سلمی ہیں دثینہ کے حاکم تھے۔حسن بن جعفرنے ابومحمد سے انھوں نے عبدالرحمن بن معقل حاکم دثینہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاکہ آپ کفتارکی نسبت کیافرماتے ہیں آپ نے فرمایامیں نہ اس کوکھاتاہوں اور نہ اس سے منع کرتاہوں میں نے عرض کیاجب تک آپ منع نہ کریں گے بے شک میں اس کوکھایاکروں گا پھرمیں نےعرض کیاکہ خرگوش کی نسبت آپ کیافرماتے ہیں آپ نے فرمایا نہ میں اس کو کھاتاہوں اور نہ حرام سمجھتاہوں میں نے عرض کیا جب تک آپ حرام نہ کریں گے میں اس کو کھایاکروں گاپھر میں نے عرض کیا کہ لومڑی کی نسبت کیاحکم ہے آپ نے فرمایا(کیا)کوئی اس کو کھاتاہے یعنی وہ کھانے کی چیزنہیں ہے پھرمیں نے عرض کیا بھیڑیے کی نسبت کیاحکم ہے ۔آپ نے فرمایا(کیا)اس کو کوئی شخص کھاتاہے(یعنی وہ بھی کھانے کی چیزنہیں ہے)ان کا تذکرہ تینوں نےلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6۔۔۔
مزید
بن عمروبن کعب بن سعدبن تیم بن مرہ قریشی تیمی طلحہ بن عبیداللہ کے چچازاد بھائی اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ان سے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے روایت کی ہے مگران کو دیکھا نہیں ہے۔ہمیں عبدالوہاب بن علی بن سکینہ نے اپنی سند کوسلیمان بن اشعث تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے مسدد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبدالوارث نے حمید اعرج سے انھوں نے محمد بن ابراہیم سے انھوں نے عبدالرحمن بن معاذ سے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے خطبہ پڑھااورہم لوگ (مقام) منٰی میں تھے پس ہم لوگوں کی سماعت ایسی کشادہ(یعنی بہت تیز)ہوگئی کہ آپ جوکچھ فرماتے تھے اس کوہم لوگ سن رہےتھے اور ہم لوگ اپنی اپنی فرودگاہوں میں تھے آپ نے مناسک(حج)تعلیم فرماناشروع کیے یہاں تک کہ کنکریاں پھینکنے کے احکام تک پہنچے ۔توآپنے دونوں سبابہ۱؎انگلیوں کو (برابر)رکھ کر۔۔۔
مزید
ا انصاری ہیں ان کا نسب ان کے والد کے تذکرہ میں گذرچکا ہے۔انھوں نے اپنے والد کے ساتھ طاعون عمواس واقع۱۸ھ میں وفات پائی یہ (ایک )بزرگ شخص تھے۔لوگوں نے ان کی بابت اختلاف کیاہے بعض لوگوں نے توکہاہے کہ معاذبن جبل کے کوئی لڑکا ہی نہیں پیداہوا اور زبیرنے کہا ہے عبدالرحمن بن معاذبن جبل نے(مرض)طاعون میں (مبتلا ہوکر)شام میں وفات پائی۔یہ عبدالرحمن ان لوگوں میں سے آخری شخص تھے جوادی بن سعدبرادرسلمہ بن سعد کی اولاد سے باقی رہ گئےتھےیہ تمام لوگ گذرگئے اوران کا شمار بنی سلمہ میں ہے ابن کلبی نے کہاہے کہ عبدالرحمن بن معاذ بن جبل اپنے والد کے پیشترطاعون میں مبتلاہوکرانتقال کرگئےتھے۔جن لوگوں نے کہاہےکہ معاذکے لڑکاہواہی نہیں شاید ان کایہ مطلب ہو کہ معاذنے(اپنےبعد)کوئی لڑکانہیں چھوڑا۔(اگریہی مرادہے تو)ان لوگوں کاقول ابن کلبی کے مانندہے کہ عبدالرحمن اپنے والد کے پیشتر مرگئے تھے(اوراگریہ مرادنہیں ہےتو)ع۔۔۔
مزید
ب بن معاویہ انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ جس شخص کی نمازعصر فوت ہوجائےالخ مگرایک نام میں دوسرے نام کا داخل کردینا صحیح نہیں ہے اسی طرح ابن طہمان نے عباد بن اسحاق سے انھوں نے زہری سے انھوں نے ابوبکربن عبدالرحمن سے انھوں نے عبدالرحمن سے انھوں نے عبدالرحمن بن مطیع بن نوفل سے روایت کی ہے اورابن ابی ذئب نے زہری سے انھوں نے ابوبکرسے انھوں نے نوفل سے مرسل روایت کی ہے ابونعیم نے کہاہے کہ عبدالرحمن ابن مطیع کا تابعین میں شمارہےاورانھوں نے نوفل بن معاویہ سے روایت کی ہے پس بعض متاخرین نے جوکہاہے کہ عبدالرحمن بن مطیع بن نوفل بن معاویہ تویہ بیان(نسب) میں غلطی کی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن غطریف بن عبدالعزی بن جثامہ بن مالک بن لادم بن مالک بن رہم بن یشکر بن مبشربن غوث بن تمیم بن مرکے بھائی ہیں بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ یہ عبدالرحمن کندہ (کے خاندان)سے ہیں اورشرحبیل بن حسنہ کے بھائی تھےاعمش نے زیدبن وہب سے انھوں نے عبدالرحمن بن حسنہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس (مکان سے) نکل کر تشریف لائےاورآپ کے پاس سپرکی مانندکوئی چیزتھی۔اسی کوسامنے (پردہ کے لیے ) رکھ کر آپ نے پیشاب کیابعض لوگوں نے (یہ حالت دیکھ کر )کہادیکھو(رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم )پیشاب کرتے ہیں جس طرح عورتیں پیشاب کرتی ہیں یہ سن کر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیاتم کومعلوم نہیں ہے کہ (اس بارے میں )یعنی اسرائیل پر کیاآفت آئی ان کے یہاں یہ دستور تھا کہ جس چیز میں پیشاب لگ جاتااس کوقینچی سے کاٹ ڈالتے پس ان کے ایک حاکم نے ان کو اس فعل سے منع کیااس کو قبرمیں عذاب ہوت۔۔۔
مزید
خزاعی ہیں انھوں نے شام میں سکونت اختیارکی تھی محمد بن عثمان بن ابی شیبہ نے ان کا تذکرہ لکھاہے اسمعیل ابن عیاش نے سعید بن عبداللہ خزاعی سے انھوں نے ہثیم بن مالک طائی سے انھوں نے عبدالرحمن بن مسعودخزاعی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے اے لوگوں خوشی اور ناخوشی (غرض ہر حال)میں حاکم کی بات کاسننا اور ماننا اپنے اوپرلازم کرلو(تم لوگ)آگاہ رہو بے شک جو شخص سنے اور مانے اس پرکوئی الزام نہیں ہے جوسنے اور اس کا کوعذر(مقبول)نہیں اورتم لوگ اللہ عزوجل کی طرف نیک گمان رکھنااپنے اوپر لازم سمجھو کیوں کہ اللہ ہربندے کو اس کے نیک گمان کے موافق دیتاہے بلکہ اس سے زیادہ دیتاہے۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں شریک بن عبداللہ نے عبداللہ بن عبدالرحمن مزنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے کہ علی میں (اللہ کی طرف سے)دو خصلتیں عنایت ہوئی ہیں (ان میں)تین (خصلتیں دنیامیں اور تین آخرت میں اور تین (خصلتوں) کی ان کے واسطے امیدکرتاہوں اورایک (خصلت)جوان کے واسطے ہے اس سے میں خوف کرتاہوں اور پوری حدیث بیان کی ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھ کر بیان کیاہے کہ اس بات کا احتمال ہوتاہے کہ یہ دونوں عبدالرحمن میں سے ایک ہیں جن کا ذکرہوچکاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
مزنی عمرو کے والد ہیں انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔یحییٰ بن شہل نے عمروبن عبدالرحمن سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی کیفیت پوچھی گئی پھرپوری حدیث بیان کی ۔ان کا تذکرہ یہاں پر ابونعیم اور ابوعمر نے لکھاہےاور لوگوں نے عبدالرحمن بن ابی عبدالرحمن کے بیان میں ذکرکیاہے اور ہم نے یہاں پر اس وجہ سے ان کاتذکرہ لکھاہے کہ کوئی شخص ان کا تذکرہ (یہاں پر)نہ دیکھ کریہ خیال کرے کہ میں نے ان کا بیان چھوڑدیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں ان کا شماراہل مدینہ میں ہے ان سے ابویزیدمدنی نے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن نے کہارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبرمیں ایک ہزارآٹھ سو صحابی کوساتھ لے کرجہاد کیاپھراس کواٹھارہ حصہ پرتقسیم کیا۔خیبراس وقت میوہ جات سے سرسبزتھالوگ میوہ کھانے میں مشغول ہوگئے (جس کی وجہ سے ان سب کو بخارآگیا۔جب بخار میں مبتلاہوئے)توانھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے (اپنی بیماری کی)شکایت کی آپ نے فرمایااے لوگوں بخار اللہ تعالیٰ (کی طرف سے)قیدخانہ ہے اور(دوزخ کی)آگ کاایک ٹکڑاہے جب وہ تم کوپکڑلے (یعنی جب بخار میں مبتلا ہوجاؤ)تو اس کوپانی سے ٹھنڈا کرو(یعنی غسل کرو حسب الحکم)ان لوگوں نے ویساہی کیاپس ان کا بخارجاتارہا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
۔ان کا نسب ان کے بھائی عبداللہ کے بیان میں پہلے گذرچکاہے۔یہ انصاری حارثی ہیں غزوۂ احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک تھے جسرابوعبیدکے واقعہ میں شہیدہوئے یہ دونوں (یعنی عبدالرحمن اورعبداللہ ہذیہ ابن مربع اورمرارہ بن مربع کے بھائی ہیں۔ ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید