آپ کانام بعض تحریروں میں غلام رسول اوربعض جگہ غلام شاہ لکھاہے۔آپ سیّد حسن محمد بن سیّد خان مُلک ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزنداصغر اور مریدوخلیفہ تھے۔بقول دیگرشیخ گوہرشاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ کی بیعت سے مشرف تھے۱؎۔ تاریخ ولادت آپ کی ولادت ۲۹ ربیع الاوّل ۱۲۱۹ھ کو ہوئی۔ تعلیم آپ نے علم ظاہری اپنے عم عالی قدرسّد عظیم اللہ بن سیّد خان مُلک سے پڑھا۔بارہ سال ترک و تجرید میں گذارے۔علاقہ راجوری کے کئی ہندوآپ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔آپ ماہ ذی الحجہ ۱۲۸۰ھ میں موضع رن مل سے چل کرموضع ٹھیکریاں علاقہ راجوری میں چلے گئے۔ اولاد آپ کے دوبیٹے تھے۔ ۱۔سیّدغوث محمدرحمتہ اللہ علیہ م ۳۰ذیقعد۱۳۵۶ھ۔ان کے ایک فرزندسیّد نواب الدین رحمتہ اللہ علیہ تھے ۔ ۲۔سیّد گلاب دین رحمتہ اللہ ۔ان کا ذکرآٹھویں باب میں آئے گا۔ یاران طریقت آپ کے مریدوں میں سے سیّد قلندرشاہ رحمتہ اللہ علی۔۔۔
مزید
آپ سیّد حسن محمد بن سید خان ملک ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسر ے بیٹے تھے۔خرقہ خلافت واجازت شیخ گوہرشاہ بن شیخ ماہی شاہ سلیمانی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ علم وفضل آپ صاحب علم و حلم ۔فاضل جیّد،علامہ وقت تھے۔علاقہ راجوری ۔ ریاست جمّوں میں سکونت رکھتے تھے۔اس دیارمیں آپ کا فتوےٰ مقبول تھا۔فن طبابت میں بھی کامل تھے۔آپ کے ہاتھ سے اکثر مریض شفاپاتے تھے۔قصیدہ غوثیہ کے عامل تھے۔ سادات و مشائخ پر احسان منقول ہے کہ سیّد حسن شاہ بن سیّد محمد شاہ ساکن چک سادہ کوراجوری ریاست جمّوں میں پانسوبیگہہ زمین جاگیر ملی ہوئی تھی ۔جب ان کا انتقال ہو۔توساداتِ کھنکھڑی نےاُن کے بیٹے سیّد قلندرشاہ رحمتہ اللہ علیہ کو جاگیر سے جواب دے دیا۔وہ آپ کے آگے التماس لائے۔آپ نے اُن سے مختارنامہ لکھوالیااورمقدمہ چلادیا۔جب تاریخ پر میاں ہاٹھواہلکارکے پیش ہوئے اس روز تحصیل راجوری کے تمام سادات ومشائخ وہاں حاض۔۔۔
مزید
آپ سیّد نورعلی مجذوب بن سیّد خان عالم رحمتہ اللہ علیہ کے اکلوتے بیٹے اورمریدو خلیفہ تھے۔آپ کی والدہ کا نام سیّدہ فضل بی بی بنت سیّد عبدالرسول بن سیّد محمدسعیددولاہاشمی رحمتہ اللہ علیہم تھا۔ درگاہ غوثیہ میں منظوری آپ ابھی نابالغ تھے کہ آپ کے والد صاحب کا دنیاسے انتقال ہوا۔ اُ ن کی وفات کے وقت درویشوں نے عرض کیاکہ آپ سفرِ آخرت فرمارہے ہیں اور صاحبزادہ حسن محمد ابھی چھوٹےہیں۔ان کا کیا حال ہوگا۔انہوں نے فرمایاکہ اس کی سپرد حضرت غوث اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی جناب میں کردی ہے۔وہ اِ س کے ظاہری وباطنی تربیت کے کفیل اور ہر مشکل میں مددگارہوں گے۔آپ ۱۲۳۳ھ میں بلوارعلاقہ جمّوں چلے گئے۔ وفات کے بعد کرامت وظیفہ بتلانا منقول ہے کہ سیّد گامے شاہ بن سیّد ناصرالدین ہاشمی رنملوی رحمتہ اللہ علیہ اکثر وظائف پڑھاکرتے۔لیکن کشود کارنہ ہوتا۔ایک دفعہ خواب میں آپ کی زیارت ہوئی۔آپ نے فرمایادعائے ۔۔۔
مزید
آپ سیّد سبحان علی بن سیّد خان عالم ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے چوتھے بیٹے تھے۔رَن مل میں سکونت رکھتے۔نیک بخت صالح مردتھے۔ بیویاں آپ کی دو شادیاں ہوئیں۔ ۱۔پہلی شادی نویں ماہِ پھاگن ۱۸۸۳بکرمی مطابق اتوار ۲رجب ۱۲۴۰ھ کو۔ ۲۔دوسری شادی۔پندھرویں ہاڑ ۱۸۹۵ بکرمی مطابق جمعرات ۵ ربیع الآخر ۱۲۵۴ھ کو۔ اولاد آپ کے ایک ہی فرزندسیّد غلام محمد المعروف گامے شاہ رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ سیّدناصرالدین کی قبرگورستانِ نوشاہیہ میں ہے۔ وفات ۱۲۹۵ھ۔ (سریف التواریخ جلد نمبر ۲)۔۔۔
مزید
آپ سیّد سبحان علی بن سیّد خان عالم ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔خلافت و اجازت سیّد قدم الدین بن سیّد عزیزاللہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل تھی۔ صفات ِحمیدہ آپ علم ظاہری و باطنی میں یکتاتھے۔آپ متبرک وجود،اوصافِ حمیدہ رکھنے والے تھے۔اگرآپ کو "ہاشم دریادِل ثانی"کہاجاوے تو غلط نہ ہوگا۔آپ اپنے پیرِ روشن ضمیر کے شیدااورفرمانبردارتھے۔برگزیدہ درگاہِ سبحان صاحب علم و زہدو تقدس تھے۔ اورادوظائف آپ تلاوت قرآن مجید فرماتے۔اعلیٰ درجہ کے قاری تھے۔تہجّد اور نماز پنجگانہ کے پورے پابندشریعت و طریقت کا اتباع لازم سمجھتے تھے۔ غیبی علاج منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ تہجد کے بعد مصلّےٰ پربیٹھ کر یادِ الٰہی کررہے تھے۔ کہ زمین کو سخت زلزلہ آیا۔آپ ایک پہلوکے بل گرپڑے۔دردپہلو شروع ہوگیا۔بڑے علاج کئے ۔مگرکچھ فائدہ نہ ہوا۔اِ سی طرح تکلیف میں پوراسال گذرگیا۔اتفاق ایساہواکہ پھراسیطرح ایک دن۔۔۔
مزید
آپ سیّد سبحان علی بن سیّد خان عالم ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔خلافت و اجازت سیّد قدم الدین بن سیّد عزیزاللہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل تھی۔ صفات ِحمیدہ آپ علم ظاہری و باطنی میں یکتاتھے۔آپ متبرک وجود،اوصافِ حمیدہ رکھنے والے تھے۔اگرآپ کو "ہاشم دریادِل ثانی"کہاجاوے تو غلط نہ ہوگا۔آپ اپنے پیرِ روشن ضمیر کے شیدااورفرمانبردارتھے۔برگزیدہ درگاہِ سبحان صاحب علم و زہدو تقدس تھے۔ اورادوظائف آپ تلاوت قرآن مجید فرماتے۔اعلیٰ درجہ کے قاری تھے۔تہجّد اور نماز پنجگانہ کے پورے پابندشریعت و طریقت کا اتباع لازم سمجھتے تھے۔ غیبی علاج منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ تہجد کے بعد مصلّےٰ پربیٹھ کر یادِ الٰہی کررہے تھے۔ کہ زمین کو سخت زلزلہ آیا۔آپ ایک پہلوکے بل گرپڑے۔دردپہلو شروع ہوگیا۔بڑے علاج کئے ۔مگرکچھ فائدہ نہ ہوا۔اِ سی طرح تکلیف میں پوراسال گذرگیا۔اتفاق ایساہواکہ پھراسیطرح ایک دن۔۔۔
مزید
آپ سیّد سبحان علی بن سیّد خان عالم رحمتہ اللہ علیہ کے بڑے بیٹے تھے۔خرقہ خلافت سیّد قدم الدین بن سیّد عزیزاللہ ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ صفاتِ حمیدہ آپ قرآن مجید کے حافظ شریعت کے پابند عبادات و ریاضات میں بے مثل۔ راہ نمائے خلق اللہ۔ہادی سبیل اللہ؟ثیت سے سرفرازتھے۔آپ ۱۲۴۴ھ میں پنڈ عزیز۔ تحصیل کھاریاں میں چلے گئے۔ اعضاکاجداجداہوجانا منقول ہے کہ ایک رات آپ چھت پر بیٹھ کر وظائف پڑھ رہے تھے۔سیّدہ گوہر بی بی بنت سیّد قدم الدین ہاشمی رحمتہ اللہ علیہ کوٹھےپرچڑھیں تو مصلّےٰ خالی تھااور مکان کے چاروں کونوں پر آپ کے اعضا پڑے تھے۔ان کو دیکھتے ہی آپ اصلی حالت پر آگئے۔ اولاد آپ کے چار بیٹے تھے۔ ۱۔سیّد حافظ چراغ عالم رحمتہ اللہ علیہ۔ان کا ذکر آٹھویں باب میں آئے گا۔ ۲۔سیّد نورعالم۔ ۳۔سیّد نواب الدین رحمتہ اللہ علیہ۔ ۴۔سیّد وہاب الدین رحمتہ اللہ علیہ ۔ان کا ذکربھی آٹھویں باب میں۔۔۔
مزید
آپ سیّد قدم الدین بن سیّد عزیزاللہ رحمتہ اللہ علیہ کے تیسرے بیٹے تھے۔خرقہ خلافت شیخ صِدقی شاہ بن شیخ خان بہادرسلیمانی رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ سے حاصل کیا۔ ذکراسمِ ذات آپ ہر وقت ذکر اسم ذاتاللّٰہ میں مشغول رہتے۔زبان ذکر حق میں جاری رہتی۔ اشعارخوانی آپ یہ اشعاردعائیہ پڑھاکرتے الٰہی توآسان کنی مشکلات بحق محمد علیہ الصلوٰۃ مدد یامحمد بنام ِ خدا علی شاہِ مرداں تومشکل کشا کرامات بزرگوں کی زیارت کروانا ایک دفعہ آپ کے بیٹے سیّد سلطان علی رحمتہ اللہ علیہ نے بچپن کے زمانہ میں عُرس بِھڑی شریف کے موقع پر عرض کیا کہ میں میلہ دیکھنے جاناچاہتاہوں۔آپ نے فرمایاتم گھررہو۔تم کو یہیں میلہ دکھادیں گے۔ چنانچہ رات کو خواب میں انہوں نے دیکھا کہ عُرس بھڑی شریف منعقد ہے۔حضرت سخی بادشاہ رحمتہ اللہ علیہ اورحضرت نوشہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت پاک صاحب رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت ۔۔۔
مزید
آپ سیّد قدم الدین بن سیّد عزیزاللہ رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے بیٹے تھے۔آپ پر کبھی حالت جذبہ طاری ہوتی۔توآپ مستی میں برہنہ پھراکرتے۔جب کبھی صحو وسلوک میں ہوتےتو نماز پنجگانہ اور درود شریف ہزارہ پرمواظبت رکھتے۔صاحب کشف و کرامات تھے۔یہ ۱۲۶۴ھ میں اپنے مریدوں کےپاس چک میانہ علاقہ جمّوں میں چلے گئے۔ اولاد آپ کے دو بیٹے تھے۔ ا۔سیّد حسن محمد لاولد رحمتہ اللہ علیہ ۔ ۲۔سیّد پیرمحمد رحمتہ اللہ علیہ۔ ؎ سیّد پیرمحمد رحمتہ اللہ علیہ کے ایک ہی فرزند سیّد مردان علی رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ ؎ سیّد مردان علی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک فرزند سیّد حبیب اللہ رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ ؎ &nbs۔۔۔
مزید
آپ سیّد قدم الدین بن سیّد عزیزاللہ کے فرزنداکبرتھے۔بیعتِ طریقت شیخ احمد جی مجذوب بن شیخ بڈھاسلیمانی گھنگوالی رحمتہ اللہ علیہ سے تھی۔جن کا ذکرطبقہ چہارم کے آٹھویں باب میں آئے گا۔ بقولِ صحیح سیّد فتح محمد بن ضیأ اللہ رسول نگری رحمتہ اللہ علیہ کے مریدوخلیفہ تھے۱؎۔ کرامات چشمہ نکلنا منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ دَندی بیسہ میں تشریف لے گئے۔اپنے ایک بافندہ مرید کو کہاکہ ہماری گھوڑی کو پانی پلاؤ۔چونکہ اس جگہ کنواں نہیں تھا۔وہ دوسرے گاؤں لے گیا۔وہاں کے لوگوں نے اس کو مارے اورگھڑے توڑ دیئے۔اس نے آکرحقیقت بیان کی۔آپ نے فرمایاتم اس جگہ کنواں کھودلو۔سب لوگوں نے عرض کیا۔کہ یہاں کئی دفعہ کنواں کھودچکے ہیں۔ نیچے سےپانی نہیں آتا۔آپ نے فرمایااب کھودوچنانچہ آپ کے حکم کے مطابق نیچے سے پانی آگیا اور ہمیشہ کے لیے وہ لوگ آسودہ ہوگئے۔ ایک شخص کو جاگیرملنا منقول ہے کہ راجہ سلطان خاں ساکن پوٹھی کی جا۔۔۔
مزید