مولی عمرو بن عمیر ثقفی: یہ طائف سے نکل کر حضور کے پاس آگئے تھے۔ اور آپ نے آزاد فرما دیا تھا ان کے نوے یا ستر بچے تھے۔ بہ مقام سرف بنو تمیم اور بنو عقیل میں شادی کی تھی۔ اور حجاج بن یوسف کی سرکار میں ملازم رہے تھے۔ یہ جعفر کا بیان ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
مولی ابو الہشبم بن تیہان غزوۂ احد میں شہید ہوئے۔ ابو عمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عنبس بن زید بن عامر بن سواد بن ظفر انصاری ظفری: ایک روایت میں ان کا نام یُسیر مذکور ہے۔۔۔۔
مزید
بن حصین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی، اور ان سے مجاہد بن جبر نے بیان کیا کہ میں نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں بالجہر سلام پھیرتے ہوئے، رخسار مبارک دیکھ رہا ہوں۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن حارثہ ثقفی: بنو زہرہ بن کلاب کے حلیف تھے اور بقولِ ابو معشر جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ ابن اسحاق کے مطابق ان کا نام حییٔ بن حارثہ تھا۔ ابو عمر نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن شیبان ازدی یادیلی: انہیں صحبت میسر آئی۔ ان سے عمر بن عبد اللہ بن صفوان الجمحی نے روایت کی کہ ابن مربع الانصاری ان کے پاس آئے، اور کہنے لگے، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے چونکہ تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث کے وارث ہو۔ اس لیے اپنے مشاعر کی پاسداری کرو۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن اوس الاشجعی: ایک روایت میں اشعری آیا ہے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں ابو عمر کہتے ہیں انہیں صحابہ میں ان لوگوں نے شمار کیا ہے جنہیں وسعت نظر عطا نہیں ہوئی۔ ان سے ولید بن نمیر نے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میرے خیال کے مطابق انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی نمیر بن ولید بن نمیر بن اوس نے اپنے والد سے انہوں نے دادا سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ دعا اللہ کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جو قضائے مبرم کو بھی ٹال دیتا ہے ابو عمر اور ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے ابن اثیر لکھتے ہیں لیکن ابو موسیٰ نے یہ نہیں لکھا کہ جناب نمیر کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی۔ علامہ واقدی کے کاتب محمد بن سعد لکھتے ہیں کہ نمیر بن اوس اشعری شام کے طبقۂ ثالث کے تابعی اور دمشق کے قاضی تھے انہوں نے کم احادیث کی روایت کی انہوں ن۔۔۔
مزید
بن حارث الانصاری اوسی ظفری: پھر از بنو عبید بن رزاح کعب، جن کا نام ظفر ہے جناب نمیر غزوۂ بدر میں موجود تھے جعفر نے باسنادہ ابن اسحاق سے انہوں نے ابو جعفر سے باسنادہ یونس سے انہوں نے ابن اسحاق سے بہ سلسلۂ شرکائے بدر جن کا تعلق بنو عبید بن رزاح سے نمیر بن حارث کا ذکر کیا ہے ایک روایت میں ان کا نام نصر اور ایک میں نضتر مذکور ہے ہم اس کا ذکر پہلے کر آئے ہیں ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن خرشہ بن ربیعہ ثقفی بلحارث بن کعب ان کے حلیف تھے یہ ان لوگوں میں شامل تھے جو عبد یا لیل کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے امام بخاری نے ان کو صحابہ میں شمار کیا ہے۔ عبد العزیز قاسم بن عامر بن نمیر بن خرشہ نے اپنے والد سے انہوں نے ان کے دادا سے جو بنو ثقیف کے وفد میں شامل تھے روایت کی کہ ہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حجفہ کے مقام پر ملاقات کی لوگ ہمارے آنے سے خوش ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمارے خیر مقدم کا حکم دیا۔ تینوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
بن عامر الخمیری: جریر بن حازم کہتے ہیں کہ انہوں نے جنابِ ایوب رضی اللہ عنہ کی محفل میں ایک بدو کو صوف کا جبہ پہنے دیکھا وہ کہتے ہیں مجھ سے میرے مولی قرہ بن دعموص بن ربیعہ بن عوف بن معاویہ نے بیان کیا، کہ وہ مدینے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے آئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس اتنا ہجوم تھا کہ انہیں قریب آنے کا موقعہ نہ مل سکا انہوں نے وہیں سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! اس غلام کے لیے مغفرت کی دعا فرمایئے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے معاف فرمائے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحاک بن قیس کو ہمارا عامل مقرر فرمایا ابو موسےٰ نے اس کا ذکر کیا ہے لیکن ان کی روایت میں نمیر بن عامر کا ذکر نہیں اور حدیث کا راوی قرہ ہے ابن اثیر لکھتے ہیں اس میں کچھ مواد ایسا ہے جسے میں نہیں سمجھ پایا۔ ۔۔۔
مزید