حنفی یمامی صحابی ہیں ان سے عبداللہ بن بدرنے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن نے کہامیں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سناکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر نظر(عنایت)نہیں کرتاہے جواپنی پیٹھ کورکوع اورسجود میں اچھی طرح نہ رکھے اس حدیث کی روایت صرف عبدالوارث بن سعید نے ابوعبداللہ بن عمام شقری سے انھوں نے عمربن جابرسے انھوں نے عبداللہ بن بدرسے کی ہے اورعکرمہ بن عمار نے عبداللہ بن بدرسے انھوں نے طلق بن علی سے بھی اس حدیث کو روایت کیاہے۔اوریہ صحیح ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ان کوابن ابی علقمہ ثقفی بیان کیاہے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہےاوربیان کیاگیاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کے وفد آئے ان میں سے یہ عبدالرحمن بھی تھے ان سے عبدالملک بن محمد ابن بشیرنے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثقیف کاوفدآیا اوران کے ساتھ کچھ تحفہ بھی تھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکہ یہ کیاچیزہےان لوگوں نے کہاکہ صدقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ صدقہ وہ چیزہے جس سے صرف رضامندی خدامقصودہو اورہدیہ وہ ہے جس سے رضامندی رسول اور (کوئی)حاجت روائی مقصودہو ان لوگوں نے کہا کہ یہ صدقہ نہیں ہے بلکہ یہ ہدیہ ہے اس وقت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول کرلیاعبدالرحمن سے عون بن حجیفہ نے اسی طرح روایت کی ہے ابوحاتم نے کہاہے کہ یہ عبدالرحمن تابعی ہیں صحابی نہ تھے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن مسعودبن معتب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعدبن عوف بن ثقیف ثقفی ہیں ہشام بن کلبی نے اسی طرح ان کانسب بیان کیاہے اوریہ عبدالرحمن حجاج بن یوسف بن حکم بن ابی عقیل کے چچازاد بھائی ہیں اور لوگوں نے ان کے نسب میں اختلاف کیاہے مگرثقفی ہونے میں سب کا اتفاق ہےصحابی تھے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی نے روایت کی ہے اور چندلوگوں نے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔اورعبدالرحمن بن عقیل کاصحابی ہونادرست ہے ہشام بن مغیرہ ثقفی نے بھی عبدالرحمن بن ابی عقیل سے روایت کی ہے یہ ابوعمرکابیان تھالیکن ابن مندہ اورنعیم نے کہاہےکہ یہ عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی ہیں دونوں میں سے کسی نے ان کانسب اس سے زیادہ نہیں بیان کیااوریہ بھی کہاجاتاہے یہ عبدالرحمن ام الحکم بنت ابی سفیان کے بیٹے تھے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ نے روایت کی ہے ان کی روایت کردہ حدیث کا ذکرعبدالر۔۔۔
مزید
کنیت انکی ابوعقبہ فارسی تھی۔انصارکے غلام تھے۔یحییٰ بن علاء نے داؤد بن حصین سےانھوں نے عقبہ بن حصین سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ احد میں شریک تھاایک کافرپر میں نے وارکیااور کہا اس(حملے )کولے میں فارسی غلام ہوں اس قول کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایاتم نے یہ کیوں نہ کہا کہ اس (حملے) کولے میں انصاری غلام ہوں کیوں کہ جوشخص کسی قوم کا غلام ہووہ اسی قوم میں سے ہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے یحییٰ کے علاوہ دوسروں نے اس حدیث کوداؤد سے نقل کیاہے اورکہاہے کہ عبدالرحمن بن عقبہ نےاپنے والد سے روایت کی ہے ۔ہمیں ابوجعفر بن احمد بن علی نے اپنی سند کویونس بن بکیہ تک پہنچاکر خبردی انھوں نے ابن اسحاق سے روایت کرکے بیان کیا کہ وہ کہتے تھے مجھ سے داؤد بن حصین نے عبدالرحمن بن عقبہ سے انھوں نے اپنے وال۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی صنابحی ہیں صنابح یمن میں ایک قبیلہ ہے۔ابوعبداللہ اسی قبیلہ کی طرف منسوب ہیں یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان تھے اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے واسطے انھوں نے ہجرت کی تھی جب(مقام)حجفہ میں پہنچے توان کو خبرملی کہ پانچ دن ہوئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی یہ تابعین کے اعلیٰ طبقہ میں شمار کیے گئے ہیں۔شہرکوفہ میں فروکش تھے۔انھوں نے حضرت ابوبکر اورعمراوربلال اورعبادہ بن صامت سے روایت کی ہے یہ عبدالرحمن بڑے بزرگ تھے یزید بن ابی حبیب نے ابوالخیر سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں صنابحی سے کہاکہ تم نے ہجرت کی ہے۔انھوں نے جواب دیا کہ میں یمن سے نکل کر حجفہ تک پہنچاتھا کہ ہمارےپاس ایک سوارکاگذرہوا ہم نے اس سے کہا تیرے پیچھے والوں کاکیاحال ہے اس نے جواب دیا کہ آج پانچ دن ہوئے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پا۔۔۔
مزید
ہیں۔بعض لوگ ان کانام عبداللہ کہتے ہیں مگرصحیح رفاعہ بن عرابہ ہے اس کو ابونعیم نے بیان کیاہے اور یہ حال رفاعہ اور عبداللہ کے نام میں پہلے بیان ہوچکاہے معاذ بن عبداللہ بن حبیب نے عبدالرحمن بن عرابہ جہنی سے روایت کی ہے اور(کہاہے کہ)یہ صحابی تھے۔کہتے تھے کہ جنت والوں میں (جواعلیٰ درجہ کے ہوں گے ان کا توحال ہی نہ پوچھو ان میں)ادنی درجہ کے وہ لوگ ہوں گے جوخداکی رحمت سے دوزخ سے نکالے جائیں گے اور جنت میں داخل کیے جائیں گے اور ان سے کہاجائےگاکہ مانگو(جومانگناہو)پس وہ لوگ کہیں گے اے پروردگار(فلاں چیز)دے (غرض وہ مانگتے جائیں گے اور ان کوملتاجائے گا)یہاں تک کہ وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار بس اسی قدر ہم کو کافی ہے اس وقت فرمادے گایہ (اجر)تمھارے واسطے ہے اور اس سے دس گنا(اوربھی زیادہ دیاجائےگا)۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عمروبن عبیدبن کلاب بن وہمان بن غنم بن جہم بن ذبل بن جہنی بن بلی۔اسی طرح ابن مندہ اورابونعیم نے ان کا نسب بیان کیاہے۔یہ بلوی(یعنی خاندان بلی سے)ہیں اورصحابی تھے بیعت رضوان میں شریک تھے انھوں نے بھی اس دن بیعت کی تھی جولشکرمصرسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرہ کوآیاتھااور جس نے ان کوشہیدکیاتھایہ اس کے سردارتھے ان سے حصر کے تابعین کی ایک جماعت نے روایت کی ہے منجملہ ان کے ابوالحصین ہیثم بن سفیان اور عبدالرحمن بن شمامہ وابوثور فہمی ہیں ابن لعیہ نے عیاش ابن عیاش بن عباس سے انہوں نے حجری سے انھوں نے عبدالرحمن بن عدیس سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کے کچھ لوگ (جہاد کے لیے)نکلیں گے اور وہ کوہ خلیل میں قتل کیے جائیں گے چنانچہ جب فساد پیداہواتوابن عدیس بھی ان لوگوں میں تھے جن کو حضرت معاویہ نے گرفتارکیاتھااورشہرفلسطین۔۔۔
مزید
یہ غزوہ ٔ احد میں شریک تھے ہم نے ان کا نسب ان کے بھائی ثابت بن عدی کے بیان میں ذکرکیاہے جسرابی عبیدکے دن شہیدہوئے ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
مظعون حمجی ہیں ان کا نسب انشاء اللہ تعالیٰ ان کے والد کے تذکرہ میں بیان کیاجائےگا۔ ان کی اور ان کے بھائی سائب بن عثمان کی والدہ خولہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ بن اوقص سلمیہ تھیں ان عبدالرحمن کاکسی نے ذکرنہیں کیاہے اورمیں نے ان کوذکرکیاہے کیوں کہ ان کے والد نے مدینے ۲ ھ میں وفات پائی تھی اور ان کی والدہ مدینہ میں موجود تھیں پس بلاشک یہ عبدالرحمن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں موجودتھےاور کئی برس کا سن تھاواللہ اعلم۔ ۱؎ مظعون بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن لج بن عمروبن بصیس بن کعب بن لوئی بن غالب قریشی جمحی تھے ان کی کنیت ابوسائب تھی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
قریشی تیمی ہیں طلحہ بن عبیداللہ کے بھتیجے تھے ان کی والدہ عمیرہ بنت جدعان عبداللہ بن جدعان کی بہن تھیں واقعہ حدیبیہ میں اسلام لائے تھےبعض لوگ کہتے ہیں کہ فتح مکہ میں اسلام لائے تھےاورابوعبیدہ بن جراح کے ساتھ واقعہ یرموک میں شریک تھے معاذ اور عثمان ان کے بیٹے تھے ان دونوں نے ان سے روایت کی ہے اوران سے سعیدبن مسیب اورابوسلمہ اوریحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب نے روایت کی ہے یہ عبداللہ بن زبیرکے ساتھیوں میں سے تھے اور انھیں کے ساتھ شہیدہوئےعبداللہ ابن زبیرکے حکم سے یہ مسجد میں دفن کیے گئے اور ان کی قبرپوشیدہ کردی گئی پھرقبرپرگھوڑے دوڑائے گئے تاکہ اہل شام اس قبرکونہ دیکھیں ہم کومنصور بن ابی الحسن بن ابی عبداللہ مخزومی نے اپنی سندکواحمد بن علی بن متنی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوعبداللہ ابن دورقی نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے طالقانی یعنی ابراہیم بن اسحاق نے بیان کیا و۔۔۔
مزید