ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

سیّدنا عتیر بدری رضی اللہ عنہ

   ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور آپ سے روایت بھی کی تھی ان سے سلیمان بن عبدالرحمن ازدی نے روایت کی ہے مستغفری نے ان کانام عثیربیان کیاہے میں نہیں جانتا ہوں کہ یہ وہی عتیرعذری ہیں جن کوہم بیان کریں گے یادوسرے شخص ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتریس ابن عرقوب رضی اللہ عنہ

   جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے انھیں میں یہ بھی مذکورہیں۔ان سے طارق بن شہاب نے روایت کی ہے یہ عبداللہ بن مسعود کے شاگردوں میں سے تھےمگرصحابی ہونا ثابت نہیں ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن شاہین رضی اللہ عنہ

  یہ دوسرے شخص ہیں ان کوابن شاہین نے بیان کیاہے انھوں نے ان کے اوردوسروں کے درمیان فرق ظاہر کیاہے اوران کی حدیث ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ قبل ازنبوت آپ کی کیاکیفیت تھی۔آپ نے فرمایاکہ میری دایہ سعدبن بکرکی اولاد سے تھیں اور پوری حدیث بیان کی ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

عتبہ ابن ابی وقاص

  ۔ابووقاص کانام مالک تھا۔ان کانسب ان کے بھائی سعد کے تذکرے میں گذرچکا ہے۔ ان کاصحابہ میں ذکرکیاگیاہے ان سے ان کے بھائی سعدنے وصیت کی تھی کہ زمعہ کی کنیز ک کا لڑکامیراہے(تم اس کولےلینا)اس کوزہری نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کیاہے یہ ابن مندہ کابیان تھاابونعیم نے کہاہے کہ ان کو بعض متاخرین نے صحابہ میں ذکرکیاہے۔اور زہری کی اس حدیث سے کہ سعد نے اپنے بھائی سے وصیت کی تھی کہ زمعہ کی کنیز ک لڑکامیرا بیٹا ہے(ابونعیم نے)کہاہے کہ یہ وہ شخص ہیں جنھوں نے غزوہ احد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو زخمی کیاتھا اور آگے کے دانت شہید کئے تھے ان کا اسلام لانامجھ کو معلوم نہیں ہے ان کومتقدمین نے صحابہ میں ذکرنہیں کیا۔یہ بھی کہاگیاہے کہ یہ کافرمرے معمرسے روایت ہے انھوں نے عثمان جزری سے انھوں نے مقسم سے نقل کیاہے کہ عتبہ نے (جب)رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت شہیدک۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن نیاران رضی اللہ عنہ

   کورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعہ بن سیف کے پاس بھیجاتھااسودنے عروہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے زرعہ بن سیف بن ذی یزن کے پاس یہ خط لکھاتھا ۱؎ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد من محمد رسول اللہ الٰی زرعتہ بن ذی یزن اذااتاکم رسلی فامرکم بہم خیراً معاذبن جبل وابن رواحد ومالک بن عبادہ وعتبہ بن نیاران کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ اس بیان میں کلام ہے کیوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کے لوگوں سے فتح مکہ کے ۹ھ؁ ہجری میں خط وکتابت کی تھی اور عبداللہ بن رواحہ ۸ھ؁ ہجری واقعہ موتہ میں شہیدہوچکے تھےواللہ اعلم۔ ۱؎ترجمہ بسم اللہ الرحمن الرحیم امابعد محمد رسول اللہ کی طرف سے زرعہ بن ذی یزن کومعلوم ہو جب تمھارے پاس میرے قاصد پہنچیں تو میں تم کو ان کےساتھ نیک سلوک کرنے کاحکم دیتاہوں (میرے قاصدوں کے نام یہ ہیں)معاذبن جبل ابن واحدمالک بن عب۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ

   ہذلی ہیں۔ان کا نسب ان کے بھائی عبداللہ بن مسعود کے تذکرہ میں گذرچکاہے ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی انھوں نے اپنے بھائی عبداللہ کے ساتھ حبشہ کی طرف دوبارہ ہجرت کی تھی اور مدینے میں بھی آئے تھے غزوہ احد اوراس کے بعد کے کل غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔زہری نے کہاہے کہ ہمارے نزدیک عبداللہ اپنے بھائی سے زیادہ دینی مسائل کونہ جانتے تھےلیکن یہ بہت جلدانتقال کرگئے تھے۔زہری سے یہ بھی منقول ہے کہ عبداللہ  اپنے بھائی سے زیادہ قدیم الصحبت اورقدیم الہجرت نہ تھے لیکن وہ عبداللہ سے پہلے انتقال کرگئے عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ  وہ کہتے تھے جب عبداللہ بن عتبہ کاانتقال ہواتوان کے بھائی عبداللہ ان کو رونے لگے بعض لوگوں نے ان سے کہاکہ کیاتم روتے ہوانھوں نے کہاکہ (اس میں تعجب ہی کیاعتبہ )میرےبھائی اوررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں میرے ساتھی تھے اور سوا ع۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن ابی لہب رضی اللہ عنہ

   ابولہب کانام عبدالعزٰی تھا۔عبدالمطلب کابیٹاتھا۔یہ عتبہ قریشی ہاشمی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازادبھائی تھے۔ان کی والدہ ام جمیل حرب بن امیہ کی بیٹی اورابوسفیان کی بہن تھی حمالتہ الحطب۱؎ یہی تھی عتبہ اوران کے بھائی معتب فتح مکہ میں ایمان لائےتھے یہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے خوف)سے(مکہ چھوڑکر)بھاگ گئے تھے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب کوجوان دونوں کے چچاتھے ان کے پاس بھیجا چنانچہ حضرت عباس دونوں کو لے آئے اور دونوں اسلام بھی لائےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اسلام لانے سےخوش ہوئے یہ دونوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ حنین میں شریک تھے اور اس دن یہ ان لوگوں میں تھے جو ثابت قدم رہےاورنہیں بھاگے اور غزوۂ طائف میں بھی شریک تھے یہ دونوں مکے سےکبھی نہیں نکلےاورمدینہ نہیں آئے ان دونوں نے اپنی اولاد چھوڑی تھی زبیرابن بکار نے کہاہے کہ عتب۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن ابی لہب رضی اللہ عنہ

   ابولہب کانام عبدالعزٰی تھا۔عبدالمطلب کابیٹاتھا۔یہ عتبہ قریشی ہاشمی تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازادبھائی تھے۔ان کی والدہ ام جمیل حرب بن امیہ کی بیٹی اورابوسفیان کی بہن تھی حمالتہ الحطب۱؎ یہی تھی عتبہ اوران کے بھائی معتب فتح مکہ میں ایمان لائےتھے یہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کے خوف)سے(مکہ چھوڑکر)بھاگ گئے تھے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبدالمطلب کوجوان دونوں کے چچاتھے ان کے پاس بھیجا چنانچہ حضرت عباس دونوں کو لے آئے اور دونوں اسلام بھی لائےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اسلام لانے سےخوش ہوئے یہ دونوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوۂ حنین میں شریک تھے اور اس دن یہ ان لوگوں میں تھے جو ثابت قدم رہےاورنہیں بھاگے اور غزوۂ طائف میں بھی شریک تھے یہ دونوں مکے سےکبھی نہیں نکلےاورمدینہ نہیں آئے ان دونوں نے اپنی اولاد چھوڑی تھی زبیرابن بکار نے کہاہے کہ عتب۔۔۔

مزید

 سیّدنا عتبہ ابن فرقد رضی اللہ عنہ

   بن یربوع بن حبیب بن مالک بن اسعد بن رفاعہ بن ربیعہ بن حارث بن بہثہ بن سلیم سلمی ہیں ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی ۔کلبی نےکہاہے کہ فرقد ہی کانام یربوع ہے ان کی والدہ عباد بن علقمہ بن عباد بن مطلب بن عبدمناف کی بیٹی تھیں یہ صحابی تھے اورصاحب روایت تھے بزرگ شخص تھے۔ابن مندہ نے کہاہےکہ عتبہ ابن فرقد سلمی بنی مازن کے خاندان سے تھےانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دوجہادکیےتھے ہم کوابومنصور بن مکارم بن سعد مودب نے اپنی سند کوابو زکریا یعنی یزید بن ایاس ازدی تک پہنچاکر خبردی وہ کہتے تھے ہمیں عبداللہ بن عبداللہ بن احمد بن حنبل نے خبردی وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے اشیم نے بیان کیا وہ کہتےتھے ہمیں حصین نے خبردی وہ کہتے تھے کہ عتبہ بن فرقد غزوۂ خیبرمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے (راوی نے)کہاکہ خیبر(لوگوں میں)تقسیم کردیاگیاتوان کو اس می۔۔۔

مزید

سیّدنا عتبہ ابن غزوان رضی اللہ عنہ

   بن جابربن وہب بن نسیب بن زید بن مالک بن حارث بن عوف بن حارث بن مازن بن منصوربن عکرمہ بن خصفہ بن قیس عیلان اوربعض نے (اس طرح نسب)بیان کیاہے کہ غزوان بن حارث بن جابرابن مندہ اورابونعیم نے(اس طرح)بیان کیاہے کہ عتبہ بن غزوان بن جابربن وہب بن نسیب بن مالک بن حارث بن ماذن (ان دونوں) نےان کے نسب سے زیداورعوف کو ساقط کردیاہے ابن مندہ نے (یہ بھی)کہاہے کہ بعض نے بیان کیاہے کہ غزوان بن بلال بن عبدمناف بن حارث بن منقذ بن عمروبن معیص بن عامر بن لوئی ہیں اور ابن مندہ نے کہاہے کہ اس کو ابن ابی خیثمہ نے مصعب زبیری سے نقل کرکے بیان کیاہے ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی بعض نے کہاہے کہ ابوغزوان تھی اوربنی نوفل بن عبدمناف بن قصی کے حلیف تھے۔یہ قدیم الاسلام تھے کیوں کہ جو لوگ مسلمان ہوکررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگئے تھے ان میں یہ ساتویں شخص تھے۔ اوراسی کوانھوں نے اپنے خطبے میں بمقام بصرہ ب۔۔۔

مزید