امیر خسرو سلطان الشعرا برہان الفضلا رحمۃ اللہ علیہ فضیلت و بزرگی میں متعقد میں و متاخرین سے سبقت لے گئے تھے اور باطن صاف رکھتے تھے آپ کی صورت و سیرت میں اہل تصوف کا طریقہ عیاں تھا اور اگرچہ بظاہر بادشاہوں سے تعلق رکھتے تھے لیکن حقیقت میں ان لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے جو تصوف کے رنگ میں ڈوبے ہوئے ہیں جیسا کہ فرمایا ہے۔ مراد اھل طریقت لباس ظاھر نیست کمر بخدمت سلطان بہ بند و صوفی باش یعنی اہل طریقت سے یہی مراد نہیں ہے کہ ظاہری لباس میں ان کی مشابہت کرے بلکہ حقیقت میں صوفی رہ گو بادشاہ کی خدمت میں کمر بستہ رہتا ہو۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار کو فرماتے سنا ہے کہ جس زمانہ میں امیر خسرو پیدا ہوئے ہیں ان کے والد امیر لاچین کے پڑوس میں ایک صاحب نعمت دیوانے کے پاس لے گئے دیوانہ نے امیر خسرو کو دیکھتے ہی فرمایا کہ امیر لا چین جس شخص کو تم میرے پاس لائے ۔۔۔
مزید
مشائخ کی صورت و سیرت رکھتے اور زہد و ورع تقوی و پرہیز گاری سے آراستہ تھے ایک نہایت مسن اور بوڑھے عزیز تھے اور جناب سلطان المشائخ کے مریدان سابق میں اعلی درجہ کے مرید تھے۔۔۔۔
مزید
یہ بھی بوڑھے عزیز تھے اور اپنے پیر کی بے انتہا محبت کی وجہ سے وطن مالوف اور شہر کو یک لخت ترک کر دیا تھا اور سلطان المشائخ کی محبت میں غیاث پور میں آ بسے تھے کاتب حروف ان بزرگ کو دیکھا ہے کہ ایک بوڑھے شخص تھے نورانی دراز قد کہ آپ کے اکثر کلمات و حکایت عشق سے لبریز تھے۔۔۔۔
مزید
علوم بسیار اور فضائل بے شمار کے ساتھ آراستہ تھے طبقہ خواجگان چشت قدس اللہ ارواحہم کے مشائخ کا شجرہ نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ عربی زبان میں نظم کیا۔۔۔۔
مزید
جنہیں لوگ فوق کہتے تھے یہ بزرگوار خزانہ علم کے مالک اور فضائل خاص کے سرچشمہ تھے تقوی و ورع میں کمال رکھتے تھے۔۔۔
مزید
ذوق و درد کی مجسم تصویر تھے۔ کاتب حروف نے اس بزرگ کو حالت سماع میں دیکھا ہے کہ آپ کے ذوق سماع اور جگر سوز گریہ تمام حاضرین مجلس کے دلوں میں اس قدر اثر کر دیا کہ کسی کو اپنے آپے تک کی خبر نہ تھی۔۔۔۔
مزید
ہیں یہ ایک بوڑھے عزیز تھے جو ارادت و بیعت میں اکثر یاران اودھ دسے سابق تھے اور بیشتر اوقات مشغول بحق رہتے تھے۔ شیخ نصیر الدین محمود جیسے بزرگ آپ کی تعظیم و تکریم میں حد کوشش کرتے تھے رحمۃ اللہ علیہما۔۔۔۔
مزید
ایک عمر رسیدہ عزیز تھے جو علم کامل اور زہد وافر اور ورع رکھتے تھے اور جن کی تعظیم و تکریم میں یاران اعلی انتہا درجہ کی کوشش کرتے تھے۔ کاتب حروف نے اس بزرگ کو شیخ نصیر الدین محمود کی مجلس میں دیکھا ہے کہ نہایت مصفا اور تقریر دلکشا رکھتے تھے رحمۃ اللہ علیہ۔۔۔۔
مزید
لطافت طبع اور فضائل خاص اور اعتقاد خوب کے ساتھ موصوف و آراستہ تھے۔ رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃً۔۔۔
مزید
علم وافی اور فضل کامل رکھتے اور زہد و ورع میں اپنا نظیر نہ رکھتے تھے۔ عشق مغرط اور رقص و بکا ذوق تمام کے ساتھ موصوف تھے۔۔۔۔
مزید