مولانا امام ابو الحارث لیث
بن سعد بن عبد الرحمن فہمی
کنیت : ابو الحارث
ولادت:
آپ کی ولادت 92 ھ میں ہوئی ۔
سلسلۂ
نسب:
لیث بن سعد عبدالرحمن فہمی۔
خاندانی
وطن:
ابو الحارث لیث بن سعد کا خاندانی وطن تھا غالباً اور قبیلہ
کے ایک شخص بن رفاعہ کے غلام ہوئے جس کی نسبت سے فہمی کہلائے ۔
خاندان :
آپ کا خاندان مصر کے ایک گاؤں قلقشندہ میں آباد ہوگیا تھا
۔(جو قاہرہ سے تین فرسنگ کی دوری پر تھا)۔
تعلیم:
امام لیث غلام خاندان سے تعلق رکھنے
کے باوجود ابتداہی سے تحصیل علوم وفنون کی جانب مائل ہوگئے خدا تعالی نے انہیں ذہن
رسا اور طبیعت اخاذ عطا فرمائی تھی چنانچہ اپنے زمانہ کے مروجہ علوم وفنون، ونحو
وادب ، شعر وسخن اور حدیث وفقہ میں کمال حاصل کیا بعد میں فقہ وحدیث کا اس طرح
غالب آیا کہ ان کے صحیفۂ زندگی کے اصل عنوان
یہی علوم بن گئے، مصر کے مشائخ سے درس حدیث وفقہ لیا پھر طلب علم کا شوق انہیں اسلامی بلاد وامصار
کی سیاحت کراتا رہا ، مکہ مدینہ ، عراق، کے مشہور تابعین او رائمہ حدیث وفقہ سے
استفادہ کیا۔ مکہ مکرمہ میں ابن شہاب زہری کے حلقۂ درس میں شامل ہوئے۔ وہ کہتے ہیں
’’کتب من علم محمد بن شہاب الزھری علما کثیرا وطلبت رکوب البرید الیہ الی
الرصافۃ‘‘ میں نے امام ابن شہاب زہری کے علم کا بہت بڑا حصہ لکھا ہے اور میں برید
ڈاک پر سوار ہوکر ان سے ملنے کے لیے رصافہ جایا کرتا تھا۔
(وفیات الاعیان ج2 ص 296)
اصفہان
کے باشندہ اوت قیس بن رفاعہ مولیٰ عبد الرحمٰن بن خالد بن مسافر فہمی کے مولیٰ تھے
۔آپ کٍا قول ہے کہ میں نے محمد بن شہاب زہری کےعلم سےعلم کثیر لکھا ۔ امام شافعی
کہتے ہیں کہ آپ امام مالک سے افقہ تھے مگر اصحاب آپ کے ساتھ قائم نہ ہوئے۔ آپ
عطاءوخلف اورابن ملیکہ نافع ابن مولیٰ عمر سے روایت کرتے تھے اورآپ سےشعیب اور ابن
مبارک نے روایت کی۔بڑے سخی و کریم تھے یہاں تک کہ سال بھر میں آپ کو پانچ ہزار
دینار کی آمدنی تھی مگر زکوٰ ۃ آپ پر واجب نہ ہوتی تھی کیونکہ آپ کا دستو تھا کہ
ہر روز جب تک آپ تین سو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا نہیں لیتے تھے تو آپ روٹی نہیں
کھاتے تھے۔
تاریخ
خلکان میں لکھا ہے کہ میں نے بعض مجامیع میں لکھا دیکھا ہے کہ آپ حنفی المذہب تھے
اور مصر کی قضا آپ کو تفویض تھی ، امام مالک نے آپ کو چینی کا ایک پیالہ کھجوروں
کا بھر ا ہوا بھیجا ، آپ نے اس کے عوض میں اس کو سونے سے بھر کر امام مالک کےپاس
بھیج دیا ۔آپ اپنے یاروں کے لئے فالودہ بنایا کرتے تھے اور اس میں دینار رکھ کر ان
کو پینے کے لئے بھیدیا کرتے تھے۔ منصور بن عمار کہتے ہیں کہ میں آپ کے پاس آیا اور
آپ نے مجھ کو این ہزار دینار عطا کر کے فرمایا کہ جو حکمت خدا نے تم کود ی ہے وہ
ان کے ذریعہ سے محفوظ رکھو۔یحٰی بن کبیر کہتے ہیں کہ میں نے آپ سے زیادہ کوئی
،کمل،نہیں دیھا آپ فقیہ النفس ، حافظ حدیث و شعر ، عربی لسان ، حسن مذاکرہ قرآن
ونحو کو اچھی طرح جانتے تھے۔ ذہبی نے عبر میں لکھا ہے کہ مصر کا نائب اور قاضی آپ
کے ما تحت تھے،جب ان میں سے کسی نسبت آپ کو شک ہوتا تو آپ کی تحریر سے وہ معزول ہو
جاتا ، ہر چند منصور نے آپ کو مصر کا حاکم بنانا چاہا مگر آپ نے منظور نہ کیا ۔
بیس سال کی عمر میں آپ نے حج کیا ۔
ذھب اللیث
فلا لیث لکم ومضی العلم قریب و قبر:جم
ہم نے دیکھاتو کہنے والا کوئی نظر نہ آیا۔
فضل وکمال:
لیث بن سعد نے جس دیدہ ریزی اور سعی
بلیغ سے مروجہ علوم وفنون بالخصوص حدیث وفقہ کی تحصیل کی تھی وہ اپنے زمانہ کے
ارباب فضل وکمال کی صف اول میں شمار ہونے لگے تھے نوجوانی ہی میں بڑے بڑے ائمہ
حدیث وفقہ ان کا اعزاز واحترام کیا کرتے تھے حد تویہ ہے کہ ان کے شیوخ بھی ان بڑا
احترام کیا کرتے تھے۔ شرجیل بن جمیل کہتے ہیں:
’’ادرکت الناس زمن ھشام بن عبدالملک والناس اذ ذاک
متوافرون وکان بمصر یزید بن ابی حبیب وغیرہ والیث اذ ذاک شاب وانھم لیعرفون لہ
فضلہ ورعہ یقدمونہ‘‘جس زمانہ میں یزید
بن ابی حبیب بلند پایہ مفسر اور ان کے اصحاب مصر میں مقیم تھے حضرت غیث کی جوانی
کا زمانہ تھا لیکن میں نے دیکھا ہے کہ اس نوعمری کے باوجود یزید بن ابی حبیب اور
مصر ددوسرے معمر علماء لیث کا بڑا احترام کرتے ان کو مجلسوں میں مقدم رکھتے اور ان
کے علم وفضل اور ورع کا اقرار کرتے تھے ۔
(تہذیب
التہذیب ج8 ص 415)
آپ کے
شیخ نے یحییٰ بن سعید نے فرمایا کہ تم امام وقت ہو جس کی طرف نظریں اٹھتی ہیں ۔(الرحمۃ العشیہ)
امام شافعی
علیہ الرحمہ نے آپ کا زمانہ پایا تھا مگر ان سے استفادہ نہ کرسکے تھے جس کا انہیں
عمر بھر ملال رہا ۔ فرماتے تھے ’’مافاتنی احد
فاصفت علیہ مااسفت علی اللیث وابن ابی ذئب‘‘ مجھے لیث بن سعد اور ابن ابی ذئب کے علاوہ کسی سے نہ
ملنے کا افسوس نہیں ہے ۔
(تہذیب ج8 ص 415)
حدیث :
علم حدیث میں آپ درجۂ امامت پر فائز تھے۔
انہوں نے مصر، حجاز، عراق، کے ساطین حدیث سے حدیث کا علم حاصل کیا تھا اور ان کے پاس
احادیث نبوی کا بڑا عظیم ذخیرہ موجود تھا۔ ان کا ذخیرہ حدیث کتنا وسیع تھا اس کا
اندازہ اس واقعہ سے ہوسکتا ہے ایک دفعہ کسی نے ان سے کہا آپ بعض مرتبہ ایسی حدیثیں
روایت کرتے ہیں جو آپ کی کتابوں میں نہیں ہیں فرمایا’’او کل مافی صدری فی کتبی؟ لو
کتبت مافی صدری ماسعہ ھذا المرکب‘‘ کیا وہ ساری چیزیں جو میرے سینے میں محفوظ ہیں
کتابوں میں بھی ہیں؟ اگر ایسا ہوتا توتم دیکھتے کہ وہ اس قدر بڑا لگن ہوجاتا کہ یہ
سواری اس کو نہیں اٹھا سکتی تھی۔
(تہذیب ج8 ص 414)
حدیث میں
آپ کی عظمت شان کا اعتراف اکابر حدیث نے کیا ہے :نافع: صالح
ثقۃ ، لیث ثقہ اور ثبت ہیں ۔
(تہذیب التہذیب ج8 ص 414)
ابن
مدینی: اللیث ثقہ
ثبت، ثقہ اور ثبت ہیں۔عجلی: مصری
ثقۃ، لیث مصر کے باشندہ اور ثقہ ہیں۔
ابن خراش: صدوق
صحیح الحدیث ‘‘ لیث سچے اور صحیح الحدیث ہیں۔
امام
نسائی۔ لیث ثقہ تھے۔ابو زرعہ: لیث صدوق ہیں۔یعقوب بن
شیبہ: لیث ثقہ ہیں۔
شافعی: اللیث
اتبع للاثر من مالک ‘‘ لیث مالک سے زیادہ
حدیث کی اتباع کرنے والے تھے۔
تلامذہ:
امام لیث عنفوان شباب ہی میں اہل علم
کی توجہ کا مرکز بن گئے تھے انہیں نے تقریبا پچاس ساٹھ سال تک تعلیم وتحدیث روایت
اور تخریج مسائل کا کام سر انجام دیا۔ ظاہر ہے کہ اس مدت میں ان سے فیض پانے والوں
کی تعدا ہزاروں تک پہنچتی ہوگی ۔
شعیب، محمد
بن عجلان، ہشام بن سعد، ابن لحیہ، ہشیم بن بشیر، قیس بن ربیع، عبداللہ بن مبارک،
عبداللہ بن وہب، ابو الولید بن مسلم، ابو سلمہ خزاعی، عبداللہ بن حکم، سعید بن
سہلان، آدم بن ایاس، عبداللہ بن یزید مقری، عمر و بن خالد، عیسی بن حماد۔
وصال :
امام لیث بن سعد وصال ۱۵ شعبان
175 ھ بروز جمعہ کے روز ہوا ، بعد نماز جعہ ہزاروں سوگوار ارادت مندوں
نے جنازہ اٹھایا ہر شخص پیکر حزن وغم بنا ہوا تھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کے
گھر ہی کی میت ہے محمد بن عبدالرحمن کا بیان ہے ’’ شھدت جنازتہ وانا مع ابی فمارأیت جنازۃ اعظم منھا ولا
اکثر من اھلھا وأیت کلھم علیھم الحزن الناس یعزی بعضھم بعضا ویکون فقلت لابی
یاابت کل واحد من الناس صاحب الجنازۃ فقال لی یابنی کان عالما سعیدا کریما حسن
الفعل کثیر الافضال یابنی لاتری مثلہ ابدا‘‘ میں اپنے والد عبدالسلام کے ساتھ جنازہ میں
شریک تھا میں نے ایسا عظیم الشان جنازہ نہیں دیکھا پورا مجمع پیکر غم بنا ہوا تھا
ہر ایک دوسرے سے اظہار تعزیت کررہا تھا غم کا عالم دیکھ کر اپنے والد سے کہا کہ مجمع
کا ہر شخص ایسا غمزدہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا جنازہ اسی کے گھر کا ہے والد نے کہا
بیٹا ایسے ہی جامع فضل وکمال عالم، خوش بخت، کریم، سخی، بلند کردار، کثیرالفضائل
تھے۔ اے بیٹے! تم کبھی کسی کو ان کے مثل نہ دیکھو گے۔
نماز
جنازہ :
آپ کی نماز جنازہ موسی بن ہاشمی نے
پڑھائی ۔
مدفن:
اس پیکر علم کا جسد خاکی مصر میں قرافہ صغری میں دفن کیا
گیا ۔ قبر آپ کی زیارت گاہ عام ہے ۔ آپ کے
بعض اصحاب نے کہا ہے کہ جب ہم نے آپ کو دفن کیا تو یہ آواز سنائی دی۔
(حدائق الحنفیہ)
ماخذ مراجع: محدثیں عظام حیات وخدمات
