ابن ناشب بن غیرۃ لیثی بنی سعد بن لیث (کے خاندان)سے تھےاوربنی عدی بن کعب کی حلیف تھے یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھے انھوں نے حضرت عمربن خطاب کی خلافت کے زمانے میں وفات پائی یہ ایک بوڑھے آدمی تھے ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر لکھاہے۔میں کہتاہوں کہ میرے علم میں خاندان بنی سعدبن لیث میں عبدیالیل نامی سوائے ایاس اور خالداورعاقل فرزندان بکیربن عبدیالیل بن ناشب بن سعد بن لیث کے داداکے دوسراکوئی نہیں ہے یہ ایاس اور ان کے بھائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ بدرمیں شریک تھے یہ سب فرزندان عدی کے حلیف تھے جیساکہ ابوعمر نے بیان کیاہے(اگریہی عبدیالیل ہیں تو)ان کا صحابی ہونابعیدہے اوراگر ان کے سواکوئی دوسرے ہیں تو میں نہیں جانتا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عمیرثقفی قبیلہ ثقیف کے سرداروں میں سے یہ بھی ایک سردارتھے۔یہ وہ شخص ہیں کہ ان کوقبیلۂ ثقیف کے لوگوں نے اپنے اسلام کی خبردینے کے لیے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عروہ بن مسعود کے قتل ہونے کے بعدبھیجاتھااور ان کے ساتھ پانچ آدمی اوربھیجے تھے خاندان ثقیف (والے یہ)ارادہ کرتے تھے کہ ان کو (رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) تنہا بھیجیں مگر یہ (تنہاجانے پر)راضی نہ ہوئے اوران کوخوف ہواکہ مباداکفار میرے ساتھ بھی ویساہی نہ کریں جیساکہ عروہ بن مسعود کے ساتھ کیاہےلہذاان لوگوں نے اسی وجہ سے ان کے ساتھ پانچ آدمی اور بھیجے جن کے نام یہ ہیں ۱)عثمان بن ابی العاص۔۲)اوس بن عوف۔۳)نمیربن خرشہ۔۴)حکم بن عمرو۔۵)شرحبیل بن غیلان سلمہ۔یہ سب لوگ اسلام لائے اوران کااسلام بہت اچھا رہا(اسلام لانے کے بعد)یہ سب اپنی قوم ثقیف کی طرف لوٹ گئے پھرقبیلۂ ثقیف کے باقی سب لوگ اسلام لے آئے اسی طرح ابن اسحاق ن۔۔۔
مزید
ان کا نسب نہیں بیان کیاگیا۔ان کا تذکرہ باطرقانی نے قرآن پڑھانے والوں میں لکھاہے ابن وہب نے خلاد بن سلیما ن سےنقل کرکے بیان کیاہے کہ جنھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قرآن شریف کو حفظ کیاتھا ان میں سے عبداللہ بن مسعود اور یہ عبدالواحد بھی تھے(ایک مرتبہ)عبدالواحد نے عبداللہ بن مسعودسے پوچھاکہ تم مجھ کو بتلاؤ اللہ تعالیٰ جو اپنے کلام میں فرماتا ہےکہ تسع وتسعون نعجتہ انثی۱؎کیانعجہ کےنقطہ سے یہ بات معلوم نہیں ہوسکتی کہ نعجہ مونث ہے(تاے تانیث خود مونث ہونے پردلالت کررہی ہےپھرلفظ انثی کی کیاضرورت تھی) عبداللہ بن مسعود نےکہاکہ تم مجھ کو بتاؤ اللہ تعالیٰ جوفرماتاہے کہ تین روزے حج کے دنوں میں اور سات روزے اس وقت جب کہ تم حج سے لوٹو یہ دس پورے ہوئے۔کیالوگوں کویہ نہیں معلوم ہے کہ تین اورسات دس ہوے پھرکیاضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دس روزے ہوئے۔ اس قول سےیہ م۔۔۔
مزید
ان کومستغفری نے صحابہ میں ذکرکیاہے۔ابراہیم بن عرعرہ نے زید بن حباب سے انھوں نے بشر بن عمران سے انھوں نے اپنے غلام عبداللہ بن عبدہلال سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں بالکل نہیں بھولا (مجھے خوب یادہے)جب میرے والد مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں لے گئے تھے اورعرض کیاتھاکہ اس بچہ کے لیے دعافرمائیے اور برکت بھیجیےاورمیں بالکل نہیں بھولا(مجھے خوب یادہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سرپرہاتھ پھیراتھا بلکہ) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک جومیرے دماغ میں پہنچی تھی(وہ بھی مجھے اچھی طرح یادہے)یہ عبدبلال صائم الدہر اور شب بیدارتھے جب ان کا انتقال ہوگیاتوان کے سراورداڑھی کے بال سفید ہوگئے تھے اور ان کے سرکے بال اس کثرت سے تھے کہ ان کو کنگھی کرنادشوارہوتاتھا اس کو عبدہ بن عبداللہ نے بھی اپنی سند کے ساتھ اسی طرح روایت توکیاہے مگرکہاہے کہ یہ عبداللہ ابن عبداللہ۔۔۔
مزید
ان کومستغفری نے صحابہ میں ذکرکیاہے۔ابراہیم بن عرعرہ نے زید بن حباب سے انھوں نے بشر بن عمران سے انھوں نے اپنے غلام عبداللہ بن عبدہلال سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں بالکل نہیں بھولا (مجھے خوب یادہے)جب میرے والد مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں لے گئے تھے اورعرض کیاتھاکہ اس بچہ کے لیے دعافرمائیے اور برکت بھیجیےاورمیں بالکل نہیں بھولا(مجھے خوب یادہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سرپرہاتھ پھیراتھا بلکہ) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ کی ٹھنڈک جومیرے دماغ میں پہنچی تھی(وہ بھی مجھے اچھی طرح یادہے)یہ عبدبلال صائم الدہر اور شب بیدارتھے جب ان کا انتقال ہوگیاتوان کے سراورداڑھی کے بال سفید ہوگئے تھے اور ان کے سرکے بال اس کثرت سے تھے کہ ان کو کنگھی کرنادشوارہوتاتھا اس کو عبدہ بن عبداللہ نے بھی اپنی سند کے ساتھ اسی طرح روایت توکیاہے مگرکہاہے کہ یہ عبداللہ ابن عبداللہ۔۔۔
مزید
ابن عبدالاسد بن بلال بن عبداللہ بن عمربن مخزوم سلمہ کے والد اورام المومنین ام سلمہ کے شوہر تھے ان کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ سے نکاح کرلیاتھا۱؎۔یہ صحابی بدری ہیں قدیم الاسلام تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں ان کی وفات ہوئی تھی ان کو تذکرہ عبداللہ بن عبدالاسد کے بیان میں گذرچکاہے یہ اپنی کنیت (ابوسلمہ)سے زیادہ مشہورتھے۔ان کا تذکرہ باب الکنیت میں انشاء اللہ تعالیٰ لکھاجائےگا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔میں کہتاہوں ابوموسیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ اس قسم کی باتوں کا(ابن مندہ پر)استدراک کریں اورجن لوگوں کا نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل دیاہے ان کو پھرپہلے نام کے ساتھ ذکرکریں کیوں کہ پہلا نام تو متروک ہوگیااس سے پہلے اوربھی اس قسم کے نام بہت آئے اگرابوموسیٰ یہی روش اختیارکرتے تو بہت طول ہوجاتا (پس کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی کہ خلاف عادت و خلاف عقل عبدمن۔۔۔
مزید
ثقفی ان کو یونس بن حبیب اصفہانی نے ابوداؤد طیالسی کے مسندمیں بیان کیاہے۔ہم کو عبداللہ بن احمد بن عبدالقاہر نے اپنی سند کوابوداؤدطیالسی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے ابوبکرگندم فروش نے بیان کیاوہ کہتے تھے مجھ سے یحییٰ بن ہانی نے عروہ بن قعاس سے انھوں نے ابو حذیفہ سے انھوں نے عبدالملک بن علقمہ ثقفی سے روایت کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (خاندان)ثقیف کاوفد آیااوران لوگوں نے آپ کے سامنے کچھ تحفہ پیش کیاآپ نے فرمایایہ صدقہ یاہدیہ۔کیوں کہ صدقہ (وہ چیزہے)جس سے صرف خدا کی رضامندی مقصود ہو اور ہدیہ (جورسول کودیاجائے)وہ ہےجس سے رسول کی رضامندی یا ان کی حاجت روائی مقصود ہو پھر ان لوگوں نے (کچھ اور)پوچھناشروع کیااوریہاں تک آپ سے پوچھتے رہے کہ ظہر کی نماز ان لوگوں نے عصرکی نمازکے ساتھ پڑھی مسند(طیالسی) میں عبدالملک کا تذکرہ اسی طرح ہے اس کو بخاری نے۔۔۔
مزید
مخزومی ہیں سعیدبن سائب طائفی نے عبدالملک بن ابی زہیربن عبدالرحمن ثقفی سے روایت کی ہے ان کوحمزہ بن عبداللہ نے قاسم بن حبیب سےانھوں نے عبدالملک بن عباد بن جعفر سے نقل کرکے خبردی کہ انھوں نےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناکہ میں اپنی امت میں سب سے پہلے جن کی شفاعت کروں گا (وہ)اہل مدینہ اور اہل مکہ اور اہل طائف ہیں اس حدیث کو عبدالوہاب ثقفی نے سعید بن سائب سے انھوں نے حمزہ بن عبداللہ ابن سبرہ سے انھوں نے قاسم بن حبیب سے انھوں نے عبدالملک سے روایت کیاہے وہ کہتے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے اسی طرح سناہے۔اسی حدیث کو محمد بن بکار نے زافربن سلیمان سے انھوں نے محمد بن مسلم سے انھوں نے عبدالملک بن زہیرسے انھوں حمزہ بن ابی شمرسے انھوں نے محمد بن عبادسے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں ان کوابوبکربن علی نے صحابہ میں بیان کرکے ہاشم بن قاسم حرانی سے انھوں نے یعلی بن اشدق سے انھوں نے عبدالملک حجبی سے روایت کی ہے کہ (ایک مرتبہ)اہل مکہ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاگذرہواان لوگوں نے عرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کیاہم آپ کو نبیذ پلا دیں آپ نے فرمایاہاں(پلاؤ)چنانچہ نبیذلائی گئی پھرآپ نے اس میں پانی ملایااورفرمایااے اہل مکہ نبیذ اسی طرح پیاکرو پھران لوگوں نے کہایارسول اللہ ہم لوگوں کوپیاس بہت لگتی ہے اور پانی ہمارے یہاں گرم ہوتاہےاس کاپینا ہمیں ناگوارگزرتاہے آپ نے فرمایاتم لوگ مشک میں نبیذ بنالیاکرو نبیذ بنانے سے پانی کا مزہ بدل جائے گاپس اسی کو پیاکرو۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن اکیدریہ (مقام)دومتہ الجندل کے حاکم تھے۔یحییٰ بن وہب بن عبدالملک حاکم دومتہ الجندل نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کوایک خط لکھا(اس وقت) آپ کے پاس مہرنہ تھی (لہذا) اپنے ناخون سے آپ نےاس پرنشان بنادیا اس کوعبدالسلام بن محمد نے ابراہیم بن عمروبن وہب سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداسے روایت کی ہے۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں بلاشبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالملک کوغزوہ تبوک میں خط لکھاتھا(وہ خط لے کر)خالد بن ولید کے پاس گئے تھے اور وہ خط ان کا پہنچادیاتھاعبدالملک نے حضرت خالد کو قید کر لیاتھاپھرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صلح کرلی اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جزیہ بھیج دیا واللہ اعلم۔اکیدر کے بیان میں یہ تذکرہ اس مقام سے (زیادہ اور)پورابیان ہواہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید