جمعہ , 07 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 24 April,2026

فخر المحدث مولانا سید محمد عارف رضوی نانپاروی

شیخ الحدیث مرکز اہلسنت منظر اسلام بریلی شریف نانپارہ ضلع بہرائچ شریف کا ایک مشہور قصبہ ہے جو نیپال کی تائی سے متصل ایک چھوٹی سی اسٹیٹ کی شکل میں جاناپہچانا جاتا ہے۔ اسٹیٹ کے زمانے میں یہ قصبہ ارباب علم ودانش کی آماجگاہ اور مسکن بنارہا ہے۔ آج بھی بحمدہٖ تعالیٰ اس قصبہ اور اس کے مضافات علماء وحفاظ، قراء اور شعراء سے آباد ہے۔ نانپارہ ایک زمانے میں نوابوں کا دارالسلطنت رہ چکا ہے۔ نانپارہ کے نواب کی فرمائش پر امام احمد رضا قادری بریلوی نے ایک نعت پاک تحریر فرمائی۔ مقطع میں اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی ارشاد فرماتے ہیں؎ کروں مدح اہلِ دوَل رضاؔ پڑے اس بلا میں مری بلا میں گدا ہوں اپنے کریم کا میرا دین پارہ ناں نہیں ولادت اسی قصبہ نانپارہ کی سر زمین پر فخر المحدثین علامہ مولانا الحاج الشاہ سید محمد عارف رضوی ۷؍مارچ ۱۹۸۳ء کو پیدا ہوئے اور وہیں ا۔۔۔

مزید

حضرت مولانا محمد سلیمان بھاگل پوری رحمۃ اللہ

حضرت مولانا شاہ محمد اشرفی کچھوچھوی قدس سرہٗ سے جامعہ اشرفیہ کچھوچھہ شریف ضلع فیض آباد میں ابتدائی عربی درس نظامی کی کتابیں پڑھیں بعدہٗ جامعہ نعیمیہ مراد آباد میں داخل ہوئے،اجمیر شریف دار العلوم معینیہ عثمانیہ میں حضرت صدر الشریعۃ مولانا شاہ محمد امجد علی اعظمی قدس سرہٗ اور دیگر اساتذہ سے کتب متداولہ پڑھیں،فارغ التحصیل ہوئے،جامعہ نعیمیہ مراد آ﷜باد،و،دار العلوم اشرفیہ مبارک پور اعظم گڈھ،بحر العلوم کٹیہار،جامعہ حمیدیہ بنارس میں درس دیا،۔۔۔۔۔اب اپنے وطن اگر پور ماچھی ضلع بھاگل پور میں مدرسہ اشرفیہ اظہار العلوم کے شیخ الحدیث وصدر مدرس ہیں، درس نظامی کے جملہ فنون میں مہارت ہے۔علوم عقلیہ سے خاص شغف ہے،مزاج بہت نفاست پسند اور شاہانہ پایا ہے قطب المشائخ حضرت مخدوم اشرفی میاں قدس سرہے کےمرید ہیں،ممتاز علمائے اہل سنت میں شمار کیے جاتے ہیں۔۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق رضوی گونڈوی

حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق رضوی گونڈوی ولادت فاضل گرامی حضرت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق رضوی ۴؍جنوری ۱۹۴۴ء کو ننہال کے موضع جوڑیکوئیاں ضلع گونڈہ میں پیدا ہوئے جو قصبہ بچڑوا سے قریب ہے۔ ابتدائی پرورش والدین کے زیر سایہ ہوئی لیکن جب مولانا عبدالمصطفیٰ رونق کی عمر سات سال کی ہوئی تو والد ماجد کے سایہ عاطفت سےمحروم ہوگئے اور ان کی پرورش نانا نانی کے زیر سایہ ہونے لگی۔ خاندانی حالات والدین کریمین بڑے زمیندار تھے۔ مولانا رونق کا سلسلہ نسب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ یہی وجہ ہےکبدیقی لکھتے ہیں آپ کے جد کریم بسڈیلہ ضلع بستی سے ترک وطن کر کے پچڑ واکے رجسٹر واضلع گونڈہ میں سکونت پذیر ہوئے۔ اس وقت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق کےجد مکرم ریلوے میں ملازم تھے ان دنوں آپ آبائی وطن چھوڑ کر قصبہ اترولہ ضلع گونڈہ میں مع اہل وعیال سکونت پذیر ہوئے۔ تعلیم وتربیت مولانا عبدالمصطفیٰ رونق نے اپن۔۔۔

مزید

عمدۃ المدرسین مولانا عبدالرشید رضوی بہاری

مدرس شمس العلوم گھوسی ضلع مئو ولادت حضرت مولانا عبدالشید رضوی بن حکیم محمد نذیر اشرفی بن حکیم محمد بشر بن کرمات میاں ۱۵؍جولائی ۱۹۲۶ء کو موضع بٹھگائیں تھانہ تریاں ضلع چپھرا صوبہ بہار میں پیدا ہوئے۔ خاندانی حالات مولانا عبدالرشید رضوی کےوالد ماجد اپنے وقت کے نامور حکیم تھے۔ طب یونانی میں مہارت رکھتے تھے۔ اپنے گاؤں ہی میں مطب کرتے تھے۔ اسی وجہ سےمولانا عبدالرشید کا خاندان اپنے گاؤں اور قرب وجوار میں عزت و قعت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مولانا عبدالرشید کے بڑےوالد بھی دید تھے اور اس فن میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ اپنے وقت کے تجربہ کار اور ہر ولغریز حکیم گزرے ہیں۔ مولانا عبدالرشید کے دادا محترم حضرت مولانا عظیم اللہ بلیاوی سکندری پوری سے سلسلہ رشیدیہ میں۱۹۳۵ء کو منسلک ہوئے اور آخر عمر میں اور ادو وظائف میں مشغول رہا کرتے تھے۔ بالآخر ۱۹۴۳ء میں اس د۔۔۔

مزید

فاضل گرامی مولانا عبدالغنی قادری رضوی

نیوٹن شریف ضلع جھنڈ واڑہ ایم۔ پی ولادت حضرت مولانا عبدالغنی قادری رضوی ۱۶؍جون ۱۹۲۷ء کو بروز جمعرات بعد نماز عشاء بمقام موبکھیڑا جھنڈ واڑہ صوبہ ایم۔ پی میں پیدا ہوئے۔ اس خاندان میں پہلی ولادت پر پورے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا عبدالغنی کے والد ہندی اسکول میں ماسٹر تھے اس لیے تبدیلی آئے دن ہوتی رہتی تھی۔ تعلیم وتربیت مولانا عبدالغنی رضوی کے والد ماجد نے نیوٹن چکلی سے بارہ میل دور جامی جنا دیو کے ایک مکتب میں آپ کا داخلہ کرادیا۔ آپ نے وہاں قرآن پاک دیڑھ سال میں ختم کیا۔ نیوٹن ضلع جھنڈ واڑہ کے مدرسہ میں اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ کرادیا گیا۔ اردو کی ابتدائی انگریزی کی تعلیم حاصل کی۔ کالج کی تعلیم کے بعد مولوی محمد اسمٰعیل امام مسجد نیوٹن شریف کے مشورہ سے جامعہ عربیہ ناگپور میں داخلہ لیا۔ مولانا عبدالغنی نے جامعہ نعیمیہ مراد آباد درس نظامیہ کی تکمیل کی۔ اساتذۂ کر۔۔۔

مزید

مولانا الحاج صوفی محمد عبدالعزیز آفریدی رضوی

چترا درگاہ کرناٹک ولادت ہونالی ریاست کرناٹک ایک قدیم تاریخی گاؤں ہے جو شی مو گا شہر سے شمالی جانب چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریائے تنگا سمجھدار کے کنارے پر واقع ہے۔ اس گاؤں میں متعدد ومشائخ عظام سادات کرام کی خانقاہ ہیں، درگاہ جو ہمہ وقت فیض رساں ہیں۔ اسی گاؤں میں مولانا صوفی عبدالعزیز آفریدی رضوی ۲۲؍مئی ۱۹۲۲ء کو پیدا ہوئے اور یہیں پر رہ کر والدین کے زیر سر پرستی پرورش ہوئی۔ صوفی عبدالعزیز کے جد کریم ن ے پورا نام عبدالعزیز خاں آفریدی رکھا اس علاقہ کے لوگ صوفی میاں جان کے نام سے جانتے ہیں۔ خاندانی حالات مولانا صوفی عبدالعزیز کے والد بزرگوار عبدالقادر آفریدی سرحدی پٹھان آفریدی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالقادر آفریدی کے آباواجداد شمال مغربی سرحد سے تقریباً ۲۲۵سال پیشتر کر ناٹک آکر بودو باش اختیار کی، والدہ ماجدہ شہزادی بی اصگری سرحدی قبیلیہ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا صوفی عبدالرحمٰن وجودی رحمۃ اللہ علیہ

والد ماجد کا نام سید محمد حسن، وطن کوٹ مخدوم عبد الحکیم تعلقہ مبارک پور شکار پور سندھ، ۱۱۶۲؁ھ میں آپ کی ولادت ہوئی، ۱۹؍سال کی عمر تک والد سے تحصیل علوم کی، قصبہ مہاروی چند دنوں مولانا اسداللہ سے پڑھنے کے بعد دہلی پہونچے اور وہاںسےرامپور آئے، رام پور سے۱۱۹۸؁ھ میں لکھنؤ پہونچ کر حضرت بحر العلوم مولانا عبد العلی فرنگی محلی قدس سرہٗ کی خدمت میں رہ کر ۱۱۹۹؁ھ میں درسیات کی تکمیل کی، ۱۲۰۵؁ھ میں فریضۂ حج ادا کیا، لکھنؤ میں مسجد پنڈاری میں قیام تھا، سلسلہ عالیہ چشتیہ میں حضرت شاہ عظیم خلیفہ حضرت فخر دہلوی سے بیعت اور اجازت وخلافت سے سرفراز تھے سماع سےخاص ذوقت تھا، شریعت مطہرہ کے سختی سے پابند تھے، نہایت متجر اور خوش تقریر عالم تھے، اس مسئلہ میں آپ کےزمانے میں آپ کا کوئی مثبل نہ تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مولوی اسماعیل دہلوی نےبالاکوٹ کوں ریزی کے ارادے سے جاتے ہوئے ت۔۔۔

مزید

حضرت مولانا قاضی عبد الرزاق کان پوری علیہ الرحمۃ

نگینہ ضلع بجنور وطن، حضرت مولانا شاہ احمد حسن استاد زمن سےتحصیل وتکمیل علوم کی اور علوم و فنون میں ممتاز ومشہور ہوئے، حضرت حاجی امداد اللہ مکی کےمرید تھے، ساری زندگی خدمت تدریس میں بسر کردی، پڑھانےکا انداز خوب پایا تھا، مدرسہ امداد العلوم بانس منڈی کان پور میں درس دیتے تھے، حضرت مولانا مشتاق احمد اُستاد زادہ مولانا شاہ حبیب الرحمٰن ابن مولانا شاہ محمد عادل، مولانا محمد ظفر الدین قادری رضوی صاحب صحیح البہاری مشہور آفاق عالم، مدرس، مصنف نے آپ سے درس لیا، ۸۵برس کی عمر میں ماہ جمادی الثانیہ ۱۹۴۷؁ھ فوت ہوئے، جمعیۃ علماءکانپور (جس کے بانی مولانا شاہ عبد الماجد بد ایونی تھے) کے سر گرم رکن مولانا محمد عبد الکافی اور مشہور عالم و مناظر مولانا عبدالغنی دو صاحبزادے دین کے خادم ہوئے، ۔۔۔

مزید

حضرت مولانا عبد الغفار خاں رامپوری قدس سرہٗ

عبد الغفار نام، والد کا نام محمد خاں محمد خاں شاہ منصور علاقہ سر حد کے رہنے والے تھے تحصیل علم کے لیے رام پور پہونچے، ملا غفران وغیرہ علمائے رام پور ے کتب درسیہ پڑھیں، رام پور ہی میں اُن کی شادی ہوئی، اس عقد سے ۱۲۷۳؁ھ میں مارے گئے، اس لیے ایک ہی سال کی عمرسے آپ اپنے نانا مرزاباقی بیگ کے زیر تربیت پرورش پائی،۔۔۔۔ آپ نے صرف ونحو مولانا عالم علی مراد آبادی سے پڑھا۔ میبذی اور مُلّا حسنتک مولانا حافظ عنایت اللہ خاں سے پڑھا۔ حضرت قطب ارشاد مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوری کے حلقہ درس میں شریک ہوکہ تکمیل علوم کی، مولانا شاہ ارشاد حسین نے اپنے ہاتھ سے آپ کی دستار بندی کی اور سند فراغ مرحمت فرمائی، زمانۂ طالب علمی ہی سے پڑھانے کا شوق تھا، کامل وبخارا کے طلبہ آپ کے حلقۂ درس سے فیضیاب ہوئے، علم کلام سے خاص شغف تھا، مشہور غیر مقلد عالم مولوی ابراہیم آروی سے رام پور میں آپ کی گفت۔۔۔

مزید

فاضل اجل مولانا مظفر علی رضوی سہسوانی

مقیم قصبہ سہسوان ضلع بدایوں شریف سہسوان سلطنت مغلیہ کے زمانے کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔ سید ابراہیم سید اکبر شہید وغیرہا اولیاء کرام کا مسکن رہا۔ جنہوں نے آپ نی عمر شریف تبلیغ اسلام میں گزاری اور جہاد بھی کیے اور شہید بھی ہوگئے۔ جن کے مزارات طیبہ آج بھی مرجع خلائق ہیں۔ بادشاہ جہانگیر نے قلعہ جہانگیر تعمیر کرادیا تھا، چاروں طرف کی دیوار اندر کے کھنڈ رات آج بھی شہادت دے رہے ہیں۔ آج محلہ جہانگیر آباد کے نام سے آباد ہے۔ ایک بزرگ مجذوب جن کے آس پاس زیاہ د تر ہرن بیٹھے رہا کرتے تھے لوگ انہیں ہرن شاہ ولی کےنام سے یاد کرتے ہیں۔ جس جگہ ان کا قیام غیر آباد جگہ میں رہا آج اس جگہ بہت زیادہ آبادی ہے۔ اس لیے آج آبادی والا محلہ انہیں بزرگ کے نام ہر ناتکیہ سے معروف ہے۔ ولادت حضرت مولانا مظفر علی رضوی بن کفایت علی بن مولوی محمد علی ذیقعدہ ۱۹۲۹ء میں قصبہ سہسوان ضلع بدایوں۔۔۔

مزید