داؤد بن عثمان بن یعقوب رومی: شہاب الدین لقب تھا۔بڑے عالم متجر تھے،فقہ ایک جماعت کثیر فضلاء سے حاصل کی مدت تک قاہرہ میں درس و تدریس میں مصروف رہے اور محرم کے مہینے ۷۰۵ھ میں فوت ہوئے۔’’خواجۂ ملک‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
علی بن احمد بن علی بن یوسف المعروف بہ قاضی حصن: ۶۲۸ھ میں پیدا ہوئے کمال الدین لقب تھا،چونکی حصن کرادکی قضاء آپ کے سپرد ہوئی تھی اس لیے آپ قاضی حصن کے نام سے مشہور تھے۔وفات آپ کی ۷۰۳ھ میں ہوئی۔ ’’مجمع الحسنات‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
عبداللہ بن مظفر بن ابراہیم: رضی الدین لقب تھا۔اپنے زمانہ کے امام کامل،عالم فاضل،فقیہ نحوی تھے۔انشاء اور بلاغت میں آپ کو ید طولیٰ حاصل تھا، بہت سی کتابیں اور دیوان اشعار و کتاب انشاء و خطب وغیرہ تصنیف کیں۔علوم مختار بن محمود زاہدی تلمیذ عبدالکریم ترکستانی شاگرد دہقان کاسانی سے حاصل کیے اور آپ سے نجم الدین محمد بن ابی الثناء بغدادی اور بدرالدین محمود بن حسن بن علی عینی الشہیر کندی نے تفقہ کیا۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
قاضی محمد بن احمد عامری[1]: ابو عاصم کنیت تھی۔فقیہ فاضل اور دمشق کے قاضی تھے،آپ تصنیفات سے کتاب مبسوط تیس جلد میں یادگار ہے۔عامری طرف عامر بن لوی اور عامر بن صعصعہ اور عامر بن عدی کے منسوب ہے اور نیز عام ایک بطن قیس غیلان سے ہے۔ 1۔ عبادی ہروی(۳۷۵۔۴۵۱) بقول صاحب کشف الظنون شافعی تھے(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
احمد بن مسعود بن عبدالرحمٰن قونوی: ائمۂ کبار اور اعیان فقہاء میں سے نحوی،لغوی،اصولی تھے۔علم جلال الدین عمر خبازی شاگرد عبد العزیز بخاری سے حاصل کیا۔ابو العباس کنیت رکھتے تھے۔عقیدہ طحطاوی کی شرح لکھی اور امام محمد کی جامع کبیر کی بھی شرح تقریر نام چار جلد میں تصنیف کی مگر زندگی[1]نے وفانہ کی کہ اس کو کامل کر سکتے جس کو آپ کے بعد آپ کے بیٹے[2] نے پورا کیا۔ 1۔ وفات حدود ۷۳۲ھ’’ہدیۃ العارفین‘‘ 2۔ ابو المحاسن محمود بن احمد (ابن سراج) قونوی متوفی ۷۷۷ھ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
عبدالرحیم ابی بکر عماد الدین بن صاحب ہدایہ: ابو الفتح کنیت اور زین الدین لقب تھا۔فقہ اپنے باپ اور نیز حسام الدین علیا بادی سے حاصل کی اور ایک کتاب نہایت نفیس فقہ میں فصول عمادیہ نام تصنیف فرمائی جس کی تالیف سے سمر قند میں شعبان ۴۵۱ھ کو فراغت پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
میمون بن محمد[1]بن محمد بن معتمد بن محمد بن مکحول بن فضل مکحولی نسفی: ابو المعین کنیت تھی،امام فاضل،جامع فروع واصول تھے۔کتاب تبصرۃ الدولہ و تمہید قواعد التوحید اور کتاب المناہج اور شرح جامع کبیر وغیرہ تصنیف کیں اور علاء الدین ابو بکر محمد سمر قندی صاحبِ تحفۃ الفقہاء نے آپ سے تفقہ کیا۔ 1۔ ولادت ۴۱۸ھ،وفات ۵۰۸ھ،حدیقہ پنجم میں ان کے حالات ملاحظہ کیے جائیں۔(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
ابو القاسم تنوخی: اپنے زمانہ کے امام فقیہ،ادیب،محدث،مفسر تھے۔ علم حمید الدین ضریر متوفی ۶۶۷ھ تلمیذ شمس الائمہ کردری شاگرد صاحب ہدایہ سے پڑھا اور آپ سے شیخ وجیہ الدین دہلوی اور ملک العلماء سراج الدین سقفی دہلوی اور شمس الدین خطیب وغیر ہم نے فقہ پڑھی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
نظام الدین شاشی مصند مختصر اصول الشاشی: فقہ واصول میں فرید العصر وحید الدہر تھے۔اصول فقہ میں مختصر اصول الشاشی تصنیف کی اور اس کا نام خمسین رکھا اور اس نام رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ آپ کی عمر اس وقت پچاس سال کی تھی اور آپ نے یادگار کے طور پر اس کا نام رکھ دیا۔یہ کتاب آپ کی ایسی مقبول خاص و عام ہوئی کہ تدریس کی کتب میں داخل ہو گئی۔اس کی شرح ۷۸۱ھ میں مولیٰ محمد بن حسن خوارزمی[1]الشہیریہ بہ شمس الدین شاشی نے تصنیف کی۔ 1۔خمسین فی اصول الدین،امام فخر الدین رازی کی تصنیف ہے جس کی شرح محمد بن حسن خوارزمی نے لکھی ہے،اصول اسحٰق بن ابراہیم شاشی،متوفی ۳۲۵ھ کی تصنیف ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
یوسف بن محمد خوارزمی فیدی: بڑے عالم فاضل،فقیہ،مفسر،ادیب تھے صدر القراء خطاب اور رشید الائمہ لقب تھا،علوم مختار زاہدی سے پڑھے۔فیدی طرف فید کے منسوب ہے جو راستۂ حجاز وعراق میں ایک منزل کانام ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید