بن سحیم بن غیرۃ بن سعد بن لیث بن بکر بن عبدمناہ بن کنانہ۔کنانہ لیثی۔یہ (قبیلۂ)عبدشمس کے حلیف تھے اور بعض لوگوں نے کہا کہ (قبیلہ)بنی اسد بن خزیمہ کے حلیف تھے اور ان کے بھانجے تھے۔یہ خیبر کے دن شہیدکیے گئے ہمیں عبداللہ بن احمد بن علی نے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرتک خبردی انھوں نے محمد بن اسحاق سے نقل کرکے ان لوگوں کے نام میں جو (واقعہ)خیبرکے دن شہید ہوئے یہ بیان کیاہے کہ(قبیلہ) بنی سعد بن لیث سے عبداللہ بن قلان ابن وہیب بن سحیم تھے جوکہ (قبیلہ)بنی اسد کے حلیف تھے اوران کے بھانجے تھے۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔یہ بھائی ہیں شریح بن ہانی بن یزید بن نہیک بن ورید بن سفیان بن ضباب کے ضباب کا دوسرا نام سلمہ ہے وہ بیٹے ہیں ربیعہ بن حارث بن کعب کے حارثی ہیں اس لیے کہ یہ قبیلہ ٔ بنی حارث بن کعب بن مذحج کی ایک شاخ سے ہیں۔یزید بن مقدام بن شریح ہانی نے اپنے والد مقدام سے انھوں نے اپنے والد شریح سےانھوں نے اپنے والد ہانی بن یزید سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ (ایک دفعہ)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم (میرے یہاں)تشریف لائے اور یہ پوچھا کہ تمھارے کتنے لڑکے ہیں میں نے عرض کیا کہ تین یعنی شریح اور عبداللہ اور مسلم تو آپ نے یہ فرمایا کہ ان سب میں بڑاکون ہے تومیں نے عرض کیاکہ شریح تو آپ نے فرمایا کہ جاؤتمھاری کنیت ابوشریح ہے۔امام بخاری نے ان کے تذکرہ کوان لوگوں میں بیان کیاہے جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کوپایاہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کاتذکرہ حسن بن سفیان نے(کتاب) وحدان میں لکھا ہے۔ابونعیم نے ان کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ان کے صحابی ہونے میں شبہ ہے۔عبداللہ بن عمروجمحی نے عبداللہ بن ہاد سے روایت کرکے بیان کیاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعامیں یہ مانگتے تھے کہ اللہ میرے مجھ کو ثابت قدم رکھ اس بات سے کہ(حق سے)جاؤں اور میری ہدایت کرتاکہ گمراہ نہ ہونے پاؤں اور اے اللہ میرے جیسا کہ تومیرے اور میرے قلب کے درمیان حائل ہوگیاہے ویساہی تومیرے اور شیطان اورشیطان کاموں کے درمیان میں حائل ہوجا۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن نہیک۔یہ مالک بن حسل کی اولا د میں ہیں۔ان کاتذکرہ ابن واب نے صحابہ میں لکھاہے۔اورکہا ہےکہ ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (قبیلہ)بنی معیض اورمحارب بن فہر کے پاس بھیجا تھا تاکہ ان لوگوں کودعوت اسلام دیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن الحارث بن عبدالمطلب۔قریشی۔ہاشمی۔ان کی کنیت ابومحمد تھی۔واقدی نے بیان کیا ہے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو پایاہے مگرانھوں نے آپ سے کوئی روایت نہیں کی ہے۔یہ (حضرت) معاویہ کے زمانہ میں مدینہ منورہ کے قاضی بنائے گئے تھے ان کو مروان بن حکم نے قاضی بنایاتھا۔ایک قول کے مطابق یہی شخص ہیں جو مدینہ میں قاضی بنائے گئے ۔ان کی صورت شباہت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ تھی۔ان کی وفات۸۴ھ میں ہوئی تھی اور بعض لوگوں کاقول ہے کہ یہ واقع حرہ کے دن ۶۳ھ میں شہید ہوئے اور بعض نے بیان کیا ہےکہ ان کی وفات حضرت معاویہ کے زمانہ میں ہوئی تھی۔یہ چچاتھے عبداللہ بن حارث بن نوفل بن حارث کے جوکہ بہ کےلقب سے ملقب تھے۔ان کاذکرپہلے گذرچکاہے۔ ان کا تذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔عقیلی نے ان کا تذکرہ صحابہ میں کیاہے۔ ان کی روایت مشہور ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصراً لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ابوموسیٰ نےکہاہے کہ بہت لوگوں نے ان کے والد کا تذکرہ ردیف نون میں لکھا ہے اورعبداللہ ابن مندہ نے ردیف باء مع الغین میں ان کے والد کانام لکھاہے اورکہاہے کہ صحابی ہیں مگر ان کی حدیث روایت نہیں کی عبداللہ بن سالم نے سلیمان بن سلیم ابی سلمہ سے انھوں نے عبداللہ بن نفیل کنانی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس میں اللہ تبارک وتعالیٰ حکم دے کر فارغ ہوگیاہے(اول تو)یہ کہ کوئی بغاوت نہیں کرتا اس لیےکہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ اے لوگوں خبردارہوجاؤ کہ تم لوگوں کی بغاوت کا ثمرہ تمھیں لوگوں کے نفس پر عائد ہوتاہے اور(دوم) یہ کہ کوئی کسی پر مکروفریب نہیں کرتاہے۔(بلکہ اپنے ہی نفس پرکرتاہے) اس لیے کہ اللہ عزوجل نے فرمادیاہے کہ برامکرنہیں گھیرتا مگراس کے اہل وعیال ہی کواور(سوم)یہ کہ عہدشکنی نہیں کرتاہے اس لیے کہ اللہ عزوجل فرماچکا ہے کہ جس کسی۔۔۔
مزید
بن نحام۔ان سے حضرت ابن عمر کے غلام نافع اور ابوالزبیر نے روایت کی ہے۔معلی بن اس نے حرب بن ابی العالیہ سےابوالزبیر سے انھوں نے عبداللہ بن نعیم سے اسی طرح روایت کیاہے معلی نے کہاہے کہ حرب کہتے تھےایک دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہمراہ بیٹھے ہوئےتھےکہ یکایک ایک عورت کاگذر اس طرف سے ہواپس آپ ام المومنین زینب بنت حجش کے پاس گئے اور قضائے حاجت کے بعدباہر تشریف لائے اور فرمایاکہ جب کوئی شخص تم میں سے کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی معلوم ہوتوچاہیےکہ اپنی بی بی کے پاس چلاجائے کیوں کہ عورت شیطان کی صورت میں آتی ہے اورشیطان کی صورت میں جاتی ہے۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نےلکھاہے۔اورابونعیم نے کہا ہے کہ ابن مندہ نے اس حدیث کو ابن ابنی الجبین سے انھوں نے معلی بن اسد سے انھوں نے حرب سے انھوں نے ابوالزبیر سےانھوں نے عبداللہ بن نعیم سے روایت کیاہےاورکہاہے ک۔۔۔
مزید
بن ثعلبہ بن سحان بن عامر بن مالک بن عامر بن جشم بن تمیم بن عودمناہ بن تاج بن تیم بن اراشہ بن عامربن عبیلہ بن تسہیل بن فرار بن بلی۔عقیل کے والد اوربنوجحجابن کلفہ بن عمروبن عوف انصاری کے حلیف تھےان کا نام عبدالعزی تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن رکھا یہ غزوۂ بدر میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔اورجنگ یمامہ میں شہید ہوئے اس کوواقدی نے بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبدالمطلب بن ہاشم قریشی ہاشمی ہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے بھتیجے ہیں اور عبداللہ ابن عباس کے بھائی تھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھے شہر افریقہ میں یہ اوران کے بھائی معبدبن عباس عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے ساتھ شہید ہوئے اس کومصعب وغیرہ نے بیان کیاہے۔ابن کلبی نے کہاہے کہ عبدالرحمن بن عباس شہرشام میں شہید ہوئے تھے ان کاتذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید