حضرت ابراہیم ٹیپو رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ درویش ابراہیم ولد نکورو ٹیپو نے زندگی میں بڑی ریاضتیں کی تھیں، جنگل کے گھاس پھوس اور دانوں پر گزارہ تھا، تمام زندگی متعارف غذاؤں سے مجتنب رہے،مستجاب الدعوات تھے ، آپ کا مزار شریف سکر باری میں ہے۔ (’’حد یقۃ الاولیاء‘‘، ص ۲۰۸) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
آسو بودلہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آسو بو دلہ سیّد محمد یوسف مہدوی کے مریدوں میں سے تھے۔ صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ آپ کا مزار مکلی پر اپنے شیخ کے قریب ہی واقع ہے۔ (’’تحفۃ الطاہرین‘‘ ،ص۸۹) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت آلو درویش رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ یہ ایک مجذوب تھے، اصل میں ہندوستان کے رہنے والے تھے، بالکل خاموش شہر کے گلی کوچوں میں پھرتے رہتے تھے، یا پھر جنگلات سے لکڑیاں کاٹ کر لاتے اور لوگوں میں بانٹ دیتے صاحبِ کشف وکرامت تھے، سانکرہ کے کنارے آپ کا مزار واقع ہے۔ (’’حدیقۃ الاولیاء‘‘، ص ۲۳۹ ۔۲۴۰) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
حضرت ابراہیم نقشبندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ یہ دراصل روہڑی کے باشندے تھے،بعد میں ٹھٹھہ آ کر قیا م پزیر ہوئے، ذکر کے ذریعے لوگوں کو ظلمات سے نکالتے تھے، آپ کی کرامات مشہور ہیں، مزار مکلی پر ہے۔ (’’تحفۃالکرام‘‘، ج۳، ص ۲۳۶) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید
مخدوم آدم نقشبندی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ مخدوم آدم بن عبدالاحد بن عبدالر حمان بن عبدالبا قی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سیّدنا صدّ یق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی نسلِ پاک سے تھے ،آپ سندھ میں شیخ آدو کے لقب سے مشہور ہیں،سندھ میں سلسلۂ نقشبندیہ کے پہلے بزرگ آپ ہی ہیں۔ آپ کے اَجداد میں دو بھائی تھے: بڑے بھائی کا نام عبدالباری اور چھوٹے کا نام عبدالخالق تھا۔ مخدوم عبدالخالق ٹھٹھہ میں اقا مت پزیر تھے،جب سلطان محمود غزنوی نے سندھ پر قبضہ کیا تو مخدوم وعبدا لخالق کے علم و عمل اور زہدوتقویٰ سے متا ثر ہو کر ان کو شاہی اعزازات سے نوازا ،مخدوم آدم انھی کی اولاد میں سے ہیں۔ مخدوم آدم کو جب بادشاہ عا لمگیر کی دوستی کا حال معلوم ہوا تو آپ ٹھٹھہ سے دہلی آئے، یہاں آپ کی ملاقات حضرت مجددِ الفِ ثانی کے&۔۔۔
مزید
حضرت آجر درویش رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آپ ٹھٹھہ میں چھولے بنا کر بیچتے تھے۔ سیّد علی ثانی شیرازی کی نظرِ فیض اثر نے مرتبۂ ولایت تک پہنچادیا ، ٹھٹھہ کے اُمَرا نے ان کو ٹھٹھہ سے محض اس لیے نکال دیا کہ کہیں ان کی اولاد اس درویش کی صحبت کے اثر سے تارک الدنیا نہ ہوجائے، لہٰذا وہ گجرات کی طرف نکل گئے، سیّد علی کو ان کا فراق بہت کَھلا، وہ بھی ان کے تعاقب میں گجرات پہنچ گئے۔ وہاں جاکر دیکھا تو وصال کا وقت قریب تھا ، کچھ دیر بعد دنیا سے رخصت ہوگئے ، سیّد میر محمد سجادہ نشین حضرت پیر مرادقُدِّسَ سِرُّہٗ سے منقول ہے کہ درویش کی نعش خفیہ طریقے پر کوہِ مکلی میں لاکر دفن کردی گئی۔ (’’تحفۃ الطاہرین‘‘ ،ص۷۲) (تذکرہِ اولیاءِ سندھ)۔۔۔
مزید