پیر , 25 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 13 April,2026

حضرت خواجہ محمد نور

حضرت خواجہ محمد نور علیہ الرحمہ           خواجہ محمد نور کے متعلق بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ بھی آپ خلیفہ تھے۔ جب خواجہ بزرگ دہلی میں مستقل طور پر مقیم ہوگئے تھے تو خواجہ نور کبھی کبھی حاضر خدمت ہوتے، دو چار گھنٹے مراقبہ فرماتے اور کسی سے گفتگو کئے بغیر چلے جاتے تھے کچھ عرصہ آپ کا یہی معمول رہا آخر کار  ۱۰۰۹ھ میں جمعہ کی نماز کے بعد آپ حضرت خواجہ بزرگ کی خدمت میں بیعت کیلئے حاضر ہوئے۔ حضرت خواجہ نے آپ کو اپنے خلوت خانے میں طلب فرمایا اور دو رکعت نفل پڑھوا کر اپنے سلسلہ میں داخل فرمایا  اور اذکارو اشغال کی اجازت دی اور تین دن روزہ رکھنے کےلیے کہا۔ آپ نے تین دن متواتر روزے رکھے پھر حضرت خواجہ باقی باللہ نے آپ کو اجازت اور خلافت عطا فرما کر رخصت کیا۔            اس کے بعد خواجہ محمد نور دو ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ رفیع الدین

حضرت شیخ رفیع الدین علیہ الرحمۃ  عام تذکروں میں حضرت خواجہ باقی باللہ کے ممتاز خلفائے میں صرف مذکورہ بالا چار حضرات کو شامل کیا گیا ہے مگر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب علیہ الرحمہ نے اپنی مشہور کتاب میں اپنے آباؤ اجداد کے جو حالات و ملفوظات درج کئے ہیں ان میں شیخ رفیع الدین کے حالات بھی تفصیل سے بیان کئے ہیں کیونکہ وہ آپ کے والد محترم شاہ عبد الرحیم کے نانا تھا۔           شیخ رفیع الدین صاحب کے جدا اعلیٰ شیخ طاہر تھے جو اُوچ شریف دریاست بھاولپور پاکستان) میں مقیم تھے ان کے فرزند شیخ حسن تھے۔ شیخ حسن کے فرزند اجمند شیخ  عبد العزیز قادری تھے۔ شیخ عبد العزیز کے صاحبزادے شیخ قطب العالم تھے جو شیخ رفیع الدین کے والد محترم تھے[1]           شیخ رفیع الدین نے سب سے پہلے اپنے والد قطب العالم سے طریقہ چشتیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ اللہ داد

حضرت شیخ اللہ داد علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت تاج الدین سنبھلی

حضرت تاج الدین سنبھلی علیہ الرحمہ           شیخ تاج الدین سنبلی بھی آپ کے مخصوص خلفا ء میں سے تھے۔ کہا جاتا ہے  کہ سب سے پہلے آپ کو خرقۂ خلافت عطا ہوا تھا۔ حضرت خواجہ صاحب اپنے مکاتیب میں بھی آپ کو مناسب ہدایات دیا کرتے تھے ۔ جیسا کہ ہم نے گذشتہ صفحات میں ان کا خلاصہ عنوان تعلیمات و ملفوظات کے آغاز میں بیان کیا ہے۔           آپ حضرت خواجہ صاحب علیہ الرحمہ سے روحانی فیض حاصل کر کے اپنے وطن سنبھل چلے گئے تھے وہاں آپ سے اس قدر روحانی فیوض ظاہر ہوئے کہ تمام لوگ آپ کے معتقد ہوگئے۔ دنیا دار پر آپ کی یہ مقبولیت دیکھ کر حسد کرنے لگے لہٰذا انھوں نے آپ کو زک دینے کےلیے ایک دوانہ فقیر ابو بکر کو آپ سے بھڑادیا۔ آپ نے اپنے روحانی اثر سے اسے سیدھا کردیا تاہم سنبھل والوں کی مخالفت سے تنگ آکر تمام حالات حضرت خوا۔۔۔

مزید

خواجہ حسام الدین احمد

خواجہ حسام الدین احمد علیہ الرحمہ           خواجہ حسام الدین علیہ الرحمہ کے والد قاضی نظام الدین بدخشانی بہت بڑے عالم فاضل تھے۔ ان کا شمار نامور امرائے اکبری میں ہوتا تھا۔ قاضی نظام الدین مشہور بزرگ عالم سعید ترکستانی اور نامور محقق احمد جنید  کے تلمیذ ضاص تھے۔ اس طرح خواجہ  حسام الدین کے گھرانے میں علم و فضل اور امارت دونوں چیزیں ایک ساتھ جمع ہوگئی تھیں اور خود خواجہ حسام الدین بھی ایک بڑے سرکاری عہدے پر فائز تھے اور شہنشاہ اکبر کے مشیر اعظم ابو الفضل سے بھی ان کی رشتہ داری تھی تاہم انھوں نے دنیا کے تمام مال و جاہ کو ٹھکرا کر حضرت خواجہ صاحب علیہ الرحمہ کی مصاحبت اختیار کی اور دنیاوی شان و شوکت کو چھوڑ کر فقیری اور درویشی اختیار کی۔           وزیر السلطنت ابو الفضل کو ان کا یہ رویہ ناپسند ہ۔۔۔

مزید

شیخ اللہ داد خلیفہ خواجہ باقی باللہ

شیخ اللہ داد خلیفہ خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمۃ شیخ اللہ داد لاہور  سے ما وراءالنہر کے سفر کے زمانے میں آپ کی خدمت میں پہنچے تھے اور آپ سے فیض حاصل  کر کے طریقہ مراقبہ اور ذکرو اذکار اکابر نقشبندیہ کی تلقین حاصل کی اور آخر دم تک درگاہ کی خدمت اور مسافروں کے کھانے پینے کا انتظام کرتے رہے۔۔۔۔

مزید

مولانا حافظ سعد اللہ

مولانا  حافظ سعد اللہ علیہ الرحمۃ آپ خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ کے حفظ کے استاذ تھے ۔آپ کابل میں ایک ہی محلہ میں رہائش پذیر تھے۔اسی محلہ میں بچوں کو قرآنِ مجید کی تعلیم دیا کرتے ۔آپ بہت ہی متقی و پرہیزگار تھے۔خواجہ باقی باللہ علیہ الرحمہ نے آپ سے حفظ قرآنِ مجید مکمل کیاتھا۔  ۔۔۔

مزید

مولانا محمد صادق حلوائی

مولانا محمد صادق حلوائی علیہ الرحمۃ مولانا صادق حلوائی کا وطن سمرقند تھا جب وہ ۹۷۸ھ میں حج سے واپس تشریف لائے تو شہنشاہ اکبر کے چھوٹے بھائی مرزا حکیم نے جو کابل کا حکم تھا، مولانا سے درخواست کی کہ وہ کچھ عرصہ کابل تشریف لاکر انہیں اور وہاں کے لوگوں کو اپنے علمی فیض سے مستفید ہونے کا موقع دیں۔ لہٰذا وہ اس کی فرمائش پر کچھ عرصہ کابل میں درس دیتے رہے۔ اسی زمانہ میں حضرت خواجہ باقی باللہ نے بھی اُن سے تعلیم حاصل کی۔ وہ بہت بڑے عالم و فاضل اور خوش گو شاعر بھی تھے۔ اُن کے بھائی ملا علی محدث سمرقندی بھی بہت بڑے عالم اور محدث تھے۔ مولانا صادق حلوائی  ہندوستان بھی آئے، کچھ عرصہ علم و فضل کے خزانے لوٹانے کے بعد واپس وطن تشریف لے گئے اور ۹۸۱ھ میں وفات پائی نمونہ کلام ملاحظہ ہو ؎ دل گم شدد نمی دہم کس نشان ازو ضمیر دوست چوں آئینہ در مقابل ماست در مشقت کز تو پنہاں در دل و جاں داشتم   ۔۔۔

مزید

حضرت جعفر ذکی خلیل

حضرت جعفر ذکی خلیل علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید

حضرت عبداللہ بن علی

حضرت عبداللہ علیہ الرحمۃ۔۔۔

مزید