حضرت ابوالحسین بندار شیرازی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ کی کنیت ابوالحسین تھی آپ شیخ شبلی اور عبداللہ خفیف رحمۃ اللہ علیہما کے خلفاء میں سے تھے، حضرت شیخ ابوجعفر حداد کے صحبت یافتہ تھے، اپنے وقت کے قطب زمانہ تھے، آپ نے ۳۵۳ھ میں وفات پائی، حضرت شیخ ابوذرعہ طبیری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو غسل دیا، شیخ ابو علی کاتب بھی اسی سال واصل بحق ہوئے تھے ، آپ کی تاریخ وفات یوں تحریر کی گئی ہے۔ بوالحسین آن صوفیِ اہل صفاءسالِ ترحیلش بگو مہدی فرید۳۵۳ھ بود در چشم دو عالم نور عینہم بگو سرور کہ صوفی بوالحسین۳۵۳ھ(خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
حضرت مولانا حکیم الحاج مفتی محمد عبدالحق چانڈیو بن حافظ بلو چ خان اپنے والد ماجد کے اکلوتے بیٹے تھے۔ گوٹھ راوٗ تسر تحصیل چھاچھر و ضلع تھر پار کر سندھ میں پیر کی شب ۱۰ ، ذوالحجہ ۱۲۹۱ھ کو تولد ہوئے ۔ ولادت سے چار ماہ قبل آپ کے والد ماجد انتقال کر گئے ۔ تعلیم و تربیت : اپنے دادا جان میاں حاجی احمد خان کے پاس قرآن شریف ناظرہ پڑھا ۔ جب آٹھ سال کی عمر کو پہنچے تو اپنے گوٹھ سے باہر حصول تعلیم کے لئے سفر کیا۔ ابتدا میں گوٹھ رپ کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ ا س کے بعد حیدر آباد جا کر تعلیم جاری رکھی ۔ اس کے بعد درگاہ شریف راشدیہ پیر ان پگارہ پیر جو گوٹھ میں جامعہ راشدیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے فارغ التحصیل ہوئے ۔ مدرسہ مظہر الحق والہدایہ کا قیام : مولانا مفتی عبدالحق نے ۱۸۹۳ء میں مدرسہ رجسٹرڈ کرایا ۔ تعلیم و ترقی پر روجہ مرکوز فرمائی ۔ اور مختلف فنون کے اساتذہ کو مدرسہ میں مدرس مقرر ف۔۔۔
مزید
حضرت قاضی عبدالکریم بن قاضی نعمت اللہ ڈاہری گوٹھ ’’سن ‘‘تحصیل دولت پور ضلع نوابشاہ میں تیرہویں صدی میں تولد ہوئے ۔ قاضی عبدالکریم کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی ’’مریم ‘‘ تھا ۔ وہ ثانی غزالی عارف کامل حضرت مخدوم ابوالحسن ڈاہری قدس سرہ الاقد س کی پوتی تھیں ۔ اور مخدوم صاحب کے بیٹے میاں عبدالرسول ڈاہری کی صاحبزادی تھیں ۔ ایک طرف قاضی عبدالکریم ، مخدوم ابوالحسن کی پوتی کے بیٹے ہیں تو دوسری جانب سے مخدوم ابوالحسن کے چچا میاں مہر علی ڈاہری کی اولاد میں سے ہیں ۔قاضی عبدالکریم لاولد تھے فقط ایک بھائی تھے جس کا نام حکیم قاضی عبدالغنی ڈاہری (وفات ۹، ذوالحجہ ۱۳۲۰ھ؍۱۹۰۳ئ) ہے ۔ قاضی عبدالغنی اپنے وقت کے نہایت نامور حکیم ہو گذرے ہیں ۔ مولانا قاضی عبدالکریم ڈاہری نے تعلیم و تربیت مورو شہر کے ’’قاضی خاندان ‘‘ کے نامور عالم دین ، ۔۔۔
مزید
حضرت قاضی میاں عبدالکریم ،ساہتی کے مشہور و قدیم تاریخی شہر کھاہی کندن ( تحصیل و ضلع نوشہرہ فیروز سندھ ) کے قاضی خاندان ’’کے چشم و چراغ ، جید عالم دین، ادیب ، شاعر اور نثر نویس تھے ۔ قاضی صاحب کلہوڑ ادور کی آخری خانہ جنگی کے وقت زندہ تھے اور میر ٹالپروں کے ابتدائی دور میںساٹھ برس کی عمر میں اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے ۔ ’’کھا ہی کندن ‘‘ میں آپ کا دینی مدرسہ تھا جس میں سار ی زندگی عربی فارسی ، حدیث اور فقہ کا درس دیا ۔درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔ آپ کی تصانیف سندھی اور عربی میں تھیں ۔ قاضی صاحب کی تصانیف میںسے ایک قلمی نسخہ ملا ہے جو کہ سورہ یسین کا منظوم سندھی میں ترجمہ و تفسیر ہے۔ (ڈاکٹر قریشی حامد علی ( مضمون نگار ) الرحیم حیدر آباد ۱۹۶۸ئ) قاضی صاحب کی زندگی کے متعلق تفصیلات نہ مل سکی ولادت وفات ، تلامذہ و تصان۔۔۔
مزید
نامور ادیب و شاعر ، شمس الاطباء مولانا حکیم پیر سید عبدالغفار شاہ بن مولانا پیر سید امان اللہ شاہ راشدی ( متوفی ۱۹۲۲ئ) گوٹھ ریلن متصل لا ڑکانہ ( سندھ )میں ۱۷ ، شعبان المعظم ۱۳۰۱ھ میں تولد ہوئے۔ تعلیم و تربیت : رمور الاطباء میں ہے :آپ نے دس سال تک فارسی درسیات اور علوم شرعیہ کی تحصیل کی ۔ پندرہ سال کی عمر میں طبی کتابیں اپنے والد ماجد سے دیکھنی شروع کیں ۔ پانچ سال تک اکثر مروجہ کتب کا مطالعہ کیا ایک سال تک مفردات و مرکبات کو دیکھا بھالا اور تیار کیا ۔ ایک سال اپنے والد ماجد کے اہتمام میں مطب ( آپکے والد کا مطب گوٹھ ریلن میں تھا ، اختر شاہ ) کرتے رہے ۔ جس میں آپ کے والد محترم آپ کو مشورہ دیتے تھے اور نیک و بد سمجھاتے رہتے تھے ۔ بعد ازاں (لاڑکانہ شہر میں )علیحدہ مطب جاری کیا۔ اب چھ سات سال سے کام کر رہے ہیں ۔ بیرون جات سے بھی لوگ علاج معالجہ کی غرض سے آتے جاتے ہیں ۔ مرکبار و مفردا۔۔۔
مزید
استاد العلماء مفتی عبدالرحمن بن عنایت اللہ دھامراہ اپنے آبائی گوٹھ دھامراہ ( تحصیل لاڑکانہ ) میں ۷، رجب المرجب ۱۲۶۸ھ کو تولد ہوئے ۔ آپ کا خاندان صدیوں سے اسی گوٹھ دھامراہ میں آباد ہے ، میر صاحبان کے دور حکومت میں آپ کے خاندان کے افراد حکومت کے ممتاز عہدوں پر فائز تھے ۔ اور آپ کے والد محترم عنایت اللہ دھامراہ صاحب درمیانی طبقہ کے زمیندار اور آباد گار تھے ۔ تعلیم و تربیت : ابتدائی عمر میں اپنے والد صاحب کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تقریبا بارہ سال کی عمر میں آپ کے والد صاحب بعض احباب کے اصرار پر آپ کو لاڑکانہ کے گوٹھ بنگلہ دیر و کے مشہور عالم دین حضرت مولانا عبداللہ لاکھو صاحب کے مدرسہ میں داخل کروادیا ۔ مفتی صاحب نے وہیں فارسی کی مکمل تعلیم حاصل کرنے کے بعد عمدۃ المدرسین حضرت علامہ مولانا قمر الدین اندھڑ سہروردی کے پاس گھوٹکی میں عربی کی تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد اعلیٰ ۔۔۔
مزید
حضرت مولانا مفتی علی محمد مہیری بجاری شریف ( تحصیل گونی ضلع بدین ) میں ۱۲۹۴ھ ؍ ۱۸۷۷ء میں تولد ہوئے ۔ تعلیم و تربیت : ابتداء میں حضرت عارف کامل خلیفہ محمود نظامانی قادریؒ کے مرید با فیض حضرت حافظ محمد نوندانی ؒ سے قرآن شریف کی تعلیم حاصل کی ۔ مولانا مہیری پر حضرت حافظ صاحب کی شخصیت کا زیادہ اثر تھا ۔ اس کے بعد فارسی کی تعلیم مخدوم عبدالروٗف نورنگ زادہ اور حافظ احمد میمن ( تحصیل گونی ، گولا رچی ) سے حاصل کی ۔ دوران تعلیم مخدوم عبدالروٗف کا انتقال ہوگیا ، اس لئے حافظ احمد میمن جو کہ کھورواہ میں مخدوم صاحب کے مدرسہ میں مدرس تھے کھور واہ سے دڑو (ضلع ٹھٹھہ ) کے نزدیک ملوک کے گوٹھ منتقل ہوئے تو مولانا مہیری بھی اپنے استاد کے ساتھ آگئے اور گوٹھ ملوک میں تعلیم مکمل کی۔ عربی علم و ادب کی تعلیم مولانا عبدالرحیم عباسی ، مولانا محمد سلیمان ( بنو ) اور حضرت علامہ مفتی حامد اللہ میمن ( بیلو ) سے۔۔۔
مزید