پیر , 10 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 27 April,2026

صاحب کرامات و خوارق عارفات

  سابقہ صفحات میں مصنف علام مفتی غلام سرور لاہوری نے قد س سرہ حضور سرور کائنات کی ازواج مطہرات اور اہل بیت کے چند افراد کا تذکرہ اس لیے اختصار سے کیا ہے کہ صالحات و عارفات امت کے حالات  کا آغاز مین و برکت سے ہو، خاندان نبوت کے افراد کے مفصل  حالات پر صلحائے امت نے بہت کچھ لکھا ہے اس لیے قارئین سے استدعا  ہے کہ ان نفوس قدسیہ کے تذکرہ کو تفصیل سے جاننے کے لیے دوسری کتابوں سے رجوع فرمائیں۔ (مترجم) (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

بی بی زلیخا قدس سرہا

  آپ حضرت خواجہ نظام الدین دہلوی سلطان المشائخ قدس سرہ کی والدۂ بزرگوار تھیں، بڑی بزرگ، صالحہ صاحب عفت و عصمت عورت تھیں حضرت سلطان المشائخ فرمایا کرتے تھے میری والدہ کے سامنے کوئی مشکل کام آتا، تو اس کا نتیجہ انہیں پہلے ہی معلوم ہوجایا کرتا تھا، میرا اپنا بھی زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ اگر مجھے کوئی مہم یا مشکل درپیش آتی تو میں اپنی والدہ کی قبر پر چلا جاتا مشکل پیش آتا ایک ہفتہ یا کم از کم ایک ماہ میں مشکل حل ہوجاتی تھی۔ اخبارالاخیار میں لکھا ہے کہ جن دنوں سلطان علاؤ الدین خلجی حضرت سلطان المشائخ کے خلاف ہوکر ایذا رسانی پر آمادہ ہوا تو اس نے حکم دیا کہ سلطان المشائخ ہر مہینے کی پہلی تاریخ دربار میں پیش ہوا کریں ورنہ میں سخت سزا دوں گی، یہ حکم سنتے ہی حضرت اپنی والدہ مرحومہ کے مزار پر حاضر ہوئے اور کہا بادشاہ دلی طور پر مجھے نقصان  پہنچانے اور ایذا رسانی کے درپے ہے اگر پہلی تار۔۔۔

مزید

بی بی راستی قدس سرہ

  آپ حضرت رکن الدین ابوالفتح ملتانی قدس سرہ کی والدہ ماجدہ تھیں، آپ بڑی عابدہ زاہد تھیں، راستی اور درستگی میں یگانہ عصر تھیں، قرآن کی حافظ تھیں، ہر روز ایک قرآن پاک ختم کرتی تھیں، اپنے خُسر حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی قدس سرہ سے نسبت بیعت تھی، آپ کا وصال ۶۹۵ھ میں ہوا۔ مزار ملتان میں پاک دروازہ کے باہر واقعہ ہے، جمعرات کو لوگ جوق در جوق فاتحہ خوانی کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ لیکن مردوں کو مزار کے اندر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ راستی مخدومۂ عالم کہ بود ہست مخدومہ وصال پاک اُو   راست رد چوں تیر اندر راستی سال ترحیلش چو از من خواستی (حدائق الاصفیاء)۔۔۔

مزید

حضرت مولانا غلام قادر شائق فاروقی رسول نگر﷫

            حضرت مولانا حاجی غلام قادر شائق فاروقی قادری نو شاہی رحمۃ اللہ تعالیٰ ابن مولانا شیخ احمد (ف ۱۲۴۳ھ) قصبہ رسول نگر ضلع گوجرانوالہ کے ایک قدیمی علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔آپ نے اپنے والد گرامی سے تحصیل علوم کی اور حضرت حافظ سید قل احمد نوشاہ ثانی بر خورداری ساہن پالوی( ف ۱۳۸۶ھ) سے بیعت ہو کر خلافت سے نوازے گئے ۔           مولانا شائق ،عربی اور فارسی کے بلند پایہ اویب و شاعر اور خوش نویس تھے، تاریخ گوئی میں بھی با کمال تھے اور اپنے علاقہ کے مفتٔی اعظم تھے۔ آپ کی تصنیف شائق نامہ بجواب محمود نامہ ہنوز غیر مطبوعہ ہے ۔ آپ کی بیاض کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ علمائے عصر سے آپ کے گہرے مراسم تھے، ان علمائے کرام میں سے چند ایک کے اسمائے گرامی یہ ہیں:۔ ۱۔  حضرت مولانا غلام محی الدین ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ علاؤ الدین بن شیخ بدر الدین سلیمان

  حضرت خواجہ گنجشکر قدس سرہٗ کے تمام پوتوں اور نواسوں میں زیادہ ممتاز تھے آپ علو درجات، رفعت مقامات، شدت مجاہدات اور ذوقِ  مشاہدات میں یگانہ روزگار تھے۔ آپ جو دوسخا میں مشہور  تھے اور طہارت ظاہری وباطنی میں بے نظیر تھے۔ چنانچہ صائم الدہر تھے (یعنی ہمیشہ روزہ رکھتے تھے) ایک پہر رات گئے آپ  نماز اور اذکار ومشاغل سے فارغ  ہوکر ایک روتی کو گھی لگاکر تناول فرماتے تھے۔ یہی آپ کا افطار  ہوتا تھا۔ حالانکہ دوسرے لوگوں کے لیے انواع واقسام کے کھانے تیار کراتے تھے۔ ایک دن حضرت خواجہ گنجشکر چارپائی پر تشریف رکھتے تھے۔ خواجہ علاؤ الدین  دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے آئے اور چارپائی  کا پایہ پکڑ کر کھڑے ہوگئے۔ حضرت خواجہ گنجشکر نے اپنے منہ سے پان نکال کر اُنکے منہ میں دیا اور کرسی (یعنی چوکی) پر بیٹھ کر وضو بنانے لگے  خواجہ عیسیٰ نامی درویش جو حضرت اقدس کی ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ شہاب الدین

  آپ کےخلیفہ حضرت شیخ شہاب الدین ہیں۔ جن کا مزار قصبہ جھنجانہ میں ہے۔ (اقتباس الانوار)۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بلاقی کتھیلی

  آپکے  دوسرے خلیفہ حضرت شیخ بلاقی   کتھیلی ہیں آپ حضرت شیخ کے اکابر خلفا میں سے تھے۔ اور ریاضت ومجاہدہ،  فقیر وفنا اور کشف و کرامات میں بے نظیر تھے۔ آپکو حضرت شیخ سوندہا س سے محبت   تھی۔ اور انکو اپنے احباب میں شمار کرتے تھے۔ آپکو ذکر جہری  اور حبس دم میں کمال حاصل تھا۔ اور عالم لاکیف اور لا مثال  کا آپ پر اس قدر غلبہ تھا کہ اس سے  زیادہ تصور میں نہیں آسکتا۔ غرضیکہ  حضرت  شیخ دؤد کی تمام کیفیت کے آپ حامل تھے۔ حضرت شیخ داؤد اس جہان سے جب رخصت ہوگئے  تو شیخ بلاقی کیلئے اپنے پیر  کے جمال کے بغیر دنیا تاریک ہوگئی۔ چنانچہ آپ  سفر حج پر روانہ ہوئے اور مکہ معظمہ کی زیارت کے بعد مدینہ منورہ  حاضر ہوکر وہیں مقیم ہوگئےحتیٰ کہ آپکا وہیں وصال ہوا اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ (قتباس الانوار)۔۔۔

مزید

سیّدنا عمرو ابن عبدالحارث رضی اللہ عنہ

ابن عبدالحارث۔یحییٰ بن یونس نے کہاہے کہ ان کی کنیت ابوحازم تھی۔قیس کے والد تھے جعفرنے کہاہے کہ مشہوریہ ہے کہ ان کا نام عبدعوف ہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔(اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عوف ابن حارث۔رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوواقد تھی لیثی ہیں۔یہ جعفرکاقول ہے اوربعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ ان کا نام حارث بن عوف تھاان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عنمہ ابن عدی رضی اللہ عنہ

   بن عبدمناف بن کنانہ بن جہمہ بن عدی بن ربعہ بن رشدان جہنی ۔بدرمیں اورتمام مشاہد میں  رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ تھے۔ان کا تذکرہ ابن کلبی نے کیاہےمگراورلوگوں نے ان کا ذکرنہیں کیامیں نہیں کہہ سکتا کہ یہ وہی شخص ہیں جن کا ذکراس سے پہلے ہوایاکوئی اورہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔

مزید