پیر , 01 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 18 May,2026

سیّدنا عبدالرحمن ابن عائش حضرمی رضی اللہ عنہ

   ہیں۔ان کاشمار اہل شام میں ہےان کی صحابیت اوراسنادحدیث میں اختلاف ہے ان سے خالدبن الجلاج اورابوسلام حبشی نے روایت کی ہے۔ان کا صحابی ہونا صحیح نہیں ہے کیوں کہ ان کی حدیث مضطرب ہے۔ہم کوابومنصور بن مکارم بن احمد بن سعد مودب نےاپنی سند سے خبر دی  انھوں نے معافی بن عمران سے انھوں نے اوزاعی سے انھوں نے عبدالرحمن بن زید سے انھوں نے خالد بن لجلاج سے سناکہ وہ کہتے تھے مکحول نے عبدالرحمن بن عائش حضرمی سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ وہ کہتےتھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں نے اپنے پروردگار کوایک بہت اچھی صورت میں دیکھااورآپ نے بہت سی باتیں کیں اور یہ بھی بیان کیا(کہ میں نے پروردگار عالم سے یہ دعاکی)کہ اے اللہ نیک چیزوں کی میں تجھ سے طلب کرتاہوں اور بری چیزوں کوتومجھ سے چھڑادے اورمسکینوں کی محبت مجھکوعنایت فرما۔میری توبہ کوقبول فرما جب تومیری قوم میں کسی فتنہ کاارادہ کرےتومجھ ک۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن عائذ رضی اللہ عنہ

   بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا۔بخاری نے انکوصحابہ میں ذکرکیاہے ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے۔ان سے مروی ہے کہ یہ کہتے تھے جب رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم (کسی طرف)لشکربھیجتے تھے تو لشکروالوں سے فرماتے تھے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور صلاحیت کرنادعوت اسلام دیے بغیر ان میں لوٹ مارنہ کرنامجھ کو بہ نسبت اس کے کہ تم کافروں کی عورتوں اوربچوں کو(قیدکرکے)لے آؤ اور ان کے مردوں کومارڈالو یہ بات زیادہ محبوب ہے کہ ان کو مسلمان کرکےمیرے پاس لاؤ خواہ وہ شہرکے رہنے والے ہوں یاگاؤں کے۔ان کاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نےلکھاہے۔ ۱؎دعوت بمعنی بلانا یعنی جب تک ان لوگوں کواسلام کی طرف نہ بلاؤاس وقت تک ان کے مالوں میں لوٹ مار نہ کرنا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن صفوان رضی اللہ عنہ

   بن قدامہ حمجی ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ قریشی ہیں۔اوربعض لوگوں کابیان ہے کہ ان کانام صفوان  بن عبدالرحمن بن امیہ ابن خلف ہے ان کی حدیث مجاہد سے روایت کی گئی ہے۔ ابوبکربن عیاش نے یزید بن ابی زیاد سے انھوں نے مجاہد سے انھوں نے عبدالرحمن بن صفوان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم  سے(فتح مکہ کے بعد)ہجرت کی نسبت دریافت کیاحضرت نے فرمایاکہ اب ہجرت نہیں ہے۔ہم کوعبدالوہاب بن ہبتہ اللہ بن ابی حبہ نے اپنی سند کوعبداللہ بن احمد تک پہنچاکر خبردی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے جریرنے یزید بن ابی زیادسے انھوں نے عبدالرحمن بن صفوان سےروایت کرکے بیان کیاکہ عبدالرحمن بن صفوان نے کہا جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے شہرمکہ کو فتح کیا میں نے (اپنے دل میں)کہاکہ کپڑے اپنے پہن لوں اور دیکھوں کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کیاکرتے ہی۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن صفوان بن قتادہ رضی اللہ عنہ

   یہ اوران کے والد صحابی تھے۔موسیٰ بن میمون بن موسیٰ المرائی نے اپنے والد  میمون سے انھوں نے اپنے داداعبدالرحمن بن صفوان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدنیہ ہجرت کرکے گئے اس وقت آپ مدینہ میں تھے اور انھوں نے آپ سے اسلام پر بیعت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کوبڑھایاصفوان نے دست مبارک کا مسح کیااورکہایارسول اللہ میں آپ کوسب سے زیادہ محبوب رکھتاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآدمی جس کودوست رکھےگا(اس ک حشر)اسی کے ساتھ ہوگا ابن مندہ نے کہا ہے کہ یہ شہر حمص کے رہنے والے ہیں اور انھوں نے محمد بن عمروبن اسحاق سے انھوں نے ابی علقمہ یعنی نصر بن علقمہ سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداعبدالرحمن بن صفوان بن قتادہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے اورمیرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی (جب آپ کی ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن صفوان  رضی اللہ عنہ

   بن امیہ حمجی قریشی ان کا شمار اہل مکہ میں ہے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہےکہ آپ نے ان کے والد صفوان ابن امیہ سے کچھ ہتھیارعاریتاًلیے تھے۔ان سے ابن ابی ملیکہ نے روایت کی ہے ابوحاتم رازی نے کہاہے کہ عبدالرحمن بن صفوان حمجی وہی شخص ہیں جنھوں نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےمکے والوں سے کچھ ہتھیار عاریتاً لیے تھے۔ان سےابن ابی ملیکہ نے روایت کی ہے اورجن عبدالرحمن سے مجاہد نے روایت کی ہے وہ دوسرے ہیں (یعنی)وہ عبدالرحمن بن صفوان یاصفوان بن عبدالرحمن کہےجاتےہیں اور قریش کی طرف منسوب نہیں ہیں۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن ابی صعصعہ رضی اللہ عنہ

  کانام عمروہے وہ بیٹے ہیں زیدبن عوف بن منذر بن عمروبن غنم بن مازن بن نجارکے انصاری خزرجی مازنی ہیں قیس  کے بھائی تھے۔قیس بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداسے جواہل بدر میں سے تھے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوسناآپ یہ دعامانگ رہے تھے کہ اے اللہ انصارکو اور انصارکے بیٹوں کواورانصارکےبیٹوں کے بیٹوں کوبخش دے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے اورجس طرح ہم نے عبدالرحمن کے نسب کوذکرکیاہےاسی طرح انھوں نے بیان کیاہےاورابن کلبی نے بھی ان کا نسب بیان کیاہےپھران کے بھائی کا یوں نسب بیان کیاہے قیس بن صعصعہ بن زید بن عوف بن مبذول بن عمرو بن غنم عمرو یعنی ابوصعصعہ کوسیاق نسب سے کلبی نے ساقط کردیااور منذر کے عوض مبذول کہاہے اور یہی صحیح ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن صخر رضی اللہ عنہ

  کنیت ان کی ابوہریرہ تھی ۔عبداللہ بن سعد زہری نے محمدبن اسحاق سے روایت کی ہے ابوہریرہ کانام عبدالرحمن بن صخرتھا ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن صبیحہ رضی اللہ عنہ

   تمیمی ہیں۔واقدی نے کہاہے کہ یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پیداہوئے تھےاور حضرت ابوبکرکے ساتھ حج کیاتھاانھوں نے حضرت ابوبکروعمررضی اللہ عنہماسے روایت کی ہے مدینہ میں چھلنی بنانے والوں اور سبزی فروشوں کے پاس ان کا مکان تھا۔ابوعمرنے ان کا تذکرہ لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ

   بن طلحہ بن ابی طلحہ بن عبدالعزی بن عثمان بن عبدالداربن قصی حجبی عبدری ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کازمانہ توپایاتھامگر آپ سے حدیث نہیں سنی ان کے والد اور چچا اورداداصحابی تھے عبدالملک بن عمرو نے علی بن مبارک سے انھوں نے یحییٰ بن ابی کثیرسے انھوں نے ابوقلابہ سے روایت کی ہے کہ ان کوعبدالرحمن بن شیبہ نے خبردی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض لاحق ہواجس سے آپ بے چین تھے اور بسترپر کروٹیں بدلتے تھےحضرت عائشہ نے کہا (یارسول اللہ)اگریہ بیماری ہم میں سے کسی نے دی ہوتی تو بے شک اس پرہمیں سخت غصہ آتا۔ رسول  خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(ہاں بےشک یہ توخداکی طرف سے ہے دنیامیں) مومن پر سختی ہی کی جاتی ہے۔یہ ابن مندہ کاقول تھاابونعیم نے کہاہے کہ یہ عبدالرحمن تابعی ہیں(صحابی نہیں ہیں) اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے ان سے صرف ابوقلابہ نے روایت کی ہے۔بعض متاخرین یعنی ابن ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبدالرحمن ابن شرحبیل رضی اللہ عنہ

   بن حسنہ۔ربیع بن سلیمان جیزی نے ان صحابہ میں ان کاذکرکیاہےجوشہرمصرمیں داخل ہوئےتھے ۔اس کو غسانی نےبیان کیاہے اور ابن یونس نے کہاہے کہ یہ عبدالرحمن شرحبیل بن عبداللہ  بن مطاع کے بیٹے ہیں اوربیان کیاجاتاہے کہ انھوں نے اور ان کے بھائی ربیعہ بن شرحبیل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاہے اور یہ دونوں فتح مصرمیں شریک تھے ان کے بیٹے عمران نے ان سے روایت کی ہے اورعمران شہرمصر کے قاضی تھے۔عبدالرحمن کی نسبت بیان کیا جاتا ہےکہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے عبدالرحمن سے ابن وہب نے روایت کی ہے یہ بیان ابن ماکولاکاتھا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید