جمعرات , 13 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Thursday, 30 April,2026

سیّد محمّد ماہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد عبدالقادر بن سیّد فیض اللہ کے فرزند اورمُریدوخلیفہ تھے۔علم ظاہری وباطنی میں مقتدائے خلائق تھے۔فن کتابت بھی سیکھاتھا۔کئی تحریرات آپ کے خاندان سادات میں موجود ہیں۔عملیات کے بھی شائق تھے۔آپ کئی تعویذات بھی بیاضوں میں موجود ہیں۔ تحریرکتب آپ کے ہاتھ کالکھاہواایک فالنامہ پیغمبراں موجود ہے۔شنگرف موجود نہ ہونے کےباعث پیغمبروں کے نام سبز رنگ سے لکھے ہیں اور جس دوست کے واسطے لکھاہے۔اس کے آگے ان الفاظ میں عذرخواہی کرتے ہیں۔ "عرضداشت۔بندۂ کمترین بندگان وکہترین غلاماں فقیرالحقیر محمد ماہ بعداز کورنشات سجدات عبودیت بجاآوردہ معروض میدارد کہ رنگ شنگرف موجود نبودولیکن نامہائے پیغمبراں نوشتہ ارسال داشتہ است کہ خود قلمی نماینددرفہمیدگی خواہند آمد۔" واقعہ وفات منقول ہے کہ آپ قندھار میں مرید و ں پر گئے ہوئےتھے۔وہاں آپ کا انتقال ہوگیا۔وہیں دفن کئے گئے۔بعد میں آپ کے چچا سید احمد اور سید۔۔۔

مزید

سیّد عبدالواسع رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کا نام عبدالواسع۔مشہور سیَدواسا۔آپ سیّد فیض اللہ بن سیّد صالح محمد قادری نوشاہی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ بیعت طریقت آپ کی بیعتِ طریقت حضرت سیّد محمد سعیددُولا بن سیّد محمد ہاشم دریادل بن حضرت نوشہ گنج بخش  رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن ذکر تیسرے طبقہ  کےتیسرے باب میں گذرچکا ہے۔ لیکن آپ کی اولاد کادعوےٰ ہے کہ آپ اپنے بڑے بھائی سیّد محمد ظریف بن سیّد فیض اللہ کے مرید تھے۔مگرآپ کے سلسلہ کے کلّو شاہی درویش آج تک وہی شجرہ سیّد محمد سعید والاپڑھتے ہیں۔ سجادگی آپ اپنے سب بڑے بھائیوں سے زیادہ پرہیزگاراور متقی تھے۔ابھی چھوٹے ہی تھےکہ والد صاحب کاانتقال ہوگیا۔آپ اپنے بھائی کلان کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔بلکہ آپ نے یہاں تک شہرت حاصل کی کہ اپنے جد بزرگوار سیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ سے بھی زیادہ ناموری پائی۔ اخلاق وعادات آپ عبادت وریاضت میں ہر وقت سرگرم رہتے۔تمام برادران ہمج۔۔۔

مزید

سیّد عبدالواسع رحمتہ اللہ علیہ

  آپ کا نام عبدالواسع۔مشہور سیَدواسا۔آپ سیّد فیض اللہ بن سیّد صالح محمد قادری نوشاہی کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ بیعت طریقت آپ کی بیعتِ طریقت حضرت سیّد محمد سعیددُولا بن سیّد محمد ہاشم دریادل بن حضرت نوشہ گنج بخش  رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن ذکر تیسرے طبقہ  کےتیسرے باب میں گذرچکا ہے۔ لیکن آپ کی اولاد کادعوےٰ ہے کہ آپ اپنے بڑے بھائی سیّد محمد ظریف بن سیّد فیض اللہ کے مرید تھے۔مگرآپ کے سلسلہ کے کلّو شاہی درویش آج تک وہی شجرہ سیّد محمد سعید والاپڑھتے ہیں۔ سجادگی آپ اپنے سب بڑے بھائیوں سے زیادہ پرہیزگاراور متقی تھے۔ابھی چھوٹے ہی تھےکہ والد صاحب کاانتقال ہوگیا۔آپ اپنے بھائی کلان کے بعد سجادہ نشین ہوئے۔بلکہ آپ نے یہاں تک شہرت حاصل کی کہ اپنے جد بزرگوار سیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ سے بھی زیادہ ناموری پائی۔ اخلاق وعادات آپ عبادت وریاضت میں ہر وقت سرگرم رہتے۔تمام برادران ہمج۔۔۔

مزید

سیّد عبدالہادی رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد فیض اللہ بن سیّد صالح محمد قادری نوشاہی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے اورمریدو خلیفہ تھے۔صاحب علم و فقر و زہدوورع تھے۔فن کتابت بھی سیکھاہواتھا۔آپ کے ہاتھ کی بعض تحریرات خاندان کے گھروں میں موجودہیں۔ دستی تحریر آپ کے ہاتھ کی ایک غزل فارسی میں لکھی ہوئی ہے۔جو عارف کی ہے ۔وہ یہ ہے۔ غزل "دلاہُشدارکارےکن کہ وقتِ مرگ درپیش ست "دلاہُشدارکارےکن کہ وقتِ مرگ درپیش ست زچنگالش رہائی نیست ہر کس راکہ جاندارست زناخن ہائے تیزے اوہمہ کس رادلے ریش ست چووقتِ مرگ پیش آید نباشد کس مراہمدم بجزحسناتِ توایدل چہ جائے ہمدم و خویش ست چودرقبرت فرودآرند خویشاں باز پس بروند بمنکربانکیرت ہم سوائے پیش درپیش ست سلیم القلب مے باید کہ ثابت تر بود آنجا کجاثابت شود آنکس کہ اینجامردِبدکیش ست نمے بینم کسے دلخوش زہولِ آن قیامت ہا زاہوالش ہمہ خائف اگرچہ شاہ ودرویش ست ۔۔۔

مزید

سیدمحمد ظریف رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد فیض اللہ بن سیّد صالح محمد چک سادہ والہ رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے اورمریدو خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ فضائل آپ صاحب علم و فضل مقتدائے روزگار،اہل شریعت و طریقت تھے۔ ہزاروں  مخلوق آپ کے فیض سے سیراب ہوئی۔خوارق و کرامات آپ سے ظاہر ہوتی تھیں۔ مستجاب الدعوات تھے۔حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی پیشگوئی کے مطابق ولی کامل ہوئے۔ بھائی پرجان فداکرنا منقول ہے کہ آپ کے چھوٹے بھائی سیّد عبدالواسع ایک مرتبہ اس قدر بیمار ہوئےکہ زندگی کی اُمید منقطع ہوگئی۔والدہ ماجدہ رونے لگیں۔آپ نے ان کا اضطراب دیکھ کرکہا۔ مائی صاحبہ۔آپ کو عبدالواسع کی محبت کافی ہے۔اوراس کی جدائی آپ کو سخت ہے۔اس لیے اُس پر میں اپنی جان فداکرتاہوں۔یہ کہہ کرآپ چارپائی پر لیٹ گئےاورجان بحق تسلیم کی اور سیّد عبدالواسع اُسی وقت اٹھ بیٹھےاورعرصہ دراز تک زندہ رہے۔ وفات کے بعد زندہ ملنا آپ نے اپنی وفات کے وقت اپنی ۔۔۔

مزید

سیّد شیر محمد رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد صالح محمد قادری نوشاہی کے فرزند اصغر اور مرید وخلیفہ تھے۔صاحب فقر و درویشی ومقامات ارجمند تھے۔ اخفائے احوال آپ اپنے حالات چھپانے میں بہت کوشش کرتے۔اپنے والد بزرگوار کے طریقہ پر پورےپورے کاربند تھے۔جیساکہ رسالہ احمد بیگ میں ہے۔"اکثر وضع ولینعمی خوددارند"۔ اکثر لوگ آپ کے ساتھ اعتقاد اورامارات رکھتے تھے۔ آپ ۱۱۰۷ھ؁ میں موجود تھے۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزند سیّد محمد امین تھے۔ ؎         سیّد محمد امین ۔اہل علم و فضل اور یگانہ روزگارتھے۔تمام عمر درس وتدریس میں گذاری فقیہ و محدث تھے۔کہتے ہیں کہ کسی فقہ کی کتاب پر ان کا عربی حاشیہ ہے۔ان کے دو بیٹے تھے۔سیّد اللہ نور۔سیّد گل محمد لاولد۔ ؎         سیّد اللہ نور کے دوبیٹے تھے۔سیّد محمد شاہ ۔سیّد عمر شاہ لاولد۔ ؎       &n۔۔۔

مزید

سید فیض اللہ

  آپ شاہبازِ اَوجِ سیادت،اخترِ بُرجِ سعادت۔سادات صالحیہ سےصاحب کرامت و شرافت تھے۔ حضرت سیّد صالح محمد قادری نوشاہی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداکبر اور مرید و خلیفہ و سجادہ نشین تھے۔ تحصیل علوم و فضائل آپ نے ظاہری تعلیم مولانا عبدالحکیم سیالکوٹی رحمتہ اللہ علیہ سے پائی۔ایک بارحضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ بمعہ یارانِ خواص سیالکوٹ تشریف لے گئے آنجناب پلنگ پر بیٹے تھے۔مولوی صاحب اور سیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ نیچے صف پر بیٹھے تھے۔ اتنے میں سیّددریادل اور آپ آگئےاورسلام و آداب کیا۔مولوی صاحب اور شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے سیّد دریادل رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے پاس بٹھالیا۔چونکہ جگہ تنگ تھی۔اس لیے آپ کھڑے رہے۔حضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے دیکھ کرفرمایا۔میاں فیض اللہ تم ہمارے پاس بیٹھ جاؤ۔ آپ نےعرض کیا۔یاقبلہ ۔میری کیامجال ہے کہ میں حضور کے برابر بیٹھ سکوں۔نیزسیّد دریادل اور ۔۔۔

مزید

سیّد عاشق محمد بن باجواہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  آپ سیّد عبدالوہاب ثانی بن سیّد شاہ روح اللہ عرف شہراللہ رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر تھے۔اپنے بڑے بھائی سیّد صالح محمد رحمتہ اللہ علیہ کی وساطت سے حضرت نوشہ گنج بخش رحمتہ اللہ  علیہ کی خدمت میں پہنچ کر بیعت و خلافت سے مشرف ہوئے۔آپ کانام تذکرہ نوشاہیہ میں خلفائے نوشاہ عالیجاہ رحمتہ اللہ علیہ کی فہرست میں آتاہے۔ اخلاق آپ زاہد عارف کامل تھے۔علم ظاہروباطن میں یگانہ وقت تھے۔بہت مخلوق آپ کے ذریعہ سے واصل الی اللہ ہوئی۔ بَن باجواہ میں وَرُود آپ چک سادوسے رہائش منتقل کرکے بَن باجواہ  ضلع سیالکوٹ میں تشریف لے گئے۔وہاں اُس علاقہ میں آپ کے ارادت مندوں کی کافی تعدادتھی۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ۱۔سیّددائم شاہ۔ ۲۔سیّد قائم شاہ لاولد۔ ؎         سیّد دائم شاہ کے ایک ہی فرزند سیّد داؤد شاہ تھے۔ ؎       &nbs۔۔۔

مزید

حضرت سید صالح محمد چک سادہ والہ رحمتہ اللہ علیہ

  ؂ درمناقب سیّد صالح محمد پاک ذات آنکہ نسبت پاکِ اوازحیدرِ کرارداں اوصاف ِجمیلہ آپ عارف ربانی ۔تارک لاثانی۔منبع اسراریزدان۔مخزنِ انوارِ رحمان ۔ صاحبِ کرامات  عالیہ ومقاماتِ رضیہ ۔صاحب ذوق وشوق و عشق و محبت تھے۔سیّد العارفین حضرت سید حافظ حاجی محمد نوشہ گنج بخش قادری قدس سرہ العزیزکے بزرگ خلیفوں اور ناموریاروں میں سے تھے۔ نام و لقب آپ کانام نامی صالح محمد ۔لقب مقرب حق تھا۔ نسب نامہ آپ کے خاندان کی قلمی تحریرات آپ کانسب نامہ اس طرح پرتحریر ہے۔ سیّدصالح محمد بن سید بن عبد الوہاب ثانی سید شاہ روح اللہ عرف شہراللہ بن سیّد جمال بن سیّد محمود عرف محمد کلان بن سیّد عمربن سیّد حامد گنج بخش کلان بن سیّد عبدالرزاق بن سیّد عبدالقادرثانی  بن مخدوم سیّد محمد غوث الحسنی اوچی رحمہم اللہ۔۱؎ ۱؎سوانحعمری سید جلال ص۴۔سیّد شرافت تحقیق ِنسب یہ  سلسلہ نسب علم لاانساب اورعلم تا۔۔۔

مزید

میاں شاہ محمد رحمتہ اللہ علیہ

  فرزند اکبرمیاں مردان علی  بن غلام حیدر بن سلطان فضل نوشہروی رحمتہ اللہ علیہ ۔بیعت و خلافت اپنےداداسےبلاواسطہ پائی۔ صفات و کمالات آپ صاحب علم ۔نیک خلق ۔متشرع درویش تھے۔اپنے آباو اجداد کے طریقہ پر کاربند ۔آپ کا چہرہ روشن منوّر تھا۔دیکھنے سے آثار رشدوہدایت مترشح ہوتے تھے۔ خاندانی روایات خاندان سچیاریہ کی روایات  کاکافی ذخیرہ آپ کے حافظہ میں جمع تھا۔اولاد سلطان  ملک کے حالات میں نے آپ کی زبان سے ہی اِس کتاب میں درج کئے۔آپ میرے ساتھ نہایت خلوص ومحبت رکھتے تھے۔ مریدوں کادَورہ آپ کے ارادت مندوں کا سلسلہ اکثر ریاستِ کپور تھلہ میں تھا۔اُس علاقہ کا آپ دَورہ کیاکرتے۔ اولاد آپ کے تین بیٹے ہوئے۔ ۱۔صاحبزادہ فیض محمد۔ ۲۔صاحبزادہ محمد شفیع ۔ ۳۔ صاحبزادہ محمد فاضل۔ ؎         صاحبزادہ فیض محمد۔فقیر سیّد شرافت سے بہت محبّت رکھتے تھے۔علاق۔۔۔

مزید