ایک روایت میں ان کا نام عبد اللہ بن منتفق مذکور ہے۔ ابن شاہین نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عبد اللہ بن سلیمان سے سُنا، وہ کہتے تھے کہ منتفق کی کنیت ابو رزین تھی اور وہ عقیلی تھے۔ انہوں نے باسنادہ محمد بن حجادہ سے انہوں نے مغیرہ بن عبد اللہ سے روایت کی کہ مَیں اور میرا ایک دوست کوفے گئے جب ہم داخل شہر ہوئے، تو ہماری ملاقات بنوقیس کے ایک آدمی سے ہوئی۔ جس کا نام منتفق یا ابن منتفق تھا۔ اُس نے کہا کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مِلنے کا خواہش مند ہے۔ انہوں نے کہا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں ہیں جب وہ منیٰ میں پہنچا، تو لوگوں نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں ہیں۔ اور حدیث بیان کی۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابن اثیر لکھتے ہیں، کہ عبد اللہ بن سلیمان کا یہ قول کہ منتفق ہی ابو رزین عقیلی ہے۔ سرا سروہم ہے۔ کیونکہ ابورزین العقیلی سے مراد لقیط بن ۔۔۔
مزید
بن راشد ناجی: اور ناجیہ بنو اسامہ بن لوی کا ایک ذیلی قبیلہ ہے اور منجاب حریث کے بھائی تھے۔ سیف اور مداینی نے جنابِ منجاب کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے۔ جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فارس کے مختلف شہروں میں بطورِ حاکم مقرر رہے اور ان لوگوں سے تھے جو حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں بھائیوں نے اسلام قبول کیا۔ یہ دونوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہوا خواہوں میں سے تھے۔ مگر تحکیم کے بعد بھاگ گئے تھے۔ ان کے بھائی حریث نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خراسان میں بغاوت کردی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف لشکر کشی کی کیونکہ بنو ناجیہ کی کثیر تعداد مرتد ہوگئی تھی۔ ہم ان کا واقعہ مفصل طور پر الکامل فی التاریخ میں بیان کر چکے ہیں۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ یہ منجاب اول الذکر سے مختلف ہیں۔ کیونکہ وہ ضبی تھے۔ اور یہ بنو سامہ بن لوی سے ہیں، اور ناجیہ ان کا ذیلی قبیلہ ہے اور بنو۔۔۔
مزید
بن راشد بن اصرم بن عبد اللہ بن زیاد بن حزن بن بالیہ بن غیظ بن سید بن مالک بن بکر بن سعد بن ضبہ ضبی: انہوں نے کوفے میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور ان سے ان کے بیٹے سہم نے روایت کی اور سہم کا شمار کوفہ کے اشراف میں ہوتا تھا اور یہ ان تینوں آدمیوں میں سے ایک ہیں۔ جن کے سامنے زیاد نے مرتے وقت وصیت کی تھی۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن اجدع الہمدانی: اُنہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ یہ جعفر کا قول ہے۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
الاسلمی: ایک روایت میں منتذر مذکور ہے۔ افریقہ میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ ابو عبد الرحمٰن سلمیٰ نے ان سے روایت کی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سُنا کہ جس نے صبح اُٹھ کر کہا کہ مَیں اللہ کو اپنا رب۔ اسلام کو اپنا دین اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی تسلیم کرتا ہوں۔مَیں اسے ضمانت دیتا ہوں کہ مَیں اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سیدھا جنت میں لے جاؤں گا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو نعیم کہتے ہیں۔ بعض متاخرین نے اس حدیث کو حرملہ سے بہ این اسناد بیان کیا ہے: حرملہ نے ابن وہب سے انہوں نے یحییٰ بن عبد اللہ سے انہوں نے عبد الرحمٰن سلمی سے روایت کی، لیکن یہ وہم ہے کیونکہ یہ ابو عبد الرحمٰن جیلی ہے اور سلمی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ ۔۔۔
مزید
الاسلمی: ایک روایت میں منتذر مذکور ہے۔ افریقہ میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ ابو عبد الرحمٰن سلمیٰ نے ان سے روایت کی کہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سُنا کہ جس نے صبح اُٹھ کر کہا کہ مَیں اللہ کو اپنا رب۔ اسلام کو اپنا دین اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نبی تسلیم کرتا ہوں۔مَیں اسے ضمانت دیتا ہوں کہ مَیں اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سیدھا جنت میں لے جاؤں گا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ابو نعیم کہتے ہیں۔ بعض متاخرین نے اس حدیث کو حرملہ سے بہ این اسناد بیان کیا ہے: حرملہ نے ابن وہب سے انہوں نے یحییٰ بن عبد اللہ سے انہوں نے عبد الرحمٰن سلمی سے روایت کی، لیکن یہ وہم ہے کیونکہ یہ ابو عبد الرحمٰن جیلی ہے اور سلمی کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی اسید الساعدی: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن کا نام منذر رکھا تھا۔ ابو الفرج یحییٰ بن محمود اور عبد الوہاب بن، سبتہ اللہ نے باسناد ہماتا مسلم سے روایت کی کہ ان سے محمد بن سہل تمیمی اور ابو بکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہ ان سے ابن ابی مریم نے اور ان سے محمد یعنی ابن مطرف ابو غسان نے ان سے ابو حازم نے ان سے سہل بن سعد نے بیان کیا کہ منذر بن ابی اسید بعد از پیدائش، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اپنی رانوں پر کھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی چیز پڑی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ادھر مبذول ہوگئی تو ابو اسید نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، حکم دیا کہ بچے کو اٹھا لے جاؤ اور واپس کردو۔ حضور ادھر سے فارغ ہوئے، تو پوچھا بچہ کدھر ہے۔ ابو اسید نے جواب دیا، یا رسول اللہ! ہم نے واپس بھجوادیا، ہے۔ دریافت ف۔۔۔
مزید
بن ابی اسید الساعدی: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن کا نام منذر رکھا تھا۔ ابو الفرج یحییٰ بن محمود اور عبد الوہاب بن، سبتہ اللہ نے باسناد ہماتا مسلم سے روایت کی کہ ان سے محمد بن سہل تمیمی اور ابو بکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہ ان سے ابن ابی مریم نے اور ان سے محمد یعنی ابن مطرف ابو غسان نے ان سے ابو حازم نے ان سے سہل بن سعد نے بیان کیا کہ منذر بن ابی اسید بعد از پیدائش، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اپنی رانوں پر کھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کوئی چیز پڑی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ ادھر مبذول ہوگئی تو ابو اسید نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، حکم دیا کہ بچے کو اٹھا لے جاؤ اور واپس کردو۔ حضور ادھر سے فارغ ہوئے، تو پوچھا بچہ کدھر ہے۔ ابو اسید نے جواب دیا، یا رسول اللہ! ہم نے واپس بھجوادیا، ہے۔ دریافت ف۔۔۔
مزید
بن ساوی بن عبد اللہ بن زید بن عبد اللہ بن دارم تمیمی الدارمی: یہ بحرین کے حاکم تھے۔ ابن کلبی نے ان کا نسب بیان کیا ہے۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بحرین کے حاکم تھے۔ ایک روایت کے مطابق ان کا تعلق بنو عبد القیس سے تھا۔ ہم نے نافع ابو سلیمان کے ترجمے میں، ان کی حاضری دربارِ رسالت کا ذکر کیا ہے۔ ابو بحلز نے ابو عبیدہ سے انہوں نے عبد اللہ سے روایت کی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منذر بن ساوی کو لکھ کر بھیجا ’’جس شخص نے ہماری طرح نماز ادا کی۔ ہمارے قبلے کی طرف منہ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا۔ وہ مسلمان ہے۔‘‘ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن سعد بن منذر ابو حمید الساعدی: ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، کوئی منذر اور کوئی عبد الرحمٰن کہتا ہے۔ اور یہ ان لوگوں میں سے ہیں، جن کی کنیت ان کے نام پر غالب آگئی۔ ان کا ذکر باب العین میں ہوچُکا ہے۔ اب کنیتوں کے عنوان کے تحت ایک دفعہ پھر ان کے حالات بیان ہوں گے۔ تینوں نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید