اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

مولانا حامد اللہ نقشبندی

  درویش صفت انسان مولانا میاں حامد اللہ بن محمد مصری بن فقیر کریم ڈنہ قوم ساند ، گوٹھ بہ شریف تحصیل نگر پار کر ضلع تھرپار کر (مٹھی ) تو لد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : اپنے ہی گوٹھ میں تعلیم قرآن حافظ خدا ڈنہ پلی کے پاس حاصل کی ۔ اس کے بعد گوٹھ پسار ٹیو تحصیل نگر پارکر میں مولانا محمد اسماعیل دل کے مدرسہ میں داخلہ لے کروہیں فارسی کی تکمیل کے بعدگوٹھ و نجھنیاری تحصیل مٹھی میں مولانا حافظ عبداللطیف کے پاس تعلیم حاصل کی ۔ آخر میں گوٹھ ٹالہی (ضلع عمر کوٹ ) کے مدرسہ میں داخلہ لیا جہاں مولانا محمد ابراہیم کی خدمت میں رہ کر شرح جامی تک تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد طبیعت میں تبدیلی رونما ہوئی غالبا مولانا عبداللطیف کے مدرسہ میں فقیر نور محمد بلالانی درویش کی صحبت کا اثر تھا کہ قلب میں علم باطن کے حصول کی تحریک پیداہوئی ۔ حضرت خواجہ عبدالرحمن سر ہندی علیہ الرحمہ کے ہاتھ پر سلسلہ عالیہ نقشبندی یہ سر ہ۔۔۔

مزید

علامہ مفتی حامد اللہ میمن

  استاد العلمائ، لاڑ جو لال، سندھ کے قابل فخر فقیہ عالم دین مولانا حامد اللہ بن میاں گل محمد میمن گوٹھ بیلو (تحصیل سجاول ضلع ٹھٹھہ سندھ) میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم بیلو شہر میں حاصل کی، اس کے بعد ٹھٹھہ میں مولان اعبدالرحیم دھوبی کے پاس تعلیم حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم بحر العلوم علامہ مولانا عطاء اللہ فیروز شاہی علیہ الرحمۃ کی درسگاہ فیروز شاہ (تحصیل میہڑ ضلع دادو) میں حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوئے ۔ (ٹھٹھہ صدین کان) مہران میں ہے علامہ عطا اللہ فیروز شاہی جب سندھ کی عظیم درسگاہ شہداد کوٹ میں فارغ التحصیل ہونے لگے تو اس وقت مولانا حامد اللہ شہداد کوٹ میں زیر تعلیم تھے، جب مولانا فیروز شاہی دستار بندی کے بعد اپنے گوٹھ جارہے تھے تو اس وقت استاد محترم نے مفتی حامد اللہ کو بھی ساتھ کردیا کہ ان کی تعلیم و تربیت کریں۔ مولانا حامد اللہ نہایت ذکی و ذہین تھے۔ (مہران سوانح نمبر ۱۹۵۷ئ) ب۔۔۔

مزید

مولانا سید حامد شاہ راشدی

  حضرت مولانا پیر سید محمد حامد شاہ راشدی علیہ الرحمۃ فقیر راقم کے جد کریم حاجی الحرمین شریفین، زائر بغداد شریف حضر تپیر سید غلام قادر شاہ راشدی علی اللہ مقامہ فی الجنۃ (رحلت ۱۹۸۷ئ) کے عم محترم شیخ مکرم اور سسر عظیم تھے۔ مولانا حامد شاہ اہل سنت و جماعت کے جید عالم، مدرس ، مصنف، عامل کامل، شیخ طریقت اور حاذق حکیم تھے۔ صدری روایت کے مطابق درگاہ پیر شیر جیلانی علیہ الرحمۃ(متصل لاڑکانہ سندھ) کے مغرب کی جانب لب مہران ایک گوٹھ ’’عثمان شاہ‘‘ کے نام سے غالباً آپ کے دادا جان نے درگاہ پیر جو گوٹھ (بالمقابل شگر مل متصل نودیرو) سے منتقل ہو کر آباد کیا تھا۔ وہیں پیدا ہوئے اور وقت کے مشاہیر علماء سے تعلیم حاصل کرکے فارغ التحصیل ہوئے اور گوٹھ سنہری (متصل لاڑکانہ) کے مولانا حافظ محمد کامل کے مدرسہ میں کافی عرسہ تدریس سے وابستہ رہے۔ جتوئی ، دہامرہ ارو مہیسر قوموں کے ئی گوٹھ ا۔۔۔

مزید

تاج الفقہاء علامہ مفتی حسن اللہ صدیقی

  مخدوم حسن اللہ بن میاں وہب اللہ صدیقی درگاہ پاٹ شریف (اسٹیشن پیارو  گوٹھ ضلع دادو) میں نامعلوم سن میں تولد ہوئے۔ سیوہن شریف ار پاٹ شریف کے صدیقی حضرات ایک ہی خاندان سے ہیں۔ اسی خاندان کی ایک شاخ نے بھار تکے شہر برہان پور جا کر سکونت اختیار کی۔ برہان پور میں ’’مسیح اولیائ‘‘ کی دربار آج بھی مرجع خلائق ہے انہیں’’مسیح اولیائ‘‘ کا خطاب مجدد الف ثانی سر ہندی نے عطا فرمایا تھا۔ اسی خاندان کی علمی و روحانی خدمات جلیلہ کا تذکرہ ج’’برہان پور کے سندھی اولیاء اللہ‘‘ (مطبوعہ سندھی ادبی بورڈ جامشورو طبع اول ۱۹۵۷ئ) میں درج ہے ۔ سیوہن اور پاٹ کی بعض علمی و روحانی شخصیات کے اسماء گرامی: ۱۔      شیخ الاسلام مخدوم دین محمد صدیقی ۲۔     مخدوم عبدالواحد کبیر سیوھانی (صاحب کشف الاسرا۔۔۔

مزید

مولانا جمال میاں فرنگی محلی

   مولانا محمد جمال الدین عبدالوہاب انصاری المعراف جمال میاں بن تحریک خلافت کے مشہور رہنما حضرت مولانا عبدالباری۔ فرنگی محل لکھنو کا ایک محلہ ہے ، اس علاقے کی زرخیز مٹی سے جو علماء پیدا ہوئے وہ فرنگی علماء کے نام سے مشہور ہوئے ۔ اس علاقہ میں ایک فرانسیسی تاجر مقیم تھا جس کی وجہ سے یہ علاقہ فرنگی محل کہلانے لگا۔ اس محلہ میں ملا قطب الدین انصاری نام کے ایک عالم رہتے تھے جن کا بعض امور پر عثمانی خاندان سے جھگڑا تھا ۔ عثمانیوں نے ۱۱۰۳ھ ؍۱۶۹۱ ء کی ایک رات انھیں قتل کر دیا ۔ان کی اولاد میں چار بیٹے تھے جو علمی مقام میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے ۔ ملا قطب الدین کے بیٹوں میں سب سے برگزیدہ ملا نظام ا لدین تھے جن کے نام پر ’’ درس نظامی ‘‘ حاشیہ شمس بازعہ ، حاشیہ شرح عقائد دواتی بہت مشہور ہیں۔ آپ نے اپنے مر شد سید عبدارزاق قادری بانسوی کے ملفوظات بھی مرتب کئے ہیں ۔ آ۔۔۔

مزید

مولانا سید جمیل احمد کاظمی

  مولانا حافظ حاجی سید جمیل احمد کاظمی بن مولانا سید مختار احمد کاظمی امروہہ (یوپی انڈیا) میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: آپ نے تعلیم کا آغاز اپنے گھر سے والد ماجد سے کیا۔ حفظ قرآن اور علم کی تحصیل کیلئے مدرسہ عالیہ رامپور (انڈیا) کا انتخاب کیا۔ وہیں حافظ عبدالعزیز سے قرآن حکیم حفظ کیا۔ بیعت: آپ سلسلہ عالیہ چشتیہ صابریہ میں اپنے برادر اکبر شیخ طریقت حضرت علامہ مولانا سید خلیل احمد کاظمی محدث امروہہ علیہ الرحمۃ سے دست بیعت تھے۔ اولاد: آپ کی کل اولاد چھ تھیں ۔ جن میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ ٭     سیدہ سکینہ خاتون                                  ٭     سیدہ تحسینہ خاتون ٭ ۔۔۔

مزید

مولانا سید جمال الدین کاظمی چشتی

  مولانا سید جمال الدین شاہ کاطمی بن پیر طریقت حضرت سید غلام کمال الدین شاہ کاطمی چشتی (متوفی ۱۹۹۳ئ) آستانہ کواجہ آباد شریف ضلع میانوالی (پنجاب) میں ۲۸ ، اگست ۱۹۴۶ء کو تولد ہوئے تعلیم و تربیت: آپ نے اپنا بچپن اپنے بزرگوں کے زیر سایہ گزارا۔ ابتدائی تعلیم خواجہ آباد اور ملحقہ گائوں ولیوالی میں حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر میں آپ نے اپنا آبائی گائوں چھوڑ دیا اور دینی تعلیم کے حصول کیلئے جامعہ امدادیہ مظہریہ بندیال شریف (ضلع خوشاب ) میں داخل ہوگئے ۔ یہاں آپ کے استاد العلماء علامہ عطا محمد بندیالیوی اور حضرت علامہ عبدالحق بندیالوی سے اکتساب علم میں مشغول رہے۔ اس کے بعد وہاں بھچراں (ضلع میانوالی) بھکھی شریف ()ضلع منڈی بہائوالدین) سیال شریف (ضلع سرگودھا) مردان(سرحد) جامعیہ نعیمیہ (لاہور) اور دارالعلوم امجدیہ (کراچی ) کے مدارس میں دینی تعلیم کی تحصیل میں مصروف رہے۔ خانقاہوں کے عام صاحبزدگا۔۔۔

مزید

مولانا حافظ تاج محمد کھونھارو

  علامہ حافظ تاج محمد بن کھونھارو گوٹھ کڑیو غلام اللہ (تحصیل خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو) میں ۱۸۱۹ء کو تولد ہوئے تعلیم و تربیت: تعلیم کا آغاز گوٹھ ستانی چانڈیو میں مولان اسعد اللہ ستانی چانڈیو سے کیا۔ اس کے بعد ہالا میں درگاہ حضرت مخدوم نوح علیہ الرحمۃ کے مدرسہ میں ایک عرب قاری صاحب کے پاس قرآن پاک تجوید کے ساتھ حفظ کیا۔ اس کے بعد کراچی چلے آئے۔ کہا جاتا ہے کہ ہالا سے کراچی تک بغیر کسی سواری کے پا پیادہ آئے تھے۔ یہاں مولان امحمد عثمان نورنگ زادہ معلم سندھ مدرسۃ الاسلام کراچی کے والد ماجد کے پاس علم تجوید حاصل کرنے کے بعد گوٹھ سستانی واپس آئے اور علامہ سعد اللہ کے پاس بقیہ درسی نصاب مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔ بیعت: آپ قطب زمانہ شیخ المشائخ حضرت سید محمد پنھل شاہ راشدی علیہ الرحمۃ (درگاہ شریف بت سرائی تحصیل میہڑ) سے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے۔   (بروایت مو۔۔۔

مزید

مولانا سید تراب علی شاہ راشدی

  مولانا پیر سید تراب علی شاہ سندھ کے نامور علمی و روحانی خانوادہ ’’خاندان سادات راشدیہ‘‘ کے چشم و چراغ تھے۔ تحریک خلافت کے دور میں برصغیر پاک و ہند میں شہرت پائی۔ تحصیل قمبر (ضلع لاڑکانہ) کے گوٹھ علی خان میںتولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: تراب علی شاہ نے ابتدائی تعلیم اپنے گوٹھ میں حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کیلئے شہداد کوٹ کا رخ کیا۔ جہاں غوث الزمان، سند الفقہائ، حضرت علامہ مفتی خواجہ غلام صدیق شہداد کوٹی قدس سرہ الاقدس کی درسگاہ میں داخلہ لیا اور درسی کتب کی تکمیل کے بعد فارغ التحصیل ہوئے۔ شادی: بعد فراغت حضرت خواجہ صاحب نے اپنی صاحبزادی کی شادی، شاہ صاحب سے کرا کر حب اہل بیت کا عملی ثبوت دیا۔ اس طرح پیر تراب علی شاہ حضرت خواجہ کے شاگرد کے ساتھ داماد بھی بن گئے۔ بیعت: پیر تراب علی شاہ شیخ طریقت حضرت علامہ سید احمد خالد شامی علیہ الرحمۃ(مدفون بمبئی) کے دست بیعت ہوئے۔ ۔۔۔

مزید

مولانا سید بچل شاہ جیلانی

  مولانا سید بچل شاہ عرف محمد بخش شاہ بن پیر سید عبدالقادر جیلانی (رحلت ۱۳۶۳ھ) درگاہ عالیہ جیلانیہ قادریہ نورائی شریف (تحصیل ٹنڈ و محمد خان ضلع حیدرآباد) میں۱۳۲۶ھ/۱۹۰۸ء میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: آپ نے تعلیم و تربیت نورائی شریف میں حاصل کی۔ ابتدائی تعلیم پرائمری اسکول میں قرآن پاک کی تعلیم مسجد جیلانی کے متصل مکتب میں حاصل کی۔ درج ذیل علماء اہل سنت کے ہاںدرس نظامی کی تکمیل کی، ان علماء کو آپ کے والد ماجد نے درگاہ نورانی شریف پر آپ کی تعلیم کیلئے مختلف ادوار میں مدرس مقرر کیا تھا۔ ٭     حضرت مولانا سید محمد شاہ مصطفائی ساکن آمری ضلع دادو (والد سید ظفر کاظمی حیدرآبادی) ٭     حضرت مولانا محمد فاضل ساکن مٹیاری ضلع حیدرآباد ٭     حضرت مولانا حاجی محمد قریشی ساکن گوٹھ اکتڑ نزد بوبک تحصیل سیوہن ٭     ح۔۔۔

مزید