امام
سفیان ثوری
نام
: سفیان
کنیت:
ابو عبداللہ
والد
کا نام: سعید تھا۔
ولادت:
آپ کی ولادت بمقام شہر کوفہ اصح قول
کے مطابق 97ھ میں ہوئی ۔
سلسلہ
نسب :
سفیان بن سعید بن مسروق بن حبیب بن
رافع بن عبداللہ بن موہبہ بن ابی عبداللہ بن معقد بن نضر بن الحکم بن الحارث بن ثعلبہ بن ملکان بن ثور بن عبد
مناۃ بن ادبن طابخہ بن الیاس بن مضر بن
نزار بن سعد بن عدنان
(وفیات الاعیان ج1 ص 374)
ثوری
کی نسبت :
سلسلہ نسب میں ایک نام ثور بن عبد
مناۃ ہے جس طرف نسبت کرتے ہوئے ثوری کہلائے۔
خاندان
علمی مقام:
آپ کا خاندان کوفہ کا علمی خانوادہ
تھا والد سعید بن مسروق اور آپ کے دونوں بھائی عمر بن سعید اور مبارک بن سعید صاحب
علم ہستیوں میں تھے ۔ آپ کی والدہ بڑی پارسا، متقی اور صاحب علم خاتون تھیں۔ سفیان
ثوری نے علمی خانوادہ میں آنکھ کھولی تھی۔ آپ کا وطن کوفہ بڑے بڑے علماء فقہاء
محدثین ومفسرین کا مسکن تھا جہاں کے ذرہ ذرہ سے علم کی تابانیوں کا ظہور ہورہاتھا
اور جس گلی کوچے قال اللہ وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانفزا نغموں سے گونج
رہے تھے۔ ماں باپ کی علمی آغوش تربیت اور گردو پیش کے معارف پرور ماحول نے سفیان
ثوری میں تحصیل علم کا شوق پیدا کردیا ۔
تحصیل
علم ابتداء میں آپ نے اپنے والد اور کوفہ کے تمام مشہور شیوک حدیث بالخصوص حضرت
اعمش اور حضرت ابو اسحاق سبیعی سے حدیث وفقہ کا درس لیا۔ ان کی علمی پیاس
بڑھتی رہی تو طلب علم کے لیے کوفہ سے قدم
باہر نکالا اور اس عہد کے دیگر محدثین کی طرح رحلت وسفر کے مصائب برداشت کے مالی
لحاظ سے ان کا گھر مستحکم نہ تھا مگر نیک
بخت والدہ نے ہونہار فرزند کے علمی شوق کو دیکھتے ہوئے مصارف علم کی ذمہ داری اپنے سر لی اور کہا ’’یابنی اطلب العلم وانا
اکفیک بمغزلی‘‘ اے نور نظر تم حصول علم
میں لگے رہو میں چرخہ کات کر تمہارے اخراجات پورے کروں گی ۔
(صفوۃ الصفوۃ ج3 ص 116)
نیک
طینت ماں نے ان کو صرف تحصیل علم کی ترغیب ہی نہیں بلکہ ان کو یہ نصیحت بھی کی کہ
یہ علم ان کے اخلاق وکردار کو سنوارنے کا سبب ہو ان کے بگاڑنے کا سبب نہ ہو۔ وہ
عبادت ہو تجارت نہ ہو۔ ایک بار بڑی دلسوزی کے ساتھ نصیحت کی کہ ’’بیٹے جب تم دس
حروف لکھ چکو تو دیکھو کہ تمہاری چال ڈھال اورحلم وقار میں کوئی اضافہ ہوا یا نہیں اگر اس سے کوئی اضافہ نہ ہوا تو سمجھ لو کہ علم
نے تم کو کوئی فائد نہیں پہنچایا۔
امام
سفیان ثوری نے والدہ محترمہ کی ہدایت پر پوری زندگی عمل کیا ۔ اس طرح وہ علم وتقوی
، فضل وکمال میں شہرۂ آفاق بن گئے۔
کوفہ
کے علاوہ بصرہ اور حرمین شریفین کے شیوخ ورجال حدیث سے حدیث نبوی کا درس لیا۔ابن
حجر عسقلانی لکھتے ہیں ’’ وخلق من اھل الکوفۃ وجماعۃ من اھل البصرۃ
وطوائف من اھل الحجاز‘‘ اہل کوفہ کی ایک بڑی تعداد سے استفادہ کیا اسی طرح بصرہ
کی ایک بڑی جماعت سے فیض اٹھایا اور حجاز کے مختلف حلقہ ہائے درس سے بہرہ مند ہوئے‘‘
(تہذیب التہذیب ج4 ص100)
سیرت
:
آپ
کی ذات کوفی الاصل تھے۔ ظاہری اور باطنی علوم میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی
توبہ کا آغاز اس واقعہ سے ہوا کہ ایک دن مسجد میں داخل ہوتے ہوئے لاپروائی سے
بایاں قدم اندر رکھا غیب سے آواز آئی اے سفیان! کیا تم ثور ہو یعنی چوپایا ہو۔ یہ
بات سنتے ہی بے ہوش ہوگئے۔ جب ہوش میں آئے تو افسوس سے اپنے منہ پر طمانچہ مارتے
اور کہتے تم نے چوپایوں کی طرح مسجد میں بایاں قدم رکھا تمہیں ادب نہیں تو تیرا
نام انسانوں میں کیسے رکھا جاسکتا ہے۔
خلیفہ وقت:
ایک
دن خلیفہ وقت نماز کی جماعت اداکررہے تھے۔ مگر دوران نماز خلیفہ نے بے خیالی
سے اپنے کپڑوں پر ہاتھ پھیرنا شروع کردیا۔ آپ نے فرمایا: تمہاری یہ نماز تو نماز
نہیں۔ قیامت کے دن ایسی نماز کو منہ پر مارا جائے گا۔ خلیفہ وقت نے کہا: بات
آہستگی سے کریں مگر آپ نے فرمایا کہ میں ایسے کلمہ حق سے باز رہوں تو میرا پیشاب
خون بن جائے گا۔ خلیفہ نے یہ بات بری جانی۔ دوسرے دن حکم دیا کہ سولی نصب کی جائے
اور سفیان ثوری کو تختہ وار پر کھینچا جائے۔ تاکہ دوسرے گستاخوں کو عبرت ہو۔ حضرت
سفیان نے سنا تو رونے لگے۔ اور کہا: اے اللہ ان ظالموں کو سزا دے۔ خلیفہ وقت اس وقت
تخت پر بیٹھا تھا۔ اور اس کے وزراء اور امراء بھی حلقہ بنائے کھڑے تھے۔ اچانک چھت
گری۔ اور خلیفہ اور اُس کے وزراء چھت کے نیچے آکر ہلاک ہوگئے۔
اساتذہ کرام:
والد
گرامی سعید بن مسروق، ابو اسحاق شیبانی، ابو اسحاق سبیعی ،عبدالملک بن عمیر،
عبدالرحمن بن عابس بن ربیعہ، اسحاق بن ابی خالد ، مسلمہ بن کبیل، طارق بن
عبدالرحمن، اسود بن قیس، بیان بن بشر، جامع بن ابی راشد، حبیب بن ابی ثابت، حصین
بن عبدالرحمن، اعمش، منصور، مغیرہ، حماد بن ابی سلیمان، زبیدیامی، صالح بن حی، ابو
حصین، عمروبن مرہ، عون بن ابی جحیفہ، فراس بن یحیی، فطر بن خلیفہ، محارب بن وثار،
ابو مالک اشجعی، زیاد بن علاقہ، عاصم احول، سلیمان تیمی، حمید الطویل، ایوب، یونس، ابن عبید، عبدالعزیز بن رفیع،
مختار بن فلقل، اسرائیل بن ابی موسی، ابراہیم بن میسرہ، حبیب بن شہید ، خالد خدا ،
داؤد بن ابی ہند، ابن عون، زی بن اسلم، عبداللہ بن دینار، عمرو بن دینار، اسماعیل
بن امیہ، ایوب بن موسی جبلہ بن حیم، ربیعہ بن عبدالرحمن، سعد بن ابراہیم، سمعی
مولی ابی بکیر، سہیل بن ابی صالح، ابو زناد، عبداللہ بن محمدبن عقیل، ابن عجلان،
المنکدر، ابو الزبیر، محمد، موسی بن عقبہ، ہشام بن عروہ یحی بن سعید انصاری۔ (ایضا
ص100۔99)
علم وفضل:
امام
سفیان ثوی نے اپنے زمانہ کی متعدد علمی ہستیوں سے بڑی توجہ اور اخلاص کے ساتھ علم
دین کی تحصیل کی اور انہوں نے اپنے عہد کے علماء محدثین، فقہاء ومجتہدین کی صف اول
میں نمایاں مقام پیدا کرلیا۔ فقہ وحدیث میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور ان علوم میں
مسلمانوں کے مرجع اور طالبان علم توجہ کامرکز بن گئے تھے۔ آپ کی جلالت علم، شان
تقویٰ اور حدیث وفقہ کے اندر مرتبہ بلند کا اعتراف ملت اسلامیہ کی برگزیدہ علمی
شخصیتوں نے کیا ہے۔
شعبہ: ان سفیان سادالناس بالورع
والعلم۔ سفیان ثوری علم وتقوی میں لوگوں کے سرار تھے ۔
خطیب: کان امما من ائمۃ
المسلمین وعلما من اعلام الدین مجمعا علی امامنہ بحیث یستغنی عن تزکیتہ مع الاتقان
والحفظ والمعرفۃ والضبط والورع والزھد۔ وہ ائمہ مسلمین میں سے
تھےاور دین کی نشانیوں میں سے ایک نشانی آپ کی امامت پر لوگوں کا اجماع ہے اس
حیثیت سے کہ وہ تزکیہ سے بے نیاز تھے اپنے اتقان، حفظ، معرفت، ضبط، زہد ورع کی
بنا پر۔
(تہذیب التہذیب ج4 ص 101)
حدیث
:
سفیان ثوری کا اصل میدان
حدیث وسنت تھا۔ انہوں نے حفظ وضبط حدیث اور واتقان میں کمال پیدا کیا تھا۔ اس علم
میں انہیں بڑا درک اور وثوق حاصل تھا۔
حفظ
وضبط حدیث پر انہیں ایسا , رسوخ حاصل تھا کہ وہ کبھی روایت حدیث کے سلسلے میں شک
میں مبتلا نہ ہوتے تھے۔
مشہور
محدث زائدہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت اعمش کی خدمت سے حدیث لے کر واپس ہوتےتھے
توا ن مکتوبہ روایتوں کو امام سفیان کی خدمت میں پیش کرتے تو دیکھ کر بعض روایتوں
کے بارے میں فرماتے تھے فلاں فلاں روایت تو حضرت اعمش کی بیان کردہ نہیں ہیں ۔ ہم
کہتے کہ انہوں نے ہم سے ان کی تحدیث کی ہے۔ فرماتے کہ جاؤ اور ان سے یہ بات چنانچہ ہم لوگ جاتے اور ان سے کہتے تو
وہ غور کرکے فرماتے کہ صدق سفیان، سفیان نے ٹھیک کہا۔ اور پھر اپنے صحیفہ سے اس کو
مٹا دیتے تھے۔
(تاریخ بغداد ج9 ص 168)
فقہ
:
وہ صرف حدیث میں امامت کا
درجہ نہ رکھتے تھے بلکہ فقہ میں بھی انہیں
کامل دستگاہ تھی منصب اجتہاد پر فائز تھے۔ وہ قرآن وحدیث پر مجہتدانہ نظر رکھتے
تھےاور مصادر شرعیہ سے استخراج مسائل کی پوری صلاحیت ان میں موجود تھی۔ تبع تابعین
کے زمرہ میں آپ کا شمار اصحاب میں ہوتا ہے جو مجتہد فی المذہب شما رکئے جاتے تھے۔
امام نووی کا بیان ہے۔ ’’ھو اصحاب المذاہب الستة المتبوعة‘‘ ان کا شمار ان چھ صاحب
مذہب ائمہ میں ہوتا متبوع خلائق ہیں۔
(تہذیب الاسماء ص223)
تصانیف:
امام سفیان ثوری نے حدیث
وفقہ اور تفسیر کے موضوع پر گر انقدر کتابیں لکھی تھیں مگر ان کی کماحقہ اشاعت نہ
ہوسکی تاہم ان کے بعد عبداللہ بن عبداللہ اور یزید بن توبہ جنہوں نے ان کتابیں جمع
کی تھیں بیان کرتے ہیں: فاخرجنا تسع قمطرات کل واحد الی ھنا واشار الی اسفل من
صدرہ‘‘ ہم نے ان کی کتابوں کو اکٹھا گیا تو وہ نو بکس تھیں اور ہر بکس سینہ کے
قریب قریب پہنچتا تھا۔
(تاریخ بغداد ج9 ص 161)
افسوس
کی امتداد زمانہ سے قدیم مصنفین کی طرح آپ کی بکثرت کتابیں بھی ضائع ہوگئیں ان میں
سے بعض ایسی کتابیں جو تیرہوں صدی ہجری تک پائی جاتی تھیں ان کے نام یہ ہیں۔
1) الجامع الکبیر فی الفقہ 2) الجامع الصغیر 3) کتاب الفرائض 4) کتاب التفسیر
مخلوق
خدا سے محبت:
آپ
مخلوقِ خدا سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ ایک دن بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک پنجرے
میں پرندہ فریاد کر رہا تھا۔ آپ نے اسے خرید لیا اور آزاد کردیا۔ یہ پرندہ ہر روز
حضرت سفیان کے گھر آتا آپ کو دیکھتا سر اور بازوؤں پر بیٹھتا۔ حضرت سفیان فوت ہوئے
تو یہ پرندہ آپ کے جنازے پر اڑتا دکھائی دیا اس کی فریاد سے جنازے میں شریک لوگ
دھاڑیں مار مار کر رونے لگے جب آپ کو دفن کردیا گیا تو وہ پرندہ آپ کی قبر پر تڑپ
تڑپ کر مرگیا۔ حضرت سفیان کی قبر سے آواز آئی کہ ہم نے سفیان کو خلق خدا کی محبت
کے بدلے بخش دیا ہے۔
وصال
:
آپ کا
وصال ۱۶۱ھ
میں ہوا ۔ بعض تذکرہ نگاروں نے تاریخ سالِ وفات ۱۵۵ھ
لکھا ہے۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
