یہ جبیربن عتیک کے غلام تھے۔ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی یہ اپنے آقا کے ساتھ غزوۂ بدرمیں شریک تھے ہم کومنصوربن ابی الحسن مدینی نے اپنی سندکواحمدبن علی بن مثنی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے مجھ سے داؤدبن صالح نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے یونس بن بکیر نے محمد بن اسحق سے نقل کرکے خبردی وہ کہتےتھے مجھ سے داؤد بن حصین نے عبدالرحمن بن عقبہ سے انھوں نے اپنے والد عقبہ سے جوجبری عتبک کے غلام تھے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ غزوۂ احد میں اپنے آقا کے ساتھ میں شریک تھااوراس میں مشرکوں کے ایک آدمی کومیں نےماراجب میں نے اس کوقتل کیا تواس سے میں نے کہاکہ ہے(یہ حملہ لیتاجا)اورمیں ایک فارسی کالڑکاہوں۔یہ خبر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی توآپ نے فرمایاکہ تم نے یہ کیوں نہ کہاکہ(یہ حملہ)لے مجھ سے اورمیں انصاری کالڑکاہوں کیوں کہ جوغلام جس قوم کاہوتاہے اسی سے منسوب ہوتاہے اور اس کوجریربن حازم ن۔۔۔
مزید
ہیں بعض لوگ کہتےہیں کہ یہ عفیف بن قیس بن معدیکرب ہیں اوربعض نے کہاہے کہ عفیف بن سعد معدیکرب ہیں اوربعض لوگ کہتےہیں کہ عفیف کندی جوکہ صحابی تھے ان عفیف بن معدیکرب کے علاوہ ہیں جنھوں نے حضرت عمرسے روایت نقل کی ہے بعض نے کہاہے کہ یہ دونوں ایک ہی ہیں اس کو ابوعمر نے کہاہے اورابن مندہ نے کہاہے کہ عفیف ابن معدیکرب قیس کندی اشعث بن قیس کے اخیانی بھائی تھے اورچچازاد بھائی تھے بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے کہاہے کہ ان کانام عفیف بن قیس ہے اس میں انھوں نے غلطی کی کیوں کہ وہ عفیف بن معدیکرب ہیں ۔ان سے ابویحییٰ اوران کے بیٹےایاس نے روایت کی ہے۔ہم کوابوالربیع یعنی سلیمان بن ابی البرکات یعنی محمد بن حسین بن خمیس نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابونصر یعنی احمد بن عبدالباقی بن حسن بن طوق نے خبردی وہ کہتےتھے ہمیں ابوالقاسم یعنی نصر بن احمدابن مرجی نے خبردی وہ کہتے تھےہمیں ابویعلی یعنی احمد بن علی نے ۔۔۔
مزید
یمانی ہیں طبرانی نے ان کوصحابہ میں ذکرکیاہے۔معافی بن عمران نے ابوبکرشیبانی سے انھوں نے حبیب ابن عبیدسے انھوں نے عفیف بن حارث یمانی سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجس امت نے نبی کے بعدکوئی بدعت دین میں پیداکی ہواس نے اسی درجہ کی ایک سنت بھی ضرور ضائع کی ان کا تذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے اور ابوموسیٰ نے کہاہے کہ اسی طرح ان کو طبرانی نے بیان کیاہے اورابونعیم نے ان کی پیروی کی ہے اور ان دونوں نے ان کے نام میں تصحیف کی ہے ان کا صحیح نام غضف بن حارث شمالی ہے اورشیبانی بھی تصحیف ہے صحیح نام ابوبکربن ابی مریم نسائی ہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں ان سے ایک حدیث مروی ہے۔ہم کو یحییٰ بن ابی الرجاء نے اپنی سند کوابن ابی عاصم تک پہنچاکراجازتاً خبردی وہ کہتےتھے ہم سے حسن بن علی بن یزیدبن ہارون نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالرحمن ابن ابی بکرنے محمد بن طلحہ بن عبدالرحمن بن ابی بکرصدیق رضی اللہ عنہ سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھے کہ حضرت ابوبکرصدیق نے ایک عربی سے جس کو لوگ عُفیریاعَفیرکہتےتھےفرمایاکہ تم نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودوستی کی نسبت کہتے ہوئے کیاسنا ہےانھوں نے کہامیں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کو کہتےہوئے سناہے کہ دوستی میراث میں ملتی ہے اوردشمنی بھی میراث میں ملتی ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمراورابونعیم نے لکھاہے۔ ۱؎یعنی دوستی دشمنی من جانب اللہ پیداہوتی ہے کسبی چیزنہیں۱۲۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کوزکریانےبیان کیاہے اورکہاہے کہ صحابی تھے ان سے ان کے بیٹے داؤد نے روایت کی ہے مگرابوزکریا نے ان کی روایت کردہ کوئی حدیث نہیں بیان کی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصر لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
سلمی ہیں اوربعض نے کہاہے کہ عفان بن عترسلمی ہیں جو اصحاب رسول حمص میں فروکش تھےان میں ان کا بھی تذکرہ ہے ان سے جبیربن نفیراورخالدبن معدان نے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ان کو اسماعیلی نے صحابہ میں بیان کیاہے اوراپنی سند کے ساتھ عمیریعنی ابوعرفجہ سے انھوں نے عطیہ سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ایک روز)حضرت فاطمہ(رضی اللہ عنہا) کے پاس تشریف لے گئے وہ حلوابنارہی تھیں پس آپ بیٹھ گئے یہاں تک کہ وہ بنا چکیں اورحضرت فاطمہ کے پاس حسن وحسین تھے پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ علی کوبلابھیجو پس علی رضی اللہ عنہ آئے سب نے حلواکھایاپھراس بسترکو جس پروہ سب بیٹھےتھے آپ نے کھینچ کر سب پر ڈال دیاپھرفرمایا اے اللہ میرے گھروال ہیں ان سے پلیدی کودورکردے اوران کو خوب پاک کردے (اس دعاکو)حضرت ام سلمہ نےسناتوعرض کیایارسول اللہ میں بھی ان کے ساتھ ہوں ۔آپ نے فرمایا کہ تم ان سے بہتری۱؎پرہو۔ ۱؎بہتری پرہونے کامطلب یہ ہے کہ لوگ حقیقتہً اس آیت کی فضیلت میں داخل ہو کیوں کہ اہل بیت کا لفظ حقیقتہً ازواج ہی کےلیے ہےازواج کے علاوہ اورلوگوں پراس لفظ کاا۔۔۔
مزید
ہیں انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا اورآپ سے حدیث بھی سنی تھی یہ کوفہ میں فروکش تھے ان کا نسب مشہورنہیں ہے ان سے مجاہد اورعبدالملک بن عمیر نےروایت کی ہے ہم کوعبدالوہاب بن ابی منصور نے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے ابوغالب ماوردی نے اپنی سند کوسلیمان بن اشعث تک منادلتہً پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے سفیان نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبدالملک بن عمیر نےبیان کیا وہ کہتےتھے مجھ سے عطیہ قرظی نے بیان کیا وہ کہتے تھے کہ قیدیان قریظہ میں سے میں بھی تھاپس لوگ دیکھے جاتےتھےجس کے زیر ناف بال نکل آئےتھے وہ قتل کردیاجاتاتھا۔اورجس کے نہ نکلے تھے وہ قتل نہیں کیاجاتاتھااور میں ان میں سے تھاجن کے بال نہیں تھے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
یہ حکم بن عمروغفاری کے بھائی تھے۔اس کوابن شاہین نے کہاہے احمد بن سیارمروزی نے کہاہے کہ ابن شاہین نے کہاہے کہ حکم بن عمروکے ایک بھائی تھےلوگ ان کو عطیہ بن عمروکہتےتھے وہ مروہ میں مرےتھےاوررسول خدا کے صحابی تھے اوران دونوں کے ایک بھائی رافع بن عمروتھے علی بن مجاہد نےکہاہے حکم بن عمرومروہ میں مرے تھے ان کی اور ان کے بھائی عطیہ بن عمرو کی قبر وہیں ہے اوروہ صحابی تھے۔نیزان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن حشم جعفرنے کہاہے کہ یہ مدینہ میں رہتےتھے میں خیال کرتاہوں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث روایت کی ہے اس کو ابن منیع نے کہاہے۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید