھایہ(وہاں سے جب )قریش کے پاس واپس آئے توان سے کہاکہ تم لوگوں پر ایک واضح امرپیش ہے اس کوقبول کرو۔ہم کوابوجعفر سمین نے اپنی سندکویونس بن بکیر تک پہنچاکرخبردی انھوں نے اسحاق سے روایت کی ہے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ثقیف سے واپس ہوئےتوعروہ بن مسعود بن معتب بھی آپ کے پیچھے سے چل نکلےپس آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدینہ میں پہنچنے سے پیشتر ملاقات کی اوراسلام لائے اور دریافت کیا کہ اپنی۔۔۔

مزید

سیّدناعروہ ابن مرہ بن سراقہ رضی اللہ عنہ

   انصاری ہیں اوسی ہیں واقعہ خیبرمیں شہیدہوئےتھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصر لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعروہ مرادی رضی اللہ عنہ

  مرادی ہیں جعفرمستغفری نے کہاہےکہ ابن منیع نے بخاری سے نقل کرکےبیان کیاہے کہ یہ کوفہ میں رہتے تھےاورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بھی روایت کی ہے مگرحدیث کوذکرنہیں کیا۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نےمختصرلکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعروہ ابن مالک بن شداد رضی اللہ عنہ

 بن خزیمہ بعض لوگوں نے جذیمہ بن دراع بن عدی بن داربن ہانی کہاہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کاعبدالرحمن رکھاتھااس کوجعفر نےکہاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھا ہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید