جمعہ , 14 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 01 May,2026

حافظ حاجی شاہ بخش رحمتہ اللہ علیہ

  فرزندچہارم میاں سلطان فضل بن سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ بیعت اپنےوالد کے ماموں میاں سلطان علی بن عبدالغفور بن غلام مصطفےٰ وڑائچ جھنگیوالہ رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل تھی۔وہ مرید میاں سلطان ملک موصوف کے۔ حج وزیارات آپ صاحب علم وعمل کلام اللہ شریف کے حافظ۔فقیر کامل۔امیرانہ مزاج تھے۔آپ نے حج حرمین الشریفین کیا۔بغداد شریف میں حضرت غوث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ عالی پر گوشہ نشین رہےاور نجف اشرف میں درگاہِ مرتضوی پر بھی چلہ کیا۔چالیس سال تک طعام نہ کھایا۔پھرجناب غوثیہ سے امرہواتوکھانے لگے۔احمد آباداور سندھ حیدرآبادکے نواب آپ کے ارادت مندوں میں سے تھے۔ آپ کی اولاد باقی نہ رہی۔ یارانِ طریقت آپ کے خواص احباب یہ تھے۔ ۱۔میاں اخلاص محمد برادرکلاں                    &۔۔۔

مزید

میاں اخلاص محمّد رحمتہ اللہ علیہ

  فرزند سوم میاں سلطان فضل بن سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ ۔بیعت و خلافت اپنے چھوٹے بھائی میاں شاہ بخش بن سلطان فضل سے رکھتے تھے۔ اعمال صالح آپ امیرانہ مزاج درویش تھے۔شریعت کے پابند ۔عابد۔متورع۔متقی۔ زاہدتھے۔آپ کا قلب ذاکرتھا۔علم توحیدمیں آپ کاکلام عالی تھا۔ اولاد آپ کےایک ہی فرزند میاں لدھے شاہ تھے۔ ؎         میاں لدھے شاہ اہل توحید وفقرتھے۔ان کا ایک درویش سائیں بدرالدین کشمیری گجراتی صاحب ذکروفکرتھا۔ان کے تین بیٹے ہوئے۔میاں شہسوار۔میاں محمد حسین ۔میاں فضل حسین۔ ؎         میاں شہسوار مہمان خلیق و لئیق تھے۔جوانی میں انتقال کرگئے۔ان کے تین بیٹے ہیں۔           صاحبزادہ غلام سرور ۔صاحبزادہ محمد شفیع ۔صاحبزادہ نذرمحی الدین ۔تینوں موجودہیں۔ ؎&n۔۔۔

مزید

میاں رستم علی رحمتہ اللہ علیہ

  فرزند ثانی میاں سلطان فضل بن سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ ۔خرقہ خلافت و اجازت اپنے چچامیاں سلطان مست رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ اخلاق آپ بڑے بہادرشاہ زورتھے۔دنیاکو ترک کرکے فقیر ہوگئے۔خوش آواز بحد کمال تھے۔ ستار کے ساتھ گایاکرتے تھے۔سامعیں کو بہت تاثیرہواکرتی۔ریاست مالیر کوٹلہ کانواب آپ کامرید تھا۔ مدفن میاں رستم علی ریاست مالیر کوٹلہ میں فوت ہوئے۔کوئی اولاد باقی نہیں۔بیان کیاجاتاہے کہ آپ کی قبرفرشتوں نے بنائی تھی۔ وفات  ۱۳۲۳ھ؁۔ فائدہ۔ مردانِ غیب یاملائکہ کابزرگوں کے ساتھ ایسی خدمات کرناکتب تاریخ و تصوّف سے ثابت ہے۔چنانچہ ۱۔خواجہ مودودچشتی کاجنازہ مردانِ غیب نے پڑھااورغائب ہوگئے۔۱؎ ۲۔شاہ جمال قادری کوملائکہ نے دفن کیا۔کسی کو خبرنہ ہوئی۔۲؎ ۱؎تذکرہ اولیائےہندجلد۱ص۲۱۔۲؎تذکرہ جلد۳ص۱۶۶۔شرافت   (سریف التوایخ جلد نمبر ۲)۔۔۔

مزید

میاں غلام حیدر

  فرزند اکبرمیاں سلطان فضل بن سلطان ملک بن سلطان محمد نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ خرقہ خلافت و ارشاداپنے حقیقی چچامیاں سلطان مست سے حاصل کیا۔ تعلیم آپ نے ظاہری علم وزیرآباداورکشمیر سے حاصل کیا۔فن کتابت بھی سیکھا۔ اپنےدادا کے نہایت منظورِ نظر تھے۔خوش آوازی اس قدر تھی کہ سنگدل کوبھی اثر ہوجاتا۔ قرآن مجید باقرأت پڑھتے۔نماز می جماعت بھی کرایاکرتے۔ اشغال وعبادات آ پ نے نفس کشی کے لیے بہت ریاضتیں اورمجاہدے کئےچند چلے بھی کیے۔ ایک چلہ مکیانہ متصل گجرات میں کاٹا۔ایک چلہ جید پور۔ایک بالوضع جالندھرمیں۔آپ صائم الدہرقائم اللیل تھے۔تہجّد کاکبھی ناغہ نہ کرتے۔مرتبہ فنافی الرسول آپ کو حاصل تھا۔ کرامات حج میں شامل ہونا منقول ہے کہ ایک بارآپ لدھیانہ میں تشریف فرماتھے حج کا دن آگیا۔آپ نے فرمایامجھےایک حجرہ کے اند ر بند کردو۔ذرادیر کے مَولے شاہ درویش نے اندرجھانکاتوحجر ہ بالکل خالی پایا۔حاضرین نہای۔۔۔

مزید

میاں پریم شاہ

  آپ میاں سلطان مست بن سلطان ملک نوشہروی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔۱۲۷۴ھ؁ میں پیدا ہوئے۔ بیعت و خلافت سائیں الٰہی بخش درویش شاہ پوری سے رکھتے تھے۔وہ مرید میاں سلطان مست کے تھے۔ علم وفضل آپ نے تعلیم مولوی محمد ابراہیم قادری فاضلی امام مسجد نوشہرہ سے پائی۔ صرف  نحو بھی پڑھی۔آپ کی وعظیں موثرہوتی تھی۔آپ کی تقریرسے متاثر ہوکرحکیم نورالدین بھیروی خلیفہ اوّل مرزاغلام احمد قادیانی نے آپ کو اپنی بیٹی کارشتہ دیناچاہا۔لیکن آپ نے اُس کی بدمذہبی کے باعث قبول نہ کیا۔ سیروسیاحت آپ اکثر سیروسیاحت کیاکرتے۔بُھورے کا کرتہ پہنتے۔اسم اعظم غوثیہ کا اکثر وِرد رکھتے۔جہاں جاتے لوگوں کا ہجوم آپ کے پاس جمع ہوجاتا۔ اولاد آپ کی نرینہ۱؎اولادنہیں ہوئی۔صرف دوبیٹیاں تھیں۔بڑی صاحبزادی کانام غلام فاطمہ تھا۔جومیاں محمد فاضل بن غلام مصطفےٰ کی منکوحہ تھیں۔انہوں نے ۱۳رمضان ۱۳۳۴ھ؁ کوانتقال کیا۔ ۱؎میاں پریم شاہ ک۔۔۔

مزید

میاں غلام مصطفےٰ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں سلطان مست بن سلطان مُلک نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے پانچویں بیٹے تھے۔۱۲۷۱ھ؁ میں پیداہوئے۔گیارہ سال کے تھے۔کہ والدبزرگوار کاانتقال ہوگیا۔اس لیے اپنے بڑے بھائی میاں غلام حسن رحمتہ اللہ علیہ کی گود میں پرورش پائی۔ بیعت وخلافت آپ جب نوجوان ہوئے توراہِ حق کاشوق ہوا۔تو موضع رَن مل میں حاضر ہوکر سید کرم الٰہی بن سید حیدر شاہ نوشاہی ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے مُرید ہوئےاور کچھ ذکروشغل کے طریقے حاصل کئے۔ شجرۂ بیعت آپ مریدسید کرم الٰہی ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ کے وہ مریدشیخ غلام حسن رحمتہ اللہ علیہ سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے۔ اس سے اُوپر شجرہ آپ کے بڑے بھائی میاں غلام حسن نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے ذکرمیں لکھاگیاہے۔ پرہیزگاری آپ علم دوست تھے۔شریعت کے پابند ۔نماز پنجگانہ ،نوافل تہجدپر مواظبت رکھنے والے۔درود شریف کبریت احمر کاوظیفہ پڑھاکرتے ۔آپ جب مرض الموت میں بیمار ہوئ۔۔۔

مزید

میاں وسّن رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کانام غلام حسین المعروف میاں وسّن تھا۔آپ میاں سلطان مست بن میاں سلطان مُلک نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ  کے چوتھے بیٹے اور مریدو خلیفہ تھے۔ چلّہ نشینی ابتدائے احوال میں آپ نے کئی چلے کاٹے۔ایک چلّہ میرپور ریاست جمّوں میں کاٹا۔شریعت کے پابند تھے۔ قید ہونا آپ نے ایک کھتری ساہوکارکا قرضہ دیناتھا۔اس نے آپ کو تنگ کیا۔آپ  نے اُس کے بہی کھاتہ کا ساراسامان رجسٹر وغیرہ جلادیا۔اُس نے آپ پر مقدمہ کردیا۔چنانچہ سات سال قید ہوگئے۔ جِسم کا سالم رہنا منقول ہے کہ آپ کی وفات سے گیارہ برس بعد نوشہرہ دریابردہوااور بزرگانِ سچیاریہ کے مزارات منتقل کئے گئے۔آپ کی زیارت ہوئی۔جسم  بلکل صحیح وسالم تھا۔ اولاد آپ کا بیٹا میاں شہسوار نام تھا۔جوبچپن میں آپ کے سامنے فوت ہوگیا۔ یارِ طریقت آپ کا ایک مُریدسائیں مُسَلَّم اعوان ساکن کَمّے ،تحصیل کھاریاں ضلع گجرات تھا۔ تاریخ وفات میاں وسّن کی وفا۔۔۔

مزید

میاں غلام حسن رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں سلطان مست بن سلطان ملک کے تیسرے بیٹے تھے۔بیعت وخلافت سید سلطان بالابن سیدسلطان محمود ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سےرکھتے تھے۔جن کاذکرتیسرے طبقہ کے آٹھویں باب میں گذرچکاہے۔ شجرہ بیعت آپ مرید سید سلطان بالا نوشاہی ہاشمی کے ۔وہ مرید شیخ غلام حسن سلیمانی بھلوالی کے۔وہ مریداپنےبھائی شیخ احمد الدین سلیمانی کے ۔وہ مرید اپنے چچاشیخ نظام الدین سلیمانی گھنگوالی کے۔وہ مرید اپنےبرادرعم زادشیخ بڈھابن شیخ فیض شیخ سلیمانی بھلوالی رحمتہ اللہ علیہ کے۔ اس کے آگے شجرہ ذکر حضرت سلطان مست میں گذرچکاہے۔ ۱؎میاں سلطان بالانوشہروی رحمتہ اللہ  علیہ کاکچھ ذکر شریف التواریخ کی تیسری جلدموسوم بہ تذکرۃ النوشاہیہ کے ساتویں حِصّہ مناہض الآثارنام میں لکھاجائےگا۔شرافت چلہّ  نشینی آپ کامزاج امیرانہ تھا۔صاحب شریعت تھے۔اپنے والد کے منظور نظر ۔ گویا کہ وہ آپ  پر عاشق تھے۔اوائل میں آپ نے د۔۔۔

مزید

میاں سلطان بالارحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں الٰہی بخش بن میاں پیربخش نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند یگانہ اورمریدوخلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ اخلاق وعادات آپ صاحب حسن خلق ۔دنیاوی امورمیں لائق ۔فن شہسواری کے ماہر تھے۔آپ کودس روپیہ روزینہ ملتاتھا۔کشف قبورکامقام بھی آپ کو حاصل تھا۔ حصولِ اولاد منقول ہے کہ آپ کے ہاں اولادنہیں ہوتی تھی ۔ایک روزحضرت شاہ دَولہ گجراتی رحمتہ اللہ علیہ کے مزارپرمراقبہ کیااوراُن کی روحانیت سے اولادکے واسطے درخواست کی۔ انہوں نےایک لڑکاسرسے پکڑکرآپ کو عنایت کیا۔اُسی وقت حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کی رُوح مبارک سامنے آگئی کہ  یہ ہمارامرید ہے ۔اس کولڑکاہماری وساطت سے عنایت ہوگا۔چنانچہ اس کے بعد آپ کے ہاں میاں میراں بخش پیداہوئے ان کے جسم میں دونوں بزرگوں کی نشانیاں موجود تھی۔شاہ کادَولہ رحمتہ اللہ علیہ کانشان یہ کہ ان کاسَر چھوٹا تھااورحضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ صاحب کا نشان یہ۔۔۔

مزید

میاں اکبرعلی دَڑوہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ میاں سلطان حاجی بن میاں سلطان شاہ سچیاری رحمتہ اللہ علیہ ساکن دَڑوہ کے اکلوتےبیٹے تھے۔ آپ کی بیعتِ طریقت سیّد نظام الدین بن سیّد سبحان علی ہاشمی رنملوی سے تھی۔جن کا ذکر تیسرے طبقہ کے ساتویں باب میں گذرچکاہے۔ شجرۂ بیعت آپ مرید سیّد نظام الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید سید قدم الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے ۔وہ مرید اپنے والد سیّد عزیزاللہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ  کے۔وہ مرید اپنے والد سید براہم شاہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید اپنے ہم جدی چچاسید عصمت اللہ حمزہ پہلوان برخورداری رحمتہ اللہ علیہ کے ۔وہ مرید شیخ عبدالرحمٰن پاک صاحب بھڑیوالہ رحمتہ اللہ علیہ کے۔وہ مرید قطب الاولیأ حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ کے۔ فیضان کثیر آپ سادہ مزاج مجذوب اطوار تھے۔صائم الدہررہتے۔علاق کوہستان میں آپ کافیض عام تھا۔جمّوں سے لے کر پونچھ تک مخلوقِ خدا آپ سے فیض یاب ہوئی۔صاحب خو۔۔۔

مزید