جمعرات , 06 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 23 April,2026

سیّدنا عبدالرحمن ابن عتبہ رضی اللہ عنہ

   بن عویم بن ساعدہ۔ابوعمرنے ان کا تذکرہ مختصرلکھاہے۔ ان کاصحابی ہونااورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رویت سےشرفیاب ہوناثابت نہیں ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عتاب رضی اللہ عنہ

   بن اسید بن ابی العیص بن امیہ بن عبدشمس قریشی اموی ہیں ان کی والدہ جویریہ نبت ابی جہل تھیں جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کرناچاہاتھامگررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  نے (نکاح کرنے سے)منع فرمایااس کے بعدعتاب نے ان کے ساتھ نکاح کرلیااور ان سے یہ عبدالرحمن پیداہوئے یہ حضرت عائشہ کے ساتھ جنگ جمل میں شریک تھےاورنمازمیں ان لوگوں کے امام تھے جنگ جمل میں بمقام بصرہ شہیدہوئے جب حضرت علی نے ان کو مقتول دیکھاتوکہا یہ قوم کے یعسوب(سردار) تھے جب یہ قتل ہوگئے توایک پرندان کے ہاتھ کواٹھالے گیااور مدینہ میں جاکے ڈال دیاوہاں کے لوگوں نے ان کی انگوٹھی سے جوان کے (کٹے ہوئے)ہاتھ میں تھی انکو پہچاناچنانچہ اس ہاتھ پرنمازجنازہ پڑھکر اس کودفن کردیا۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عبیدن رضی اللہ عنہ

  میری ہیں ان کاشمار اہل شام میں ہےابن ابی عاصم نے ان کو احاد میں ذکرکیاہے ابونعیم نے ان کوعلیحدہ بیان میں لکھاہےہم کوابوموسیٰ نے اجازتاًخبردی ہے وہ کہتے تھے ہمیں حسن بن احمد نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سےعبدالرحمن بن ابی بکراوراحمد بن عبداللہ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عبداللہ بن محمد بن محمد نے بیان کیا ہے وہ کہتے تھےہم سے احمد بن عمرو بن ابی عاصم نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عمروبن عثمان نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے بقیہ نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے اوزاعی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے یحییٰ بن ابی عمروشیبانی نے عبداللہ بن ویلمی سے انھوں نے عبدالرحمن بن عبیدنمیری سےروایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ اسلام میں تین سوپندرہ اخلاق ہیں جوشخص ان میں سے ایک خصلت پربھی بغرض تحصیل ثواب عمل کرے اس کو اللہ جنت میں داخل کرے گا ابن ابی عاصم نے کہاہے کہ یہ حدیث میری کتاب میں مرفوعاً نہیں مروی ہے۔اور۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عبیداللہ رضی اللہ عنہ

   بن عثمان بن عمروبن کعب بن سعد بن مرہ قریشی تیمی طلحہ بن عبیداللہ کےبھائی تھے اور صحابی تھے جنگ جمل میں ماہ جمادی الاخری۳۶ھ؁ میں شہیدہوئے اور اسی واقعۂ جمل میں ان کے بھائی طلحہ بھی شہیدہوئے۔اس کو ابوعمرنے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عبد رضی اللہ عنہ

  بعض لوگ ابن عبیدبیان کرتے ہیں یہ راشدکے والد تھے اوران کی کنیت ابومعاویہ تھی ان سے ان کے بیٹے عثمان نے روایت کی ہے ان کی حدیث اہل شام سےمروی ہے عثمان بن محمد نے اپنے والد محمد بن عثمان سے انھوں نے والد عثمان بن عبدالرحمن سے انھوں نے اپنے والد عبدالرحمن بن ابی راشد بن عبیدسے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں اپنی قوم کے سوسواروں کے ساتھ رسول خدا صلی  اللہ علیہ وسلم کے پاس آیاتھاجس وقت ہم لوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے توٹھہرگئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایااے ابومعاویہ تم آگے آؤ۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے مگرابونعیم اورابوعمر نے ایک دوسرا تذکرہ بھی لکھا ہے اس میں عبدالرحمن نام ابوراشد ان کی کنیت بیان کی ہے ابونعیم نے یہ دونوں تذکرے لکھے ہیں لیکن ابوعمرنے صرف ایک تذکرہ عبدالرحمن ابوراشدکالکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عبیدقاری رضی اللہ عنہ

   ہیں قارہ ہون بن خزیمہ برادراسدبن خزیمہ کی اولادکوکہتے ہیں یہ عبدالرحمن رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانےمیں پیداہوئے تھے مگرانھوں نے نہ تورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنی اورنہ آپ سے کوئی روایت کی واقدی نے ان کوصحابی کہاہے۔اوراپنی کتاب طبقات میں ان لوگوں کاذکرکیاہے جورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھےاورکہاہےکہ یہ عبدالرحمن حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں عبداللہ بن ارقم کے ساتھ بیت المال کے محافظ تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عبدزب رضی اللہ عنہ

   انصاری ہیں ان کوصرف ابن عقدہ نے بیان کیاہے ہم کوابوموسیٰ نے اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہمیں سید ابومحمد یعنی حمزہ بن عباس نے خبردی وہ کہتے تھے ہمیں احمد بن فضل مصری نے خبر دی وہ کہتے تھے ہم سے عبدالرحمن بن محمد مدینی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے احمد بن محمد بن سعید نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے محمد بن اسمعیل بن اسحاق راشدی نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے محمد بن خلف نمیری نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے علی بن حسن عبدی نے اصبغ بن نباتہ سے نقل کرکے بیان کیاکہ وہ کہتے تھے کوفہ کے ایک میدان میں حضرت علی نے لوگوں سے کہا خم غدیر کے دن جس کسی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوکچھ فرماتے ہوئےسناہوتوکھڑے ہوکربیان کرے اور وہ شخص کھڑانہ ہو جس نے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہ سناہو حضرت علی کے اس قول سے دس سے زیادہ آدمی کھڑے ہوگئے ان لوگوں میں ابوایوب انصاری اور ابوعمرہ بن عمروبن محصن۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ولد عبداللہ رضی اللہ عنہ

   کے والد ہیں ان کانسب کسی نے نہیں بیان کیاہے۔ابوعمران محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداسےجوصحابی تھےروایت کی وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسم نے ایک جماعت کی طرف دیکھا اورپوچھایہ کون لوگ ہیں لوگوں نے عرض کیاکہ قبیلۂ ازد کے لوگ ہیں فرمایاقبیلۂ ازد کے لوگ تمھارے پاس آئے ہیں وہ بہت اچھی صورت والے ہیں اور شیریں کلام اور خندہ پیشانی ہیں پھردوسرے گروہ کی طرف دیکھ کرپوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے عرض کیاقبیلۂ بکر بن وائل کے لوگ ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے دعادی کہ یااللہ ان کی شکستگی کودورکردے ان کے ٹوٹے ہوئے کوجوڑدے(یعنی ان کی مصیبت دورکراورفلاح عنایت کر)اوران کے بے ٹھکانے والوں کو جگہ دے اور ان کے کسی سائل کورد نہ کر۔ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ

   بن عثمان ثقفی ہیں اوریہ ام حکم کے بیتےہیں عبدالرحمن بن ام حکم کے بیان میں پہلے یہ ذکرہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن بن عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ

  ا۔یہ عبدالرحمن امیرالمومنین ابوبکرصدیق بن ابی قحافہ کے بیتے ہیں ان کے والد کے ذکر میں ان کا نسب بیان ہوچکاان کی کنیت ابوعبداللہ تھی اور بعض نے بیان کیا ہے کہ ان کی کنیت ابومحمد تھی وہ اس وجہ سے کہ ان کے بیٹے کانام محمد تھاجن کولوگ ابوعتیق کہتے ہیں اور بعض ابو عثمان بیان کرتے ہیں ان کی والدہ ام رومان تھی یہ مدینہ میں رہتے تھے اور مکہ میں وفات ہوئی ۔ صحابہ میں کوئی چارشخص ایسے نہیں ہیں جن کی چارپشت کے لوگ اسلام لائے ہوں اور صحابی ہوں سوا ابوقحافہ اوران کے بیٹے حضرت ابوبکرصدیق اور ان کے بیٹے عبدالرحمن اور ان کے بیٹے محمد ابوعتیق کے یہ عبدالرحمن حضرت عائشہ کے حقیقی بھائی تھےغزوۂ بدراوراحد میں کافروں کی طرف سے شریک تھے(جب میدان جنگ  میں )انھوں نے اپنے لڑنے کے واسطے مقابل طلب کیا تو حضرت ابوبکر ان کے مقابلے پرجانے کو تیار ہوئے مگررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوبکر تم۔۔۔

مزید