زاہد دہ بالی: بڑے عالم فاضل عابد،زاہد،پرہیز گار،مقبول الدعوات تھے۔لوگ آپ کو بڑا متبرک سمجھتے تھے۔پہلے قرمانیہ کے مشائخ کباراور فضلاء نامدار سے ملاقات کی اور مدت تک نجم الدین مختار زاہدی سے پڑھتے رہے اور فخر الدین بدیع بن منسور قزینی اور نیز سراج الدین قزینی سے اخذ کیا پھر شام کو تشریف لے گئے اور وہاں صدر الدین سلیمان بن وھب شاگرد حصیری تلمیذ قاضیخان سے فضیلت کا رتبہ اور کمالیت کا درجہ حاصل کیاپھر سلطان عثمان غازی جد سلاطین عثمانیہ سے ملاقات کی اور بادفشاہ کے حضور میں قبولیت کا درجہ پاکر اس کی بیٹی سے نکاح کیا جوآپ کی وفات سے ایک مہینہ پیشتر فوت ہوئی۔آپ مدت تک تدریس وافتاء میں مصرور رہے اور ایک سو بیس سال کی عمر میں ۷۲۶ھ میں فوت ہوئے۔’’دین پرست‘‘تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
ناصر الدین محمد بن عبدالرحیم بن علی بن حسین بن محمد بن عبد العزیز بن محمد مصری المعروف بہ ابنِ فرات مؤرخ،مدرس اور محدث تھے۔قاہرہ میں ۷۳۵ھ میں پیدا ہوئے۔ان کی تصانیف میں سے تاریخ الدول والملوک جو چاتھی سے آٹھوی صدی ہجری کے تفصیلی حالات پر مشتمل ہے،شائع ہو چکی ہے۔عید الفطر کی رات ۸۰۷ھ میں وفات پائی۔ان کے والدعز الدین ابو محمد عبد الرحیم بن علی فرات متوفی۲۲؍ذی الحجہ ۷۴۱ھ بھی مدرس،مفتی اور قاضی تھے۔ناصر الدین محمد بن فرات ۷۵۹ھ میں قاہرہ میں پیدا ہوئے۔امام معمر مسند،محدث اورمؤرخ تھے۔ طلب علم میں دور دروز کا سفر کیا۔اپنے والد اور حسین بن عبد الرحمٰن بن سباع تکرینی وغیرہ سے سماعت کی،ان کی تصانیف میں سے تذکرۃ الانام،منظومۃ الفرائد اور نخبۃ الفوائد مشہور ہیں۔آخری ذی الحجہ ۸۵۱ھ میں وفات پائی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔
مزید
حافظ امام قاضی ابو اسحاق ابراہیم بن معقل بن حجاج بن خراش بن یزید بن دوست سانجنی نسفی: محدث مفسر اور فقیہ تھے،نسف کے قریب قصبہ سانجن میں پیدا ہوئے،طفیل بن زید کے بعد اہل نسف کے امام اور قاضی بنے۔اہلِ سنت اور اصحاب حدیث میں جلیل القدر ثقہ فاضل شمار کیے جاتے تھے۔ان کی روایت کی بڑی شہرت تھی،خراسان،عراق،شام،حجاز اور مصر کا سفر کیا اور بڑے بڑے ائمہ مثل ابی رجا،قتیبہ بن سعید عسقلانی،ابی الحسن علی بن محمد سغدی،ابی ولید ہشام بن عمار دمشقی،محمد بن مصطفیٰ حمصی،ہنادبن سری،ابی کریب،محمد بن علاء کوفی اور ابی موسیٰ محمد بن ملثنی بصری سے ملاقات کی،امام احمد بن حنبل سے بھی ملے مگر ان سے روایت نہیں کی،امام بخاری سے صحیح بخاری روایت کرنے والے آخری آدمی ہیں، ذیقعد یا ذی الحجہ ۲۹۵ھ یا ۲۹۴ھ میں وفات پائی۔آپ کی تصانیف میں مسند کبیر اور۔۔۔
مزید
محمد بن عبدالرحمٰن بن محمد بن محمود سمر قندی سنجاری: شیخ کبیر،عالم متجر، فقیہ ذوالقدر تھے۔سمر قند میں ۶۷۵ھ میں پیدا ہوئے۔بہت سے بلاد امصار میں پھر کع علم کو حاصل کیا ور کمالیت کے رتبہ کو پہنچ کر ماردین،میں اقامت اختیار کی اور وہیں تدریس و تصنیف و افتاء کا کام دیا۔یہاں تک کہ ماہِ رمضان ۷۲۱ھ میں رحلت فرمائی۔ آرائش دہر‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔آپ کی تصنیفات سے کتاب عمدۃ الطالب لمعرفۃ المذاہب یادگار ہے جس میں آپ نے مذاہب اربعہ اور مذہب داؤد ظاہری اور شعیہ کو جمع کیا۔سمعانی نے لکھا ہے کہ سنجاری طرف سنجار کے منسوب ہے جو ایک شہر جزیرہ میں ہے جس کو سنجار بن مالک نے آباد کیا تھا مگر معلوم نہیں کہ صاحب ترجمہ شہر مذکور کی طرف کیوں منتسب ہوئے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن عبدالرحمٰن بن محمد بن محمود سمر قندی سنجاری: شیخ کبیر،عالم متجر، فقیہ ذوالقدر تھے۔سمر قند میں ۶۷۵ھ میں پیدا ہوئے۔بہت سے بلاد امصار میں پھر کع علم کو حاصل کیا ور کمالیت کے رتبہ کو پہنچ کر ماردین،میں اقامت اختیار کی اور وہیں تدریس و تصنیف و افتاء کا کام دیا۔یہاں تک کہ ماہِ رمضان ۷۲۱ھ میں رحلت فرمائی۔ آرائش دہر‘‘ آپ کی تاریخ وفات ہے۔آپ کی تصنیفات سے کتاب عمدۃ الطالب لمعرفۃ المذاہب یادگار ہے جس میں آپ نے مذاہب اربعہ اور مذہب داؤد ظاہری اور شعیہ کو جمع کیا۔سمعانی نے لکھا ہے کہ سنجاری طرف سنجار کے منسوب ہے جو ایک شہر جزیرہ میں ہے جس کو سنجار بن مالک نے آباد کیا تھا مگر معلوم نہیں کہ صاحب ترجمہ شہر مذکور کی طرف کیوں منتسب ہوئے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن احمد [1]بن ظہیر لارندی: شمس الدین لقب تھا۔بڑے فقیہ،خلافی، اصولی،عالم فرائض و حساب تھے۔فقہ صدر الدین سلیمان بن وہب سے حاصل کی اور آپ سے تاج الدین بن خلیل نے تفقہ کیا۔فرائض میں کتاب مسمی بہ ارشاد ذوی الابواب الیٰ معرفۃ الصواب اور کتاب ارشاد الراجی شرح فرائض سراجی اور شرح کتاب عروض اندلسی کی تصنیف کی اور ۷۲۰ھ یا ۷۲۵ھ کے قریب وفات پائی۔ ’’شہنشاہِ جہاں‘‘ تاریخ وفات ہے۔ 1۔محمود بن احمد’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب) حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
مولوی سلام اللہ بن شیخ الاسلام بن حافظ عبد الصمد فخر الدین محدث ازالاد شاہ عبد الحق محدث دہلوی،فقیہ فاضل،محدث کامل،مفسر متجر،علامۂ عصر، محقق،مدقق تھے۔علوم اپنے والد ماجد شیخ الاسلام مصنف شرح فارسی صحیح بخاری ورسالہ طرد الاوہام عن اثر الامام الہمام اور کشف الغطاء عما لزم للموتیٰ علی الاحیاء وغیرہ سے حاصل کیے اور انہیں سے اور نیز دیگر فضلائے عصر سے حدیث وغیرہ علوم کی سند و اجازت حاصل کی۔آپ کے جد امجد حافظ فخر الدین بھی بڑے فاضل اور عالم اجل اور سچ مچ کے فخر الدین والدنیا تھے،جن کی تصنیفات سے شرح فارسی صحیح مسلم اور فارسی شرح عین العلم اور شرح حصنِ حصین یادگار ہیں،غرض بعد تحصیل علوم کے آپ مسندِ افادت و افاضت پر متمکن ہوکر مثل ہوکر مثل اپنے اسلاف کے تنشیر علوم میں مشغول ہوئے اور ۱۲۲۵ھ یا بقول بعض ۱۲۳۳ھ کے ماہ جمادی ال۔۔۔
مزید
خطا ب بن ابی القاسم قرہ حصاری: شہر قرہ حصار میں جو قسطنطنیہ سے دس منزل کے فاسلہ پر ہے،پید اہوئے۔پہلے اپنے شہر کے علماء و فضلاء سے پڑھتے رہے پھر شام کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں کے علماء سے حدیث و قہ و تفسیر حاصل کی یہاں تک کہ اپنے زمانے کے افقہ اور امام محقق و مدقق ہوئے مدت تک تدریس و افتاء میں مصروف رہے۔۷۱۷ ھ میں کتاب خلافیات عمر نسفی کی نہایت مفید شرح تصنیف فرمائی،پھر اپنے شہر کو آپس آئے اور تھورے دنوں کے بعد وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
داؤد بن مروان بن ملطی: نجم الدین لقب تھا۔اپنے زمانہ کے امام فائق، فقیہ،اصولی تھے۔آپ سے فقہاء نے بڑا استفادہ کیا اور ۷۱۷ھ میں وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
داؤد بن اغلبک بن علی رومی المعروف بہ بدر الطویل: آپ نے مشہر قونیہ میں نشو ونما پایا اور جب دمشق میں آکر تیس برس تک رہے تو جلال الدین عمر خبازی سے تفقہ کیا پھر حلب کو گئے اور وہاں پندرہ برس تک درس و تدریس میں مصروف رہے بعد ہ قلعہ مسلمین کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں ۷۱۵ھ میں وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید