حضرت محمد بن راہوتی علیہ الرحمۃ محمد بن راہوتی سندھ کے اولیاء کبار میں سے ایک تھے لاکھا قوم سے تعلق تھا، حافظ قرآن مرتاض اور عبادت گذار تھے، مزار پر انور، والد ماجد شیخ راہوتی کے مزار کے قریب موریانی کے مقام پر ہے۔ (حدیقۃ الاولیاء ص ۱۱۰) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )علیہ الرحمۃ۔۔۔
مزید
حضرت محمد بن اسحاق علیہ الرحمۃ مخدوم محمد بن اسحاق مشہور صوفی مخدوم احمد کے بھائی اور مخدوم اسحاق بھٹی کے صاحبزادےتھے جو شیخ بہاو الدین زکریا ملتانی کے خاندان میں مرید تھے اور صاحب فضل و کمال تھے محمد بن اسحاق عالم کامل اور عابد مرتاض ولی تھے، اکثر اوقات حالت مراقبہ میں عالم ملکوت کی سیر کرتے تھے اور اس منزل کو تصوف کی ادنیٰ منزل قرار دیتے تھے، خلق خدا کی حاجت روائی کا اس درجہ خیال رہتا کہ بادشاہوں اور حکام کے پاس جائز سفارش کے لیے جانا پڑتا تو دریغ نہ کرتے تھے، آپ کے تینوں صاحبزادے یعنی مخدوم یوسف مخدوم محمد صادق اور مخدوم یعقوب صاحب کشف و کرامت بزرگ ہوئے۔ (تحفۃ الکرام ج۳،ص۱۴۸، ۱۴۹) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت محمد حسین پیر مراد علیہ الرحمۃ و ۸۳۱ھ ف ۸۹۳ھ/ ۱۴۸۷ء قطب الاقطاب سید محمد حسین بن سید احمد کا سلسلہ نسب بیسویں پشت میں امام موسیٰ کاظم سے جاملتا ہے، سید مراد آپ کا لقب ہے، سلطان مبارزالدین بن مظفر الدین کے دور حکومت میں آپ کے دادا سید محمد حسینی شیرازسے سندھ میں آباد ہوئے، آپ کے والد کا ابتدائی زمانہ سیہون میں گذرا اور وہ حضرت قلندر شہباز کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ سید مراد کی ولادت ۸۳۱ھ میں ہوئی۔ آپ کی ولادت سے پہلے محمد عیسیٰ اور بعض دیگر اولیاء اللہ نے آپ کی ولادت کی خوش خبری دی اور آپ سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ جب حضرت پیر مراد کی عمر چالیس برس کی ہوئی تو دور دور تک آپ ۔۔۔
مزید
حضرت محمد راشد شیخ روضہ دھنی علیہ الرحمۃ و۔ ۱۱۷۰ھ/ف۱۲۲۳ھ راشدی خاندان نے اپنے علم و فضل اور ورع و تقویٰ سے پورے سندھ میں دھوم مچا رکھی ہے، اس کے مورث اعلیٰ پیر محمد راشد ابن سید محمد بقاء بن سید علی لکی ہوئے ہیں، سید محمد بقاء کے اٹھارہ بیٹوں میں سے ایک آپ تھے۔ آپ کی ولاددت ۱۱۷۰ھ میں ہوئی، جیسا کہ دوسرے بعض بزرگوں کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے پیدائش کے بعد رمضان شریف کے دن میں دودھ نہیں پیا ایسا ہی آپ نے بھی رمضان شریف کے ایام میں والدہ کا دودھ پینا ترک کردیا تھا۔ (تذکرہ صوفیاء سندھ ص ۲۶۹) آپ کے فاضل اساتذہ میں مخدوم احمدی (جو کھوڑہ کے جید عالم تھے) اور ان کے صاحبزادے مخدوم محمد عاقل اور فقیر ا۔۔۔
مزید
حضرت محمد صدیق حافظ بھر چونڈوی علیہ الرحمۃ و۔۱۲۳۴ھ ف۔۱۳۰۸ھ حافظ محمد صدیق قدس سرہ بھر چونڈوی کے بانی کہلاتے ہیں، آپ کا خاندان کیچ مکران کے راستہ سندھ میں داخل ہوااور بھر چونڈی سے شمال کی جانب دو تین میل کے فاصلے پر اس زمانہ کی شاہی سڑک کے کنارے آباد ہوگیا، جس کے نشانات آج بھی پائے جاتے ہیں، آپ کے والد کا نام میاں محمد ملوک تھا، انکا گذر بسر کاشتکاری پر تھا، وہ حافظ صاحب کے بچپن ہی میں انتقال کر گئے تھے ، حفظ قرآن کے بعد بہاولپور میں احمد پور کے علاقہ میں بستی جندو ماڑی میں ایک مکتب میں داخل ہوگئے آپ کے بچپن ہی میں مخدوم سید محمود راشد روضی دھنی قدس سرہ کے خلیفہ خاص سید حسن شاہ صاحب جیلانی قدس سرہ بھر چونڈی کے قریب جنگل میں خیمہ زن ہوئے، آپ کا قدم رنجہ فرمانا تھا کہ آپ کی روحانی کشش سے مخلوق خدا پروانہ وارخی۔۔۔
مزید
حضرت محمد طاہر اشرف اشرفی الجیلانی سید علیہ الرحمۃ و ۱۳۰۷ھ۔ ۱۹۶۱ء چھٹی صدی ہجری اور اس کے قریب کا زمانہ میں اولیاء کرام کے باران فیض کا دور ہے کثیر تعداد میں بزرگان دین اس زمانے میں عالم اسلام کے مرکزی مقامات سے ہندوستان میں وارد ہوئے ان ہی بزرگوں میں ایک عظیم روحانی شخصیت غوث العالم تارک السلطنت ہحبوب یزدانی حضرت مخدوم سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کی ہے جو ایران کی ایک ریاست سمنان کے شہنشاہ تھے اور ترک سلطنت کے بعد ہجرت فرما کر ہندوستان تشریف لائے اور مقام کچھو چھہ شریف ضلع فیض آباد یوپی میں مقیم ہوئے اور یہیں وصال فرمایا حضرت مخدوم سمنانی قدس سرہ نے زندگی تجرد میں گزاری لیکن آپ کے سلاسل نسبی اور بیعت آپ کے خواہر زادہ حضرت سید عبدالرزاق نور ال۔۔۔
مزید
محمد عارف سیوستانی مخدومعلیہ الرحمۃ مخدوم محمد عارف بن مخدوم محمد حسن بن دین محمد صدیقی بن عبدالواحد پاٹائی، جلیل القدر محدث اور فقیہہ تھے اپنے چچا مخدوم عبدالواحد سے ہی شریعت وطریقت کا علم حاصل کیا تھا، اور خرقہ خلافت حاصل کیا، پوری زندگی اپنے عظیم چچا کی طرح شریعت و طریقت کی خدمت میں گذاردی، آپ کی وفات ۱۲۵۸ھ میں ہوئی مادہ تاریخ یہ عبارت ہے۔ رضی اللہ مجید عنہ۔ (۱۲۵۸ھ) (تذکرہ مشاہیر سندھ س ۲۱۳) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
محمد عبداللہ حافظ بھر چونڈوی علیہ الرحمۃ حافظ صاحب ۱۲۸۳ھ میں پیدا ہوئے، حضرت حافظ محمدصدیق بھر چونڈوی قدس سرہ کے خلیفہ اور جانشین تھے، اور رشتہ میں ان کے بھتیجے تھے سجادہ نشینی کے وقت عمر کل پچیس برس تھی، بیس سال کی عمر میں درس نظامی سے فارغ ہوئے اور پانچ سال شیخ کی خدمت میں رہ کر منازل سلوک طے کیں ، اس نو عمری میں آپ کے والد ماجد کا نام قاضی اللہ بخش تھا، حضرت حافظ محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ کے چھوٹے بھائی تھے آپ نے تجردکی زندگی تھی اس لیے بھائی کی اولاد کو بالکل اپنی اولاد کی طرح جانا، حافظ صاحب قدس سرہ نے اپنے اس ہونہار بھتیجے کو اپنے ایک مرید مولوی محمد اسحاق کے پاس کوٹ سبزل میں بٹھا دیا، کوٹ سبزل بھر چونڈی سے کوئی پچس میل کے فاصلہ پر حدود بہاولپور میں ہے، جب چھٹیاں ہوتیں تو حافظ محمد&n۔۔۔
مزید
حضرت محمد شیخ غوث علیہ الرحمۃ آپ صاحب حال اور باکمال بزرگ تھے، آپ کا مزار مکلی پر میاں موسیٰ مہربان کے مزار کے پاس ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۹۵) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید
حضرت محمد سید غوث علیہ الرحمۃ آپ صاحب کرامت بزرگ تھے، ایک کرامت آپ کی اس طرح بیان کی جاتی ہے کہ ایک شخ ص کی بیٹی بے حد حسین تھی مگر پیدائشی بہری تھی اور اتنی بہری کہ بجلی کوندنے کی آواز بھی اس کے کانوں میں نہیں جاتی تھی وہ شخص بہت غمزدہ تھا اس نے حضرت سے عرض کی آپ نے فرمایا جاؤ اس کے کانوں میں اذان دو، اس نے گھر جا کر اذان دی تو بحکم خدا اس لڑکی کی قوت سماعت بحال ہوگئی،آپ کا مزار شریف مکلی پر ہے۔ (تحفۃ الطاہرین ص ۹۷) (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید