والد ماجد کا نام سید عبداللہ عرف ننھے میاں، تاج العراق حضرت سید عبد الرزاق خلف اکبر غوث الثقلین شیخ عبد القادر حسنی الحسینی الجیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اولاد امجاد سے تھے،محلہ غلزئی شاہ جہاں پور میں ولادت ہوئی،بعہد نواب احمد علی خاں رام پور جاکر مفتی شرف الدین رامپوری علیہ الرحمۃ سے درسیات پڑھی،مذہباً شافعی تھے،حضرت شاہ مشیر علی خلف سید شاہ غلام علی مالوی قادری رزاقی کے مرید ہوئے،ریاست رام پور میں مفتئ عدالت و فواجداری تھے،ربیع الآخر،یا جمادی الاولیٰ کو فوت ہوئے سرائے دروازہ کے باہر مناشاہ کے تکیہ میں دفن کیے گئے۔ (تذکرۂ کاملان رامپور) ۔۔۔
مزید
علی گڑھ کے سادات کرام سے تھے،علی گڑھ میں پیدا ہوئے،کتب درس نظامی درس حضرت مفتی لطف اللہ صاحب سے لیا،حدیث کی کتابیں بھی مفتی صاحب سے تمام کیں،اور اُستاذ کی حیات ہی میں اُن کے مدرسہ تھے،جامعہ شمس العلوم بد ایوں میں بھی اسی منصب پر فائز رہے درس نظامی کے ماہر اساتذہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا،انتقال علی گڈھ میں ہوا،سال وفات باوجود کوشش اور متعدد خطوط لکھنے پر بھی معلون نہ ہوسکا،ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین نے آپ سے مسلم شریف کا درس لیا۔ ۔۔۔
مزید
علاقہ مدھونبی دربھنگہ، موضع حیات پور میں پیدا ہوئے،درس نظامیہ کی تکمیل مدرسہ مطلع العلوم بنارس میں کی،مولانا عبد الرحمٰن ساکن ناصری گنج ضلع آرہ کے مخصوص شاگرد تھے مولانا بنارس المتوفی ۱۳۱۳ھ کے مرید تھے،۔۔۔ مولانا جمال الدین حضرت مولانا شاہ عبد الکافی ناردی الہ آبادی کے مرید تھے، عمر کا زیادہ حصہ مدھونبی میں گذارا،اولاً مدرسہ احمدیہ مدھونبی کی بنا ڈالی اور اس ہیں مدرس اول ہوئے،بعدہٗ مدھونبی ہائی اسکول میں ہیڈ مولوی ہوئے، وہاں سے سبکدرشی پر مدرسہ حمیدیہ دربھنگہ میں مدرسی کی،۲۷؍اگست ۱۹۲۹ھ کو بمقام مدھونبی دمر ساٹھ سال فوت ہوئے، دبین،صاحب تصانیف،مناظر مدرس، عالم تھے۔ (مرسلہ مولانا محمد ابراہیم فریدی) ۔۔۔
مزید
عطاءِ خواجہ مولانا سید احمد علی رضوی اجمیری گدی نشین آستانۂ غریب نواز رضوی منزل اجمیر شریف ولادت پیر طریقت مولانا سید احمد علی رضوی چشتی کی ولادت ۱۵؍اپریل ۱۹۳۲ء کو بمقام اجمیر مقدس ہوئی۔ بچپن ہی کے زمانےمیں والدہ ماجدہ داغِ مفارقت دےکر رخصت ہوگئیں مولانا سید احمد علی کی پرورش ان کی ہمشیرہ اور ان کے والدِ گرامی الحاج مولانا سید حسین علی رضوی نےکی۔ سید صاحب کی پیدائش کے وقت ان کے والد عمر رسیدہ ہوچکےتھے۔ سید صاحب کی والدہ مولانا سید حسین علی رضوی اجمیری کی تیسری شریک حیات تھیں۔ خاندانی حالات مولانا سید احمد علی اجمیری گردیزی سید ہیں۔ ان کا شجرۂ نسب مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملتا ہے۔ آپ کے والد ماجد مولانا سید حسین علی کے والد کا سایۂ شفقت بچپن میں قریب چودہ سال کی عمر میں اٹھ گیا تھا۔ حضرت مولانا سید حسین۔۔۔
مزید
حضرت مولانا بزرگ علی مارہروی قدس سرہٗ حضرت مولانا بزرگ علی ابتدا میں بہت بد شوق تھے،پڑھنے لکھنے میں قطعی جی نہیں لگاتے تھے،جتنی زیادہ تاکید ہوتی،اُنتی ہی بے رغبتی دکھاتے، آپ کے والد حسن علی صاحب اچھے میاں قدس سرہٗ کے مرید تھے،ایک دن ان کو لے کر مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور ان کی بد شوقی کا ذکر کر کے دعا کی التجا پیش کی،حضرت نے فرمایا،تم بد شوق کہتےہوِحالانکہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ اپنے زمانے کا بڑا عالم ہوگا،اور دستار فضیلت باندھے گا،حضرت کے یہ الفاظ مستجاب ہوئے،مولانا نے تمام مشاغل ترک کردیئے،ہر وقت پڑھنے اور مطالعۂ کتب میں مصروف رہنے لگے،ابتدائی درسیاتِ نظامی حضرت مولانا شاہ سلامت اللہ کشفی سے پڑھی سراج الہند حضرت شاہ عبد العزیزی محدث دھلوی سے حدیث کا در کیا،آگرہ وکلکتہ کے مدارس میں برسوں درس دینے کے بعد علی گڑھ میں مصنف کے عہدے پر فائز ہوئے،جامع مسجد میں محمد ۔۔۔
مزید
۱۲۷۹ھ سال ولادت،تعلیم و تربیت نانہال میں پائی،اپنے ماموں وخسر حضرت مولانا شزاہ ارشاد حسین رام پوری،اور خالہ زاد بھائی،اور بہنوئی حضرت مولانا ظہور الحسین سے درسیات پڑھیں۔مولانا امداد حسین اور مولانا عنایت اللہ رحمہما اللہ سے سلوک مجددیہ کی تکمیل کی،عالم باعمل، خلیق و متواضع تھے، بعد ادائے مناسک حج مدینہ طیبہ کو جاتے ہو ئے ۱۳۲۸ھ میں انتقال ہوا، (تذکرہ کاملان رام پور) ۔۔۔
مزید
علوم اسلامیہ کے فاضل اجل،مدرسہ منظر اسلام بریلی سے سند تک تکمیل حاصل کی،حضرت مولانا نور الحسین فاروقی ابن شمس العلماء علامہ ظہور الحسین رام پوری جیسے فردزمانہ سے اخذ علوم کیا،مفتئ اعظم مولانا شاہ محمد مصطفیٰ رضا بریلوی مدظلہٗ کے دار الافتاء میں فتویٰ نویسی سیکھی،اور بیعت کا شرف حاصل کیا،اجازت و خلافت پائی،مدرسہ احسن المدارس قدیم،کانپور (جس میں راقم الحروف خادم تدریس ہے) میں صدر مدرس ہوکر آئے،تھوڑی مدت کے بعد واپس تشریف لے گئے،برسہا برس مدرسۂ مظہر الاسلام میں درس دیا، پھر اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کے قائم کرو مدرسہ منظر اسلام میں صدر مدرس ہوگئے۔ تقریباً ۱۸؍ برس تک درس کے ساتھ تحقیق و استدلال کی روشنی میں فتاویٰ نویسی کا سلسلہ بھی جاری رکھا،۱۳۸۸ھ شوال المکرم میں مع اہل وعیال پاکستان تشریف لے گئے،۔۔تصانیف میں مرقاۃ الفرائض،مفتاح التہذیب،التوضیح المقبول (بحث حاصل محصول) ہدایۃ الحکمۃ،ہدایہ المنطق۔۔۔۔
مزید
غیر منسوب ہیں۔ شام میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ اشعث بن سوار نے محمد بن سیرین سے انہوں نے میمون سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح شام سے پیشتر ہی وہاں ایک جاگیر کی درخواست کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فرمان لکھ دیا۔ جس میں جاگیر کا حکم تھا۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام فتح ہوا، تو انہوں نے وہ فرمان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا۔ خلیفہ نے اس کے تین حصّے کر کے ایک حصّہ مسافروں کے لیے ایک اس کی تعمیر کے لیے اور ایک جناب میمون کے لیے مخصوص کردیا۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
محلہ رکاب گنج خیر آباد میں ۱۲۶۲ھ میں ولادت ہوئی،آپ کے والد لطف حسین صدیقی فوجی قیادت اور امور سیاست کے ماہر تھے،اور پھول میں ملازم تھے،۲۲؍ربیع الاول ۱۳۱۲ھ میں وہ بھوپال ہی میں فوت ہوئے،لطف حسین صدیقی کے والد حضرت حسین ابن محمد پناہ اپنے وقت کے بڑے عالموں میں سے تھے،اور سلسلۂ قادریہ کے مشہور مرشد اور عبداللہ ابن عتیق محمد ابن عبد الرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہم کی اولاد میں تھے،اور سلسلۂ قادریہ کے مشہور مرشد اور عبداللہ ابن عتیق محمد ابن عبد الرحمٰن بن ابو بکر رضی اللہ عنہم کی اولاد میں تھے، یہ وہ شجرۂ نسب ہے جس کو آپ کے فرزند حضرت فرد افراد مولانا محمد علی حسین علیہ الرحمۃ نے‘‘سیرت محمد اعظم’’ میں نقل فرمایا ہے۔۔۔۔۔ ‘‘تذکرۂ شعراء حجاز اردو’’ میں امداد صابری دھلوی صاحب نے مؤلف تذکرہ آثار الشعراء کے حوالے سے حضرت حسین صدیقی کا نام حکیم کادم حسین اور بحوالہ مؤلف تاریخ تاج الاقبال حضرت حسی۔۔۔
مزید