حبشی۔ جنھوں نے نبی ﷺ سے صورتوں اور رنگوں کی بابت دریافت کیا تھآ۔ ابو القاسم طبرانی نے علی بن عبدالعزیز سے نھوںنے محمد بن عمار موصلی سے انھوںنے عفیف بن سالم سے انھوں نے ایوب بن عتبہ سے انھوں نیعطاء سے انھوں نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے ہ انھوں نے کہا حبش کا ایک شخص رسول خدا ﷺ کے حضور یں کچھ پوچھنے کے لئے آیا نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ پوچھ اور سمجھ اس نے عرض کیا کہ یارسول الہ آپ لوگوںکو ہمارے اوپر صورت اور رنگ اور نبوت کے اعتبار سے فضیلت دی گئی ہے۔ بھلا اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لائوںجس طرح آپ اس پر ایمان لائے ہیں ور یں بھی ویسے ی کام کروں جیسے آ کرتے ہیں تو کیا میں جنت میں آپ کے ہرامہ ہوں گا آپ نے فرمایا ہاں پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ قسم (٭حضرت اسود کے خلوص اور صفائی نیت کو ملاحظہ فرما کر آنحضرت ﷺ نے یہ بشارت عظمی ان کے لئے بیان فرمائی چنانچہ اس کا اثر بھی علی الفور ظاہر ہوگیا یعنی ا۔۔۔
مزید
ابن حازم بن صفوان بن عزاز۔ بخارا میں آکے رہے تھے۔ ابو احمد ینی بحیر بن نضر نے ابو جمیل عباد بن ہشام شامی سے رویت کی ہے وہ تمحکت میں جو بخارا کی ایک بستی ہے موذن تھے کہ انھوں نے کہا میں نے نبی ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص کو دیکھا جن کا نام اسود بن حازم بن صفوان بن عزاز تھا میں آپ کی خدمت میں اپنے والد کے ہمراہ جایا کرتا تھا اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی وہ فرماتے تھے کہ میں حدیبیہ میں رسول خدا ﷺکے ہمراہ تھا اس وقت میری عمر تیس سال کی تھی ان سے پوچھا گیا کہ اب آپ کیعمر کس قدر ہے انھوں نے فرمایا ایک سو پچپن برس۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن ثعلبہ۔ یربوعی۔ حجۃ الوداع یں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے جب آپ فرما رہے تھے کہ گاہ ہو جائو جو شخص گناہ کرتا ہے وہ اپنی ہی جان پر (ظلم ) کرتا ہے۔ محمد بن سعد نے ان کا تذکرہ ان صحابہ میں کیا ہے جو کوفہ میں آکے رہے تھے ابو موسی نے ابن مندہ پر ان کا استدراک کیا ہے حالانکہ ان کا تذکرہ ابن مندہ کی کتابم یں موجود ہے معلوم نہیں پھر کیوں انھوں نے استدراک کیا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن ابی البختری۔ ابو البختری کا نام عاص بن ہاشم بن حارث بن اسد بن عبدالعزی بن فضی بن کلاب قرشی اسدی ان کی والدہ عاتکہ بنت عامیہ بن حارث بن اسد ہیں۔ یہ اسود فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے تھے اور نبی ﷺ کی صحبت میں رہے۔ ان کے والد ابو البختری بدر کے دن بحالت کفر قتل کر دیے گئے مجذر بن زیاد بلوی نے ان کو قتل کیا تھا۔ ان کے بیٹے سعید بن اسود نہایت حسین تھے ان پر ایک عورت نے یہ شعر کہا تھا۔ الا لیتتی اشری و شاحی و دملجی بنظرۃ عین من سعید بن اسود (٭ترجمہ۔ اے کاش میں اپنی حمئل اور اپن بازو بند سعید بن اسود کی ایک نگاہ (ناز) کے عوض میں بیچ ڈالتی) سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے رویت کی ہے کہ انھوں نے کہا جب حضرت معویہ نے بشر بن ابی ارطاۃ کو مدینہ بھیجا تاکہ شیعیان (٭شیعیان علی سے مراد وہ لوگ ہیں جھوں نے حضرت علی کا ساتھ دیا تھا ور ان کے ہستھ ہو کے ان کے مخالفین سے لڑتے تھے جو اہلسنت کے عقائد ۔۔۔
مزید
ابن اصرم محاربی۔ ان کا شمار اہل شام میں ہے۔ ان سے صرف سلیمان بن حبیب روایت کرتے ہیں۔ ہمیں ابو یاسر عبدالوہاب بن ہبۃ اللہ بن ابی حبہ نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو الحسن علی بن محمد بن حسین بن حسینون نیخبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو محمد احمد بن علی بن حسن بن محمد بن ابی عثمان دقاق نے خبر دی وہ کہتے تھے میں قاضی ابو القاسم حسن بن علی بن منذر نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں حسین بن صفوان نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابوبکر بن ابی الدنیا نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں یونس بن عبدالرحیم عسقلانی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں عمرو بن ابی سلمہ نے خبر دی وہ کہتے تھ یہمیں صدقہ بن عبداللہ نے عبید الہ بن علی قرشی سے انھوں نے سلیمان بن حبیب محاربی سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے اسود بن اصرم محاربی نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں نے کہا کہ یارسول اللہ مجھے کچھ نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا کیا تم اپنے ہاتھ پر قاب۔۔۔
مزید
ابو الاسود نہدی کے بیٹے ہیں۔ نبی ﷺ کو دیکھا تھا۔ یہ ایک مجہول شخص ہیں۔ یونس نے ابن بکیر سے انھوں نے عنبسہ بن ازہر سے انھوں نے ابو الاسود نہدی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ جب غار کی طرف تشریف لے گئے تو آپ کے پیر کی انگلی زخمی ہوگئی تو آپ نے فرمایا: ہل انت الا اصبع دمیت و فی سبیل اللہ مالقیت (٭ترجمہ۔ تو ایک انگلی ہے جو خون آلود ہوگئی حالنکہ ابیھ خدا کی راہ میں تو نے جنگ نہیں کی) ابن مندہ نے اس کو بیان کیا ہے ور ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض وہم کرنے والوں نے یونس بن بکیر سے یہ واقعہ نقل کیا ہے اور حدیث بیان کی ہے مگر صحیہ وہی ہے جو ثوری نے اور شعبہ نے ور ابن عینیہ نے اور ابو عوانہ نے اور اسرائیل نے ور حسن وار علی نے جو دونوں صالح کے بیٹے ہیں اسود بن قیس ے انھوں نے جندب بجلی سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے میں غار میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھا کہ اپ کی انگلی سے۔۔۔
مزید
ابیض کے بیٹیہیں۔ انکا تذکرہ صرف ابو موسی نے ابن مندہ پر استدراک کرنے کے لئے لکھا ہے۔ انھوں نے عبدان سے وایت کی ہے وہ موسی بن عقبہ سے وہ ابن شہاب سے وہ عبدالرحمن بن کعب بن مالک انصاری سلمی سے اور ان کے گھر کے چند لوگوں سے روایت کرتے ہیں کہ ان لوگوں نے کہا رسول خدا ﷺ نے عبداللہ بن عتیک کو اور عبداللہ بن انیس کو اور مسعود بن سنان بن اسود کو اور ابو قتادہ بن ربعی بن بلدمہ کو جو قبلہ نبی سلمہ کے تھے اور اود بن خزاعی کو جو ان کے حلیف تھے اور اسود بن حرام کو جو نبی سواد کے حلیف تھے بھیجا اور عبداللہ بن عتیک کو ان پر سردار کیا یہ لوگ ابو رافع بن ابی حقیق کے پاس گئے (اور اسے جاکے قتل کر دیا) ابن شہاب کہتے ہیں کہ یہ لوگ جب رسول خدا ﷺ کے پاس لوٹ کے آئے تو آپ منبر پر تھے آپ نے فرمایا کہ تم لوگوں کے منہ مبارک ہیں ان لوگوں نے عرض کیا کہ یارسول الہ آپ کا منہ مبارک ہے پھر آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے ا۔۔۔
مزید
ابن مضرس۔ قبیلہ طے کے ہیں۔ ہمیں ابو احمد بن علی بن علی امیں نے اپنی اسناد سے ابودائود سجستانی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے عبدالحمید بن عبداللہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے ام جنوب بنت نمیلہ نے اپنی والدہ سویدہ بنت جابر سے انھوں نے اپنی والدہ عقیلہ بنت اسمر بن مضرس سے انھوں نے اسمر بن مضرس سے نقل کر کے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے میں نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو آپ نے فرمایا ہ جو شخص کوئی ایسی بات کرے جو کسی مسلمان نے نہ کی ہو تو وہ بات اسی کے لئے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ اسمر عروہ ابن مضرس کے بھائی ہیں۔ ابو نعیم نے کہا ہے کہ یہ بصرہ کے اعراب میں سے ہیں۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
ابن ساعد بن ہلواث مازنی۔ ایک مجہول شخص ہیں جو حدیث ان سے مروی ہے اس کی سند میں کلام ہے۔ روایت کرتے ہیں کہ اسمر بن ساعد بن بلواث نے کہا ہم اور ہمارے والد ساعد بنی ﷺ کے حضور میں گئے میرے والد نے آپ ے عرض کیا کہ میرے والد یعنی ہلواث ایک بوڑھے آدمی ہیں انھوں نے آپ کی خبر سنی تو وہ آپ پر ایمان لائے مگر وہ آنے کی قوت نہیں رکھتے انھوں نے کچھ تھوڑا سا ہدیہ بھی آپ کے لئے بھیجا ہے آپ نے ہدیہ ان ے لے لیا اور اپ نے ان کے لئے اور ان کے والد کے لئے دعا کی۔ یہ حدیث غریب ہے صرف اسی سند سے مروی ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو نعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۱)۔۔۔
مزید
زیدی۔ انکا تذکرہ ابو موسینے ابن مدنہ پر استدراک کرنے کے لئے لکھا ہے اور کہا ہے بشرط یہ کہ یہ روایت صحیح ہو۔ ہمیں ابو موسی نے اجازۃ خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں ابو سعید محمد بن ابی اللہ معدانی نے خبر دیوہ کہتے تھے ہمیںمحمد بن احمد بن علی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن موسینے خبر دی وہ کہتے تھے مجھ سے محمد بن عبداللہ بن حسین نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھے احمد بن عمرو و بیہقی نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے عبداللہ بن شہیب نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے ہارون بن یحیی بن ہارون نے جو حاطب بن ابی بلتعہ کی اولاد سے تھے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے زکریا بن اسمعیل زیدی نے جو زید بن ثابت کی اولا سے تھے اپنے والد سے نقل کر کے بیان کیا کہ انھوں نے کہا ایک دن صبح کو ہم چند صحابی رسول خدا ﷺ کے ہمراہ چلے یہاں تک کہ ایک چوراہے پر جاکے کھڑے ہوگئے اتنے میں ایک اعرابی ملا جو اونٹ کی ہدیاں کھینچے ہوئے لیے ج۔۔۔
مزید