انصاری۔ حضرت جابر بن عبداللہ نے رویت کی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل نے (ایک مرتبہ) انصار کو نماز مغرب پڑھائی (اور قرات میں خوب طول دیا) حازم انصری نہ ٹھہر سکے (اور اپنی نماز علیحدہ پڑھ کے چلے دیئے) پس حضرت معاذ ان پر غصہ ہوئے حازم نبی ﷺ کے حضور میں گئے اور عرض کیا کہ معاذ نے ہمیں بہت طویل نماز پڑھائی تو نبی ﷺ نے معاذ سے فرمایا کہ کیا تم فتنہ میں ڈالنے والے ہو اے معاذ لوگوںپر تخفیف کرو کیوں کہ ان میں مریض بھی ہیں اور ضعیف بھی ہیںاور بوڑھے بھی ہیں ان کا تزکرہ ابو موسی نے لکھاہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اس روایت میں ان کا نام حازم بتایا گیا ہے اور ایک رویتمیں ہے کہ وہ حزام بن ملحان تھے اور بعض لوگوںکا قول ہے کہ وہ حرامبن ابی کعب تھے اور بعض کا قول ہے کہ وہ سلیم تھے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن وہب خزاعی۔ عبید اللہ بن عمر بن خطاب کے اکیافی بھائی ہیں۔ ان سے ابو اسحاق سبیعی نے اور معبدبن خالدجہنی نے روایتکی ہے۔ ہمیں اسماعیل بن عبید اللہ وغیرہ نے اپنی سند سے ابو عیسی یعنی محمدبن عیسی تک خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہمیںابو نعیم نے خبر دی وہ کہتے تھے ہمیں سفیان نے معبد بن خالد سے نقل کر کے خبر دی وہ کہتے تھے میں نے حارثہ بن وہب خزاعی سے سنا کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کیا میں تمہیں اہل دوزخ کے حالات نہ بتائوں ہر سرکش جواظ مغرور۔ یہ حدیث صحیح ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ ہواحظ کے معنی بعض لوگوں نے یہ بیان کئے ہیں کہ مال جمع کرے اور بخیل ہو اور بعض لوگوں نے یہ بیان کئے ہیں کہ فربہ حیلہ جو اور بعض لوگوں نے کہاہے پستہ قامت توندیل۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲) ۔۔۔
مزید
ابن نعمان۔ خزاعی کنیت ان کی ابو شریح۔ عسکری یعنی علی بن سعید نے افراد میں ان کو ذکر کیا ہے ان کے نام میں اکتلاف ہے لہذا میں ان کا ذکر ایک دوسرے مقام میں بھی کروں گا۔ ان کا تذکرہ ابو موسی نے لکھاہے۔ (اس الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن نعمان بن نقع بن زید بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار۔ انصاری خزرجی ثم من بنی النجار۔ کنیت ان کی ابو عبداللہ۔ غزوہ بدر میں اور احدم یں اور خندق میں اور تمام مشاہد میں رسول خدا ﷺ کے ہمراہ شریک تھے فضلاء سے صحابہ سے ہیں۔ عبداللہ بن عامر بن ربیعہ نے حارث بن نعمان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا میں رسول خدا ﷺ کی طرف سے ہو کے گذرا آپ کے پاس جبرئیل بیٹھے ہوئے تھے میں نے آپ کو سلام کیا اور نکل گیا پھر میں جب لوٹا اور نبی ﷺ بھی فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تم نے اس شخص کو دیکھا تھا جو میرے پاس بیٹھا ہوا تھا میں نے عرض کیا کہ ہاں آپنے فرمایا وہ جبرئیل تھے انھوں نے تمہارے سلام کا جواب بھی دیا حضرت ابن عباس نے روایت کی ہے کہ حارث بن نعمان کا گذر نبی ﷺ کی طرف ہوا آپ کے پاس جبرئیل بیٹھے ہوئے تھے آپ ان سے کچھ آہستہ باتیں کر رہے تھے حارثہ نے آپ کو سلام نہیں کیا جبرئیل نے کہا کہ انھوں نے ۔۔۔
مزید
ابن مضرب۔ بقول بعض انھوںنے نبی ﷺ کو دیکھا ہے۔ کوفہ کے رہنے والے ہیں حضرت عمر وغیرہ سے روایت کتیہیں۔ انکا تذکرہ ابو موسی نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن منالک بن غضب بن جشم بن خزرج بعد اس کے یہ بنی مخلد بن عامر بن زریق سے ہوئے انصری ہیں زرقی ہیں۔ واقعدی نے ان کو شرکائے بدر میں ذکر کیا ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ ابن مندہ نے بیان کیا ہے کہ حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم انصاری بنی بیاضہ میں سے ہیں بیعت عقبہ میں شریک تھے اور اس کو انھوں نے ابو الاسود سے انھوں ن عروہ سے رویت کیا ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابو عمر نے لکھا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ان دونوں کی غلطی ہے کیوں کہ ان دونوں نے جو یہ کہا ہے کہ حارثہ بیٹے ہیں مالک بن غضب کے یہ بہت ہی بعید ہے کیوں کہ نبی ﷺ کے ہمراہ بنی مالک بن غضب سے جو لوگ تھے ان کے اور ان حارثہ کے درمیان میں تقریبا دس پشتوں کا فصل ہے پس کم سے کم یہ انس ے تین سو برس بعد ہوں گ یپس کیوں کر مالک حارثہ کے باپ ہوسکتے ہیں پھر ابو عمریہ بھی کہتے ہیں کہ حارثہ بیٹے ہیں مالک کے اور ان کا نسب بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بنی ۔۔۔
مزید
ابن مالک انصاری۔ حبیب بن عبد کی اولاد سے ہیں۔ بدر میں شریک تھے یہ محمد بن اسحاق کا قول ہے اس کو یونس بن بکیر نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے ابن مندہ نے بھی کہا ہے کہ جو لوگ حبیب بن عبد کی اولاد سے بدر میں شریک تھے ان میں حارث بن مالک بھی ہیں۔ اور ابو نعیم نے کہا ہے کہ بعض وہم کرنے والوں نے یعنی ابن مندہ نے ان کا ذکر لکھاہے اور اس نے اپنا وہم محمد بن اسحاق کی طرف منسوب کر دیا ہے حالانکہ یہ وہم ہے صلحیح نام ان کا حبیب بن عبد حارثہ بن مالک ہے انھوں نے عبد کے اور حارثہ کے درمیان میں فصل کر دیا اور یہ بت فرض کر لی کہ حارث صحابی کا نام ہے حالانکہ ابن اسحاق نے جو کچھ لکھا وہ اس کے خلاف ہے جو ابن مندہ نے ان سے نقل کی اہے انھون نے ابراہیم بن سعید سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے ابن اسحق سے ان لوگوں کے نام میں جو بنی حبیب بن عبد حارثہ بن مالک بن غضب بن جشم بن خزرج سے شہید ہوئے رافع بن ۔۔۔
مزید
ابن قطن بن زابر بن کعب بن حصن بن علیم بن جناب بن ہبل بن عبداللہ بن کنانہ بن بکر بن عوف بن عذرہ ابن زید لات بن رفیدہ بن ثور بن کلب بن دبرہ۔ کلبی۔ نبی ﷺ کے حضور میں یہ اور ان کے بھائی حصن وفد بن کے گئے تھے حضرت نے ان دونوں کو یہ تحریر لکھ دی تھی بسم اللہ الرحمن الرہیمن من محمد رسول اللہ لحارثۃ و حصن ابنی قطن لاہل الموات من بنی جناب من الماء الجاری العشر و من العشری نصف العشر فی السنۃ فی عمائر کلب(٭ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرہیم یہ تحریر ہے محمد رسول اللہ کی طرف س حارثہ اور حصن فرزندان قطن کے نام کہ قبیلہ بنی جناب کی افتادہ زمیں میں آب جاری سے جو چیز پیدا ہو اس پر ……… سے پیدا ہو اس پر نصف عشر ہے قبیلہ کلبکی تمام آبدی کا یہی حکم ہے) ان کا تذکرہ ابو عمر اور ابو موسی نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن عدی بن امیہ بن ضبیب۔ بعض لوگوں نے ان کا تذکرہ صحابہ میں لکھا ہے۔ ابو عمر نے کہا ہے کہ یہ ایک مجہول شخص ہیں مشہور نہیں ہیں بخاری نے ان کو ذکر کیا ہے۔ عصمہ بن کمیل بن وہب بن حارث بن عدی بن امیہ بن ضبیب نے اپنے اپنے باپ دادا سے انھوں نے حارثہ بن عدی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں اور میرے بھائی اس وفد میں تھے جو رسول خدا ﷺ کے حضور میں گیا تھا تو حضرت نے فرمایا کہ اے اللہ حارثہ کو ان کے رزق میں برکت دے ابن ماکولا نے ان کا ذکر کیا ہے ور کہا ہے کہ حارچہ بن عدی ان کا شمار اہل شام میں ہے صحابی ہیں۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
ابن ظفر ابن شاہین نے ان کو صحابہ میں ذکر کیا ہے۔ ابو موسی نے ان کا تذکرہ مختصر لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید