ا۔عقیلی نے ان کو صحابہ میں ذکرکیاہے اور کہا ہے کہ مجھ سے میرے دادا نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے فہر بن حیان نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے شعبہ نے خالدخداء سے انھوں نے ابوقلابہ سے انھوں نے ابن محیریز صحابی سے روایت کر کے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب تم اللہ سے دعامانگو تواپنی دونوں ہتھیلیاں پھیلادو اورہتھیلیوں کی پشت اپنی طرف نہ کرو عقیل نے اسی حدیث کے سبب سے ان کو صحابہ میں شمار کیاہے حالانکہ اس حدیث کو اسمٰعیل ابن علیہ اورعبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے انھوں نے ابوقلابہ سے اس طرح روایت کیا ہے کہ عبدالرحمٰن بن محیریز نے کہا جب تم اللہ سے دعامانگوالخ ان دونوں نے عبدالرحمٰن کہا ہے نہ عبداللہ اور خالد خداء سے بھی اس حدیث میں عبدالرحمٰن منقول ہے۔اورعبداللہ بن محیریز اہل شام میں سے ایک مشہور شخص ہیں قریش کے خاندان بنی جمح کے اشراف سے تھے علم اور دین میں ان کا بڑاپایہ ۔۔۔
مزید
کنیت ان کی ابومحمد ہے۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مدشراب کے بارے میں ایک روایت کی ہے۔ان کی حدیث سہیل بن ابی صالح نے محمد بن عبداللہ سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کی ہے ۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے مختصر لکھا ہے اورابونعیم نے کہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ سہیل نے اپنے والد سے روایت کی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن محمد۔اہل یمن سے ہیں۔عبداللہ بن قرط نے روایت کی ہے کہ انھوں نے عبداللہ بن محمد یمنی سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ آپ نے حضرت عائشہ سے فرمایاکہ دوزخ سے بچنے کی فکرکرو گوچھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی دے کر سہی۔ان سے عبداللہ بن قرط نے روایت کی ہے۔عبداللہ بن قرط کا شماربھی صحابہ میں ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے اسی طرح مختصرلکھا ہےابوعمر نے ان کے والدکانام محمد بیان کیا ہےاور بعض لوگوں نے مخمرکہاہے۔ان کاذکر انشاء اللہ تعالیٰ آگے آئے گا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن محمد بن مسلمہ بن سلمہ۔انصاری۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے شرفیاب ہوئے اور فتح مکہ میں اور اس کے بعد کے تمام مشاہد میں شریک رہے۔ابن شاہین نے ان کا تذکرہ لکھا ہے اور کہا ہے کہ میں نے عبداللہ بن سلیمان کو بیان کرتے ہوئے سنا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔جس وقت ہوازن کے لوگوں نے زمانہ رِدّت میں اسلام سے پھرجانے کا قصد کیا یہ وہاں سے علیحدہ ہوگئے تھے اسوغسانی نے ابن اسحاق سے نقل کیا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن مالک خثعمی۔ان کا تذکرہ محمدبن مسلمہ کی حدیث میں ہے۔ابویحییٰ نے عمروبن عبداللہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کونمازکاحکم دو جب وہ سات برس کے ہوجائیں اس کے بعد پوری حدیث۱؎ذکرکی ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے مختصر لکھاہے۔ ۱؎پوری حدیث یہ ہے کہ اگروہ دس برس کے ہوجائیں تونماز نہ پڑھنے پران کو مارو۱۲ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن مالک بن معتمر۔قبیلۂ بنی قطیعہ بن عبس سے ہیں۔صحابی ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجاتھااس میں ان کو ایک سفید جھنڈا عنایت کیاتھا۔فتح قادسیہ میں شریک تھے اور اس دن لشکر کے ایک جانب کے افسر یہی تھے۔ان کی کوئی روایت معلوم نہیں۔ ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ابن ابی عاصم نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔ہمیں یحییٰ بن محمود نے اپنی سند سے ابن ابی عاصم تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے علی بن میمون نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے سعید بن مسلمہ نےبیان کیاوہ کہتے تھےہم سے اعمش نے عمرہ بن مُرَّہ سے انھوں نے عبداللہ بن حارث سے انھوں نے عبداللہ بن مالک سے روایت کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاظلم سے بچو کیوں کہ قیامت کے دن ایک ظلم سے بہت سی تاریکیاں پیداہونگی اور فحش سے بچو اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فحش کام اور فحش گفتگوکو پسند نہیں کرتا اور حرص سے بچو تم سے پہلے جو لوگ تھے ان کو حرص ہی نے ہلاک کیا حرص نے انھیں ظلم کرنے کی ترغیب دی پس انھوں نے ظلم کیا اور حرص نے انھیں بدگوئی کی ترغیب دی پس انھوں نے بدگوئی کی اور حرص نے انھیں قطع قرابت کی ترغیب دی پس انھوں نے قطع قرابت کی۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن مالک کنیت ان کی ابوکاہل بجلی احمسی ہیں۔اسمعیل بن ابی خالد نے اپنے بھائی سے انھوں نے عبداللہ بن مالک سے ایساہی نقل کیا ہے مگراکثرلوگ یہ کہتے ہیں کہ ابوکاہل کا نام قیس بن عائذ تھا۔ ان کا تذکرہ تینوں نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن مالک بن ابی قین۔خزرجی۔کعب بن مالک کے بھائی ہیں ان سے ان کے بھتیجے عبداللہ نے روایت کی ہے مگر ان کی روایت معلوم نہیں۔ان کی اور روایت بھی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید