ایہ مولفتہ القلوب ۱؎سے تھےعلی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیرسے نقل کرکے بیان کیا ہے کہ مولفتہ القلوب تیرہ آدمی تھے آٹھ آدمی توقریشی تھے (باقی اورلوگ تھے)ان قریشیوں میں ابوسفیان بن حرب تھے جوبنی امیہ میں سے تھےاور حارث بن ہشام اور عبدالرحمن بن یربوع تھے جوبنی مخزوم میں سے تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عامربن مالک بن لوذان۔صحابی ہیں۔غزوۂ احد اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک تھے جنگ قادسیہ میں شہیدہوئے۔اس کو ابن قداح نے بیان کیاہے مگرابن قداح کے سوا کسی شخص نے ان کا غزوۂ احد میں شریک ہونانہیں بیان کیا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عامربن مالک بن لوذان۔صحابی ہیں۔غزوۂ احد اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک تھے جنگ قادسیہ میں شہیدہوئے۔اس کو ابن قداح نے بیان کیاہے مگرابن قداح کے سوا کسی شخص نے ان کا غزوۂ احد میں شریک ہونانہیں بیان کیا۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ان کو ابوعلی یعنی احمد بن عثمان اہری نے (اپنی کتاب)طوالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بیان میں ذکرکیاہے انھوں نے اپنی سند کے جعفربن محمد بن علی تک پہنچا کرکہاہے کہ جعفر نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداسے انھوں نے حضرت علی مرتضٰی سے روایت کی ہے کہ انھوں نے حضرت معاذ کے یمن بھیجے جانے اور وہاں سے ان کے لوٹنے کا تذکرہ کیا یہاں تک کہاکہ جب معاذ مدینہ سے دومنزل نکل گئے یکایک انھوں نے رات کی تاریکی میں ایک شخص کو پکارتے ہوئے سنا وہ کہتاتھاکہ اے محمد کے خدا معاذ بن جبل کو خبرپہنچادے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے مفارقت کی اورزمین کے نیچے استراحت کررہے ہیں (اس کوسن کر) معاذ نے اس کے پاس جاکرکہاتجھکوتیری ماں روئے (بتلا)توکون ہے۔(اس نے)کہامیں عبدالرحمن بن واثلہ انصاری ابوبکرصدیق کا پیغام معاذ بن جبل کےلیےلےکرجارہاہوں کہ ان کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و۔۔۔
مزید
ہیں بعض لوگوں نے ان کوہانی بن نیارکہاہےاوریہی صحیح ہے۔یحییٰ بن جذام نے عبدالرحمن بن یزید مقری سے ان کے نام کو اسی طرح روایت کرکے بیان کیاہے اس کوابن مندہ نے بیان کیا ہے اوراپنی سند کے ساتھ ابویحییٰ بن ابی میسرہ سے انھوں نے عبداللہ بن یزیدمقری سے انھوں نے سعید بن ابی ایوب سے انھوں نے یزید بن ابی حبیب سے انھوں نے بکیر بن اشج سے انھوں نے سلیما ن بن یسار سے انھوں نے ابن نیار سے روایت کی ہے بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہےکسی کو(کسی خطاقصورمیں)دس کوڑے سے زیادہ نہ مارے جائیں سوامنہیات الہی میں سے کسی چیزکے ارتکاب کے اور اسی طرح ابونعیم نے کہاہے۔ان دونوں نے (نسب میں تو) نام بیان کیا ہے اور حدیث جو روایت کی ہے اس میں سوائے ابن نیار کے ان کا نام ذکرنہیں کیا۔ابن مندہ نے جو حدیث بیان کی ہے اس کوہم نے ذکرکردیا(اب رہے)ابونعیم انھوں نے اپنی سند کے ساتھ بشربن موسیٰ سے انھوں نے عبدالل۔۔۔
مزید
ابن نعمان بن بزرج ان کوسیف نے فتوح میں ذکرکرکے کہاہے کہ مقام سباکے لوگوں میں سے جولوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایمان لائےوہ بازان اور سعد بن بالویہ اور عبدالرحمن بن نعمان بن بزرج اور وکبود ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ابن نعمان بن بزرج ان کوسیف نے فتوح میں ذکرکرکے کہاہے کہ مقام سباکے لوگوں میں سے جولوگ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایمان لائےوہ بازان اور سعد بن بالویہ اور عبدالرحمن بن نعمان بن بزرج اور وکبود ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ابن ام نحام بیان کیاہے کعب بن مرۃ کی حدیث میں ان کا ذکرہے ہمیں عبدالوہاب بن ابی حبہ نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ بن احمد سے نقل کرکے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے اعمش نے عمروبن مرہ سے انھوں نے سالم بن الجعد سےانھوں نے شرحبیل بن سمط سے روایت کرکے بیان کیا کہ شرحبیل نے کعب بن مرہ سے کہااے کعب بن مرہ ہم سے کوئی روایت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کرواورڈراؤ کعب نے کہامیں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے اہل حرفہ تم لوگ تیراندازی کیاکرو جس کا ایک تیربھی دشمن کے پڑگیااللہ تعالی اس کا درجہ سبب تیر کے بلند کردے گاعبدالرحمن بن نحام نے عرض کیا یارسول اللہ درجہ کیا(شہ)ہے(راوی نے) کہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ درجہ تمھاری ماں کی چوکھٹ کی طرح نہیں ہے بلکہ دو درجوں ۔۔۔
مزید
اور بعض لوگوں نے ابن ملی بیان کیاہے (اورآگے ان کا نسب اس طرح ہے)ابن عمرو بن عدی بن وہب بن ربیعہ ابن سعد بن خزیمہ بن کعب بن رفاعہ بن مالک بن نہد بن زید نہدی تھے ان کی کنیت ابوعثمان تھی۔اورنہد(خاندان)قضاعہ سے ایک قبیلہ ہے یہ عبدالرحمن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایمان تولائے تھےمگرآپ کو دیکھا نہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے(مقررکیے ہوئے)محصّلین زکوۃ کوتین مرتبہ زکوۃ دی تھی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے دوحج کیے تھے اور حضرت عمربن خطاب (رضی اللہ عنہ )کے زمانے میں مدینہ آئےتھے۔اورانھیں کے زمانے میں بہت سے جہادکیے۔قادسیہ اور جلولااورتستراورنہاونداور آذربیجان اورمہران کی فتح میں عراق سے (آکر )شریک ہوئے شام سے (آکر)یرموک (کے واقعہ میں )شریک ہوئے۔ابوعثمان نے کہاہے میرا سن ایک سوتیس برس کے قریب پہنچ گیا اب ہرچیز میں کمی مجھے محسوس ہورہی۔۔۔
مزید
ابن معمرانصاری ہیں ان کا صحابی ہوناصحیح نہیں ہے۔ان سے محمد بن ابراہیم نے روایت کی ہے ان کو بخاری نے وحدان میں ذکرکیاہے۔محمد بن ابراہیم انصاری نے عبدالرحمن بن معمرسے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ (رمضان میں)سحری کھایاکرو بے شک اللہ تعالیٰ سحری کھانے والوں پر رحمت نازل کرتاہے اگرچہ تھوڑے ہے چھوہارے سے (سحری)ہو یا روٹی کے ایک ٹکڑے سے ہو۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔
مزید