ہیں ان کوابوبکربن علی نے صحابہ میں بیان کرکے ہاشم بن قاسم حرانی سے انھوں نے یعلی بن اشدق سے انھوں نے عبدالملک حجبی سے روایت کی ہے کہ (ایک مرتبہ)اہل مکہ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاگذرہواان لوگوں نے عرض کیایارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)کیاہم آپ کو نبیذ پلا دیں آپ نے فرمایاہاں(پلاؤ)چنانچہ نبیذلائی گئی پھرآپ نے اس میں پانی ملایااورفرمایااے اہل مکہ نبیذ اسی طرح پیاکرو پھران لوگوں نے کہایارسول اللہ ہم لوگوں کوپیاس بہت لگتی ہے اور پانی ہمارے یہاں گرم ہوتاہےاس کاپینا ہمیں ناگوارگزرتاہے آپ نے فرمایاتم لوگ مشک میں نبیذ بنالیاکرو نبیذ بنانے سے پانی کا مزہ بدل جائے گاپس اسی کو پیاکرو۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن اکیدریہ (مقام)دومتہ الجندل کے حاکم تھے۔یحییٰ بن وہب بن عبدالملک حاکم دومتہ الجندل نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد کوایک خط لکھا(اس وقت) آپ کے پاس مہرنہ تھی (لہذا) اپنے ناخون سے آپ نےاس پرنشان بنادیا اس کوعبدالسلام بن محمد نے ابراہیم بن عمروبن وہب سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداسے روایت کی ہے۔ ان کاتذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ میں کہتاہوں بلاشبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالملک کوغزوہ تبوک میں خط لکھاتھا(وہ خط لے کر)خالد بن ولید کے پاس گئے تھے اور وہ خط ان کا پہنچادیاتھاعبدالملک نے حضرت خالد کو قید کر لیاتھاپھرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے صلح کرلی اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جزیہ بھیج دیا واللہ اعلم۔اکیدر کے بیان میں یہ تذکرہ اس مقام سے (زیادہ اور)پورابیان ہواہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ا بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف قریشی ہاشمی ہیں بعض لوگوں نے ان کا نام مطلب بیان کیا ہے ان کی والدہ ام حکم بنت زبیربن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بالغ تھے اس کوزبیرنے بیان کیاہےبعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ بچے تھے واللہ اعلم۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نام کونہیں بدلاتھا یہ مدینہ میں رہتے تھے پھر حضرت عمربن خطاب کی خلافت کے زمانے میں شام چلے گئے تھے اوردمشق میں فروکش ہوئے اور وہیں مکان بنالیاتھا زہری نے عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل بن حارث بن عبدالمطلب سے انھوں نے عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث سےنقل کرکے بیان کیاہے کہ ربیعہ بن حارث اورعباس دونوں نے متفق ہوکرکہاخداکی قسم (کیااچھی بات ہوتی)اگرہم ان دونوں لڑکوں کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیتے پھردونوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی حضرت نے دونوں لڑکوں کوت۔۔۔
مزید
ان کی کنیت ابوعبیدتھی ازدی ہیں (خاندان)ازدکے غلام تھے موسیٰ بن سہل نے عبدالجبار بن یحییٰ بن فضل بن یحییٰ بن قیوم سے انھوں نے اپنے داداسے انھوں نے اپنے والد یحییٰ سے انھوں نے اپنے داداقیوم سے روایت کی ہے کہ وہ (یعنی قیوم)اپنے غلام ابوراشد کوہمراہ لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفدمیں آئے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوراشدسےدریافت کیاکہ تمھاراکیانام ہے انھوں نے کہاعبدالعزی(اور)ابومغویہ (کنیت)ہے آپ نے فرمایاکہ تم عبدالرحمن ابوراشد ہوفرمایا یہ تمھارے ہمراہ کون ہے عرض کیاغلام ہے فرمایااس کا کیانام ہے کہاقیوم فرمایا(نہیں)لیکن یہ عبدالقیوم ابوعبید ہیں ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عصیم۔یہ انصارکے خاندان بنی ظفرکے حلیف تھے ابوعمرنے بیان کیاہے کہ ان کے نسب کومیں نہیں جانتاہوں یہ غزوۂ احد میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ا بن حشیش ان کی کنیت ابوحازم تھی احمسی ہیں احمس بن غوث کے خاندان سے تھےیہ قیس ابن ابی حازم کے والد تھے ان سے ان کے بیٹے قیس نے روایت کی ہے اور یہ (عبدعوف)اپنی کنیت سے مشہورہیں بعض لوگوں نے ان کا نام عبدعوف بیان کیاہے اس کوہم نے باب کنیت میں ذکرکیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
خزاعی ہیں بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ یہ نام ذوالیدین کا ہے اورواقدی نے کہاہے کہ ذوالیدین کا نام عمروابن عبدودتھایہ غزوۂ بدر میں شہید ہوئے محمدبن کثیر نے اوزاعی سے انھوں نے زہری سے انھوں نے سعید اورابوسلمہ اورابوعبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ان سب نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ ظہرکی نمازمیں)دورکعت پڑھ کر سلام پھیردیاعبدعمروبن نضلہ نے جوکہ خاندان بن خزاعہ سے ایک شخص تھے اوربنی زہرہ کے حلیف تھے کھڑے ہوکرعرض کیا کہ یارسول اللہ کیانماز میں قصرہوگیایاآپ بھول گئے آپ نے متوجہ ہوکرفرمایاکہ کیاذوالشمالین سچ کہتے ہیں الخ۔اس کی تحقیق ذوالیدین کے تذکرے میں ہوچکی ہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کلبی ہیں بیان کیاجاتاہے کہ یہ صحابی تھے۔ان کا ذکرابن ماکولا نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
کلبی ہیں بیان کیاجاتاہے کہ یہ صحابی تھے۔ان کا ذکرابن ماکولا نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
حذیفہ بن یمان کے بھائی تھے ابن مندہ نے اس کوبیان کیاہے ہم کوابراہیم بن محمد نیشاپوری نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن اسحاق ثقفی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے اسمعیل بن موسیٰ فزاری نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے حسن بن زیادہمدانی نے ابن جریج سے انھوں نے عکرمہ بن عمارسے انھوں نے محمد بن عبداللہ بن ابی قدامہ سے انھوں نے عبدالعزیزبن یمان سے جو حذیفہ کے بھائی تھے نقل کرکے بیان کیاکہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوکوئی (سخت)کام پیش ہوتاتھاتوآپ نماز پڑھنے لگتےتھے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ابونعیم نے کہاہے کہ ان کوبعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے اسی طرح ذکرکیاہے۔اوریہ ان کی غلطی ہے صحیح یہ ہے کہ عبدالعزیزبن یمان کے بھتیجے ہیں اوراپنی سندکے ساتھ عبداللہ بن احمد بن حنبل سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کیاہے کہ وہ کہتے تھے ہم سے اسمعیل بن عمراورخلف بن ولید نے بیان کیا وہ ۔۔۔
مزید