اتوار , 30 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 17 May,2026

سیدنا ابراہیم (رضی اللہ عنہ)

  ابن حارث بن خالد بن صخر بن عامر بن کعب بن سعد بن یتم بن مرہ یتمی قریشی۔ (امام) بخاری کہتے ہیں کہ یہ ان لوگں میں ہیں جنھوں نے اپنے والد کے ہمراہ ہجرت کی اور (امام) احمد بن حنبل سے منقول ہے کہ انھوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے والد مہاجرین میں سے تھے ابن عینیہ نے محمد بن منکدر سے انھوں نے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے کہا ہمیں رسول خدا ﷺ نے ایک لشکر میں بھیجا اور ہمیں رسول خدا ﷺ نے حکم دیا کہ ہر شام اور صبح کو یہ پڑھ لیا کریں افحسبتم انما خلقناکم عبثا و انکم الینا لاترجعون چنانچہ ہم اس کو پڑھتے رہے ور مال غنیمت لے کر واپس آئے ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

(سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ)

  کنیت ان کی ابو اسمعیل قبیلہ اشہل کے ہیں ان کی حدیث اسحاق فروی نے ابو غصن یعنی ثابت سے انھوں نے اسمعیل بن ابراہیم اشہلی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے کہا نبی ﷺ بنی سلمہ کے یہاں تشریف لے گئے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہم ہے (یعنی ابراہیم اشہلی کوئی صحابی نہیں ہیں) ان کا تذکرہ ابن مندہ نے اور ابو نعیم نے لکھا ہے فروہ کی رے ساکن ہے اور سلمہ کا لام مکسور ہے۔ (اسدالغابۃ جلد نمبر۔۱)۔۔۔

مزید

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

  آپ سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق جانباز اور رفیق و ساز تھے جلیل القدر صحابہ رسول میں شمار ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور کی دعا سے آپ کو بے پناہ قوت حافظہ عطا فرمائی۔ جو بات سن لیتے دماغ میں نقش ہوجاتی۔ آپ کو حفظ صحابہ کا خطاب ملا تھا۔ آپ اصحاب صفّہ میں سے تھے ایک دن آپ بلی کا بچہ لیے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ حضور نے محبت سے ابوہریرہ (بلی کا باپ) کا خطاب دیا۔ حضور کے وصال کے بعد آپ کی زبان سے ہزاروں احادیث نبویہ روایت کی گئیں۔ رضی اللہ عنہ۔ آپ کا وصال ۵۷ھ یا ۵۹ھ میں ہوا۔ سالِ ترحیل اُو ز مہدی جو گر تو خواہی دوبار حامی گو جلوہ اُحد زیب ابدال پاک دل مجید محب ۵۷ ۵۷ ۵۷ ۵۷ ۵۷ سے سن تاریخ برآمد ہوتا ہے۔ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔

مزید

قرہ بن یعقوب

            قرہ بن یعقوب بن ادریس رومی قرہ مانی: عالم فاضل،محدث،جامع علوم نقلیہ و عقلیہ تھے،مطائج السنہ کی شرح نہایت نفیس تصنیف فرمائی اور ۸۳۳؁ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

سیدنا مجزأۃ بن ثور رضی اللہ عنہ

بن عفیر بن زہیر بن کعب بن عمرو بن سدوس السدوسی: حضرت عمر کے عہدِ خلافت میں قتل ہوئے۔ امام بخاری نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ لیکن ثابت نہیں اور اُنہوں نے عبد الرحمٰن بن ابو بکر سے روایت کی ہے۔ یہ صاحب منجوف بن ثور کے بھائی تھے۔ انہوں نے ایرانیوں کے خلاف جنگ میں زبردست حصّہ لیا۔ فتح تستر کے موقعہ پر ایک سو ایرانی قتل ہوئے تھے۔ جب ہر مزان گرفتار ہوا، اور حضرت عمر کے پاس لایا گیا تو حضرت عمر نے اسے قتل کا ارادہ کیا۔ کسی نے کہا، کہ میں نے اسے امان دی ہے۔ خلیفہ نے کہا کہ مَیں اس شخص کو کیسے پناہ دے سکتا ہوں، جس نے مجزأۃ بن ثور اور براء بن مالک کو قتل کیا ہے۔ ہر مزان مسلمان ہوگیا اور حضرت عمر سے جان بچا لے گیا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے تخریج کی ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک ابن نمیلہ رضی اللہ عنہ

نمیلہ ان کی ماں کا نام ہے۔ یہ صاحب ہیں مالک بن ثابت المزنی جو بنو معاویہ بن عدف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس کے حلیف تھے۔ غزوۂ بدر میں شامل تھے۔ غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔ یہ قول ہے ابراہیم بن سعد کا جو ابن اسحاق سے مروی ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک ابن نمیلہ رضی اللہ عنہ

نمیلہ ان کی ماں کا نام ہے۔ یہ صاحب ہیں مالک بن ثابت المزنی جو بنو معاویہ بن عدف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس کے حلیف تھے۔ غزوۂ بدر میں شامل تھے۔ غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔ یہ قول ہے ابراہیم بن سعد کا جو ابن اسحاق سے مروی ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک بن التیہان بن مالک

بن التیہان بن مالک بن عبید بن عمرو بن عبدالاعلم بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو (یعنی النبیت بن مالک بن اوس انصاری الاوسی مراد ہے) ایک روایت کی رو سے وہ بلی بن عمرو بن الحاف ابن قضاعہ کے قبیلے سے ہے۔ جو بنو عبدالاشہل کے حلیف تھے اور مالک بن التیہان ان چھ انصار میں شامل تھے۔ جنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ اول اور ثانی میں ملاقات کی تھی اور بنو عبدالاشہل کی روایت کے مطابق مالک رضی اللہ عنہ پہلے انصاری  ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، بنو النجار کا قول ہے کہ اسعد بن زرارہ نے سب سے پہلے بیعت کی، بنو سلمہ کی رائے میں یہ اعزاز کعب بن مالک کو نصیب ہوا ایک اور روایت کے مطابق البراء بن معرور نے اول از ہمہ بیعت کی۔ مالک اور اسید بن حضیر بنو عبدالاشہل کے نقیب تھے۔ اول الذکر بدر و احد کے علاوہ تمام غزوات میں شریک رہے اور حضرت عمر کے دورِ خلافت  میں بہ م۔۔۔

مزید

سیدنا ماعز بن مجالد بن ثور البکائی رضی اللہ عنہ

ان کے نسب کا ذکر ان کے والد کے تذکرے میں کیا جائے گا۔ یہ صحابی دربارِ رسالت میں بہ صورت وفد باریاب ہوئے تھے۔ یہ ابن الکلبی کا قول ہے۔۔۔۔

مزید

سیدنا ماعز بن مجالد بن ثور البکائی رضی اللہ عنہ

ان کے نسب کا ذکر ان کے والد کے تذکرے میں کیا جائے گا۔ یہ صحابی دربارِ رسالت میں بہ صورت وفد باریاب ہوئے تھے۔ یہ ابن الکلبی کا قول ہے۔۔۔۔

مزید