اتوار , 09 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 26 April,2026

ماہتاب ولایت پیر سید صبغت اللہ شاہ راشدی

  امام العارفین حضرت پیر سید محمد راشد شاہ پیر صاحب روضے دھنی رضی اللہ عنہٗ (۱۲۳۴ھ) کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے پیر سید صبغت اللہ شاہ راشدی اول پچاس سال کی عمر میں مسند آرائے رشد و ہدایت ہوئے اور دستار سجادگی ان کے سر پر باندھی گئی۔ ا سخاندان میں یہ پہلے پیر ہیں جو پیر پگارہ (صاحب دستار) کے لقب سے مشہور ہوئے۔ سید صبغت اللہ شاہ اول ۱۱۸۳ھ/۱۷۷۹ء کو بمقام گوٹھ رحیم ڈنہ کلہوڑ عرف پرانی درگاہ شریف تحصیل پیر جو گوٹھ ضلع خیر پور میر س (سندھ) میں تولد ہوئے۔ (الرحیم مشاہیر نمبر ۱۹۶۷ئ) تعلیم و تربیت: حضور امام العارفین کی زیر سرپرسی درگاہ شریف پر مورجہ نصاب کی تعلیم حاصل کی اور حضرت سے مثنوی شریف ودیگر تصوف کی کتب کا درس لیا۔ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ لکھتے ہیں: آپ قرآن شریف ، حدیث شریف اور فقہی احکام پر دسترس رکھتے تھے۔ حدیث شریف کا خاص مطالعہ کیا تھا اور روزانہ بعد نماز فجر درس حدیث دینا آپ۔۔۔

مزید

مولانا حافظ شبیر احمد دہلوی

  حضرت مولانا حافظ شبیر احمد بن مولانا بشیر احمد دہلوی، دہلی کی شاہی سنہری مسجد  کے سابق نائب امام ، خواجہ حسن نظامی دہلوی کے درینہ فریق اور تحریک پاکستان کے خاموش مگر سرگرم کارکن تھے۔ ۱۹۲۲ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی ذی علم شخصیت تھے جب کہ والدہ محترمہ ایک نیک اور پارسا خاتون تھیں اور وقت کے جلیل القدر عالم دین حضرت مولانا عبدالغفور عارف دہلوی کی صاحبزادی تھیں۔ آپ کی ولادت کے کچھ عرصہ بعد ہی وصال فرماگئیں اسی لیے آپ کی پرورش آپ کی پھوپھی نے کی جو بڑی متقی پرہیز گار خاتون تھیں۔ اور حضرت علامہ مفتی حبیب احمد دہلوی صدر مدرس مدرسہ عالیہ فتحپوری دہلی کی صاحبزادی اور حضرت ابو مخدوم سید محمد طاہر اشرف اشرفی جیلانی قدس سرہ کی زوجہ محترمہ تھیں۔ اس علمی اور روحانی ماحول نے آپ کی شخصیت پر گہرا اثر کیا اور آپ بچپن ہی سے حصول علم میں لگ گئے۔ تعلیم و تربیت: والد محترم نے آ۔۔۔

مزید

مفکر اسلام مفتی سید شجاعت علی قادری

  حضرت مولانا مفتی سید شجاعت علی بن حضرت علامہ مفتی سید مسعود علی قادری جنوری ۱۹۴۱ء میں بدایون یوپی (انڈیا) میں تولد ہوئے (شرح الصدور ص۴۱، مطبوعہ سبزواری پبلشرز، کراچی ۱۹۹۸ئ) تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم مدرسہ عربیہ حافظیہ سعدیہ ، دادوں ضلع علی گڑھ سے حاصل کی۔ ناظرہ قرآن مجید حافظ غلام ربانی سے پڑھا۔ اس کے بعد مفتی صاحب اپنے والدین کے ساتھ دس سال کی عمر ۱۹۵۱ء میں پاکستان ملتان تشریف لے آئے اور یہاں مدرسہ انوار العلوم کچہری روڈ میں تعلیم کا آغاز کیا اور اسی درسگاہ سے اپنے والد ماجد کی سرپرستی میں درس نظامی کی تکمیل فرمائی۔ آپ کے مشہور و معروف اساتذہ میں علامہ مفتی سید مسعود علی قادری، رئیس المناظرین حضرت علامہ مفتی عبدالحفیظ حقانی (والد مولانا محمد حسن حقانی) اور رازی زماں محدث اعظم حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ہیں۔ تقریباً اٹھارہ سال کی عمر میں انو۔۔۔

مزید

مولانا سعد اللہ خان چانڈیو

  استاد العلماء علامہ مولانا سعد اللہ خان چانڈیو گوٹھ ستانی چانڈیو تحصیل خیر پور نا تھن شاہ ضلع دادو (سندھ )میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت : قرآن مجید ناظرہ ملا پیر بخش سے پڑھا ، گوٹھ بہادر پور میں سید و ریل شاہ کے پاس فارسی پڑھی ۔ اس کے بعد رہڑو شریف کی نامور دینی درسگاہ میں داخلہ لے کر استاد العلماء سند الکاملین حضرت مولانا محمد صالح مہیسر ؒ کی خدمت میں رہ کر درسی نصاب مکمل کر کے فارغ التحصیل ہوئے۔ بیعت : شیخ طریقت ولی کامل حضرت پیر سید محمد پناہ عرف پنھل شاہ راشدی قدس سرہ درگاہ پیر جو گوٹھ (بٹ سرائی تحصیل میھڑ )سے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں بیعت ہوئے۔ (بروایت احمد خان آصف مصرانی مرحوم ) درس و تدریس : بعد فراغت گوٹھ ستانی چانڈیو میں دینی درسگاہ قائم فرمائی اور تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ دور دراز سے علم کے پیاسے دولت خانہ پر پہنچے اور سیراب ہو کر گئے ۔ تلامذہ : آپ سے کثیر۔۔۔

مزید

جرنیل اہلسنّت جناب محمد سلیم قادری

  بھارت کے شہر گجرات سے نقل مکانی کرکے اانے والے محمد ابراہیم قریشی نے اپنی زوجہ آمنہ بی بی کے ساتھ پاکستان کے شہر کراچی کے علاقہ  نانک وارہ پان منڈی میں رہائش اختیار کی۔ انہیں تین بیتے اور دوبیٹیاں تولد ہوئیں۔ دو بیٹوں کے بعد ایک سعادت مند بیٹا۔ ۱۹۶۰ء میں تولد ہوا جس کا نام محمد سلیم رکھا گیا۔ محمد ابراہیم نے ۱۹۶۸ء میں بلدیہ ٹائون کراچی میں رہائش اختیار کی۔ تعلیم و تربیت: آپ کا خاندان مذہبی تھا، بچپن سے صالحین اور علماء اہلسنت کی صحبت میسر تھی۔ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کی۔ میٹرک آل بلدیہ اسکول بلدیہ ٹائون سے پاس کیا۔ بیعت: امیر دعوت اسلامی حضرت مولانا الیاس عطار قادری مدظلہ سے سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے اسلئے قادری کہلائے۔ مبلغ دعوت اسلامی: سلیم قادری کو قدرت نے بچپن سے مسلک کی تڑپ دے رکھی تھی ان میں دینی جذبہ تھا، وہ کچھ کرنا چاہتے تھے انہی دنوں ۱۹۸۰ء میں علماء اہلسنت کی سر ۔۔۔

مزید

مفتی اعظم حضرت علامہ سعد اللہ انصاری

  استاد العلماء حضرت مفتی اعظم علامہ محمد سعد اللہ انصاری تقریباً ۱۸۶۴ء میں نیوہالا (ضلع حیدرآباد) کے انصاری محلہ میں تولد ہوئے (السند) تعلیم و تربیت: ابتدائی تعلیم ہالا میں حاسل کی اس کے بعد مزید تعلیم کیلئے حرمین شریفین کا سفر اختیار کیا۔ تحصیل علم کے بعد وطن واپس ہوئے (تاریخ و ماہ ولادت، اساتذہ کے نام ، فراغت کا سن معلوم نہ ہوسکا) جامع مسجد صدر حیدرآباد کے امام و خطیب مقرر ہوئے۔ علوم دین کے علاوہ مختلف ادیان نجوم اور عروض و غیرہ علوم میں بھی دسترس رکھتے تھے۔ مفتی اعظم: ۱۹۰۱ء میں اخبار میں خیر پور ریاست (سندھ) کیلئے سنی مفتی کی ضرورت کا اعلان جاری ہوا۔ اخباری اعلان پڑھ کر مفتی صاحب کی طرح کئی علماء وہاں تشریف لے گئے لیکن مفتی صاحب کامیاب قرار پائے۔ مفتی  صاحب ریاست کی طرف سے ریاست کیلئے ’’سنی مفتی اعظم‘‘ مقرر ہوئے۔ قضاء کی شدید مصروفیات کے باجود درس و ۔۔۔

مزید

مولانا رحمت اللہ بلوچ

  استاد العلماء مولانا رحمت اللہ بن بہادر خان (بلوچ قبیلہ کی شاخ شر سے تعلق تھا) پکا چانگ (ضلع خیر پور میرس) کے نزد شر بلوچ قبیلہ کے گوٹھ میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت: یہ معلون نہ ہوسکا کہ آپ نے کہاں اور کن کن اساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی۔ بیعت: غالباً حضرت شیخ کامل حافظ محمد صدیق قادری علیہ الرحمۃ ( بانی درگاہ بھر چونڈی شریف) سے سلسلہ عالیہ قادریہ راشدیہ میں دست بیعت تھے۔ درس و تدریس: اپنے گوٹھ می ندرس دیا، پکا چانگ کے شمال میں جیلانی سادات کے گوتھ میں درس دیا، اس کے علاوہ تحصیل بدین کے ایک گوٹھ میں میاں محمد عثمان کے مدرسہ میں مدرس رہ چکے  جہاں پر آپ کے چچازاد بھائی مولانا فقیر عبدالھادی شر بلوچ آپ کے پاس ایک سال تک حصول علم کیلئے مقیم رہے وہیں آپ کی طبیعت ناساز ہوئی جس کی وجہ سے گھر واپس آئے اور وہیں آبائی گوٹھ میں انتقال کیا۔ جید عالم دین ہونے کے باجود انتہائی سادہ طبیع۔۔۔

مزید

سراج العلماء حضرت مولانا غلام عمر مہیسر :

  حضرت مولانا غلام عمر بن حضرت مولانا محمد صالح ثانی مہیسر ۲۸ ، محرم الحرام ۱۲۷۹ھ کو تولد ہوئے۔ مولانا غلام عمر نے علوم عقلی و نقلی میں اپنے والد ماجد حضرت علامہ محمد صالح سے تحصیل کی۔ اس کے بعد والد ماجد کے دست بیعت ہو کر سلوک کی منازل طے کر کے باطن میں کمال حاصل کیا ۔ اس کے علاوہ والد صاحب کے مدرسہ میں زندگی بھر درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے ۔ پھیلی ہوئی جہالت اور گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دین حق کی شمع فروزاں کی ۔ عوام و علماء میں نہایت مقبول تھے ۔ طلباء کے نہایت شفیق استاد تھے ۔ دور دراز علاقوں سے طلباء استفادہ کے لئے حاضر خدمت ہوتے تھے ۔ سخی تھے دن رات فیض لٹا تے رہے ۔ آپ کے تلامذہ میں سے تین نام معلوم ہوسکے ۔ ۱۔   مولانا غلام محمد غلام سوڈہر ۲۔ مولانا غلام نبی غلام ۳۔  مولانا غلام رسول غلام سوڈہر حضرت مولانا غلام عمر مہیسر نے ۵، محرم الحرام ۱۳۱۹ھ ؍۱۹۰۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد صالح ثانی :

  میاں محمد صالح اول نے اپنے والد مولانا محمد مبارک کے حکم سے مدرسہ قائم فرمایا ۔ ان کے جانشین ملا محمد مالک ہوئے ۔ اور ان کی پشت سے دریکتا، عالم بے مثال حضرت مولانا محمد صالح دوم مہیسر ۱۳، صفر المظفر ۱۲۴۱ھ کو تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت :  مولانا محمد صالح نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ماجد کے پاس حاصل کی ۔ قرآن مجید کا ختم حافظ میاں نبی بخش کے پاس گوٹھ باگوتیونی میں ( جوکہ میہڑ سے دو میل مشرق کی جانب ہے ) کیا۔ لاڑکی سیر پر گئے واپسی میں پرانہ ہالا میں ایک درسگاہ میں علمی رونق دیکھی تو بہت متاثر ہو کر وہیں تعلیم کا آغاز کیا او ر نصاب کی تکمیل کے بعد وہیں سے فارغ التحصیل ہوئے ۔ بیعت : علوم ظاہری کے بعد مولانا محمد صالح نے درگاہ خنیاری شریف ( ضلع نوابشاہ)کے اس وقت کے سجادہ نشین سے سلسلہ نقشبند یہ میں بیعت ہو کر علوم باطن میں درجہ کمال حاصل کیا ۔ درس و تدریس:  ظاہری و باطنی علوم س۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد مبارک مہیسر :

  مولانا محمد مبارک ۱۵، ذوالحجہ ۱۱۸۵ھ کو تولد ہوئے ۔ اپنے والد ماجد حضرت مولانا عبید اللہ کے پاس عقلی و نقلی علوم میں مہارت و کما ل حاصل کیا۔ علوم ظاہر کے بعد علوم باطن میں بھی درجہ کمال کو پہنچے ۔ کشف و کرامت کے صاحب تھے ۔ عمر بھر دین و ملت کی خدمت کی ، دن رات درس دیا، جہالت کی کالی رات میں علم کے دیئے روشن کئے ، مسلسل جدوجہد ، خون پسینہ کی کمائی سے علماء کی ایک کھیپ تیار کر کے امت مسلمہ کی رہنمائی و رہبری کے لئے پیش کی ۔ آپ سادگی پسند ، شہرت سے کاسوں دور ، مہمان نواز ،طلباء پر انتہائی شفیق و مہربان ، شب بیدار ، زندہ دل ، اخلاق و اخلاص کے پیکر اور فتوی نویسی میں بے مثال تھے ۔ (انوارِ علماءِ اہلسنت سندھ)۔۔۔

مزید