پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

حضرت سید اسماعیل گیلانی

سیّد عبداللہ ربانی گیلانی﷫ اوچی کے فرزند ارجمند تھے۔ بڑے عابد و زاہد، مستغنی المزاج اور جامع علوم و فنون تھے۔ اپنے پدر بزرگوار ہی کے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت پائی تھی۔ انہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ جلال الدین اکبر بادشاہ آپ کا بڑا معتقد تھا۔ آپ کو لاہور بلایا اور یہاں رہنے کی درخواست کی اور ایک ہزار بیگھہ زمین ضلع فیروز پور میں برائے وجہ کفاف عطا کی۔ مگر آپ کے کمالِ فقرو استغنا نے اسے قبول نہ کیا۔ البتہ لاہور میں محلہ لکھی میں سکونت اختیار کرلی۔ ۹۷۸ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ مرقد حضرت موج دریا بخاری کے مزار کے متصل ہے۔ رفت چوں از جہاں بخلدِ بریں گشت تاریخِ رحلتش روشن   پِیرِ روشن ضمیر اسماعیل ’’نیر نور میر اسماعیل‘‘ ۹۸۷ھ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ صدر الدین قونیوی

نام صدرالدین اور کنیت ابوالمعالی ہے۔ حضرت غوث الاعظم﷜ ﷫کے بہترین مریدوں سے تھے (صاحبِ سفینۃ الاولیاء شیخ محی الدین ابن العربی کے ارشد مریدوں سے لکھتے ہیں) علومِ ظاہری و باطنی کے جامع تھے۔ فقہ و حدیث میں یکتائے زمانہ تھے۔ زہدو تقویٰ اور ریاضت و مجاہدہ میں مقامِ بلند پر فائز تھے۔ مولانا قطب[1] الدین علامہ علمِ حدیث میں آپ کے شاگرد تھے۔ کتاب جامع الاحوال خود لکھ کر اُن کے سامنے پڑھی تھی اور اس پر فخر کیا کرتے تھے۔ اُس وقت کے اولیائے کرام نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر اخدِ فیض کیا ہے۔ شیخ سعد[2]الدین حموی اور مولانا جلال الدین[3] رومی سے خاص روابط تھے۔ ۶۳۰ھ میں وفات پائی۔ صدر دین صدرِ اولیائے کرام وصل او ہست آفتابِ علوم ۶۳۰ھ   شد ز دنیا چو در بہشت بریں نیز والیٔ صدق صدرالدین ۶۳۰ھ   [1]۔ جامع منقول و معقول۔ علامۂ عصر اور وحیدالدہر تھے۔ بڑے بڑے علمأ نے آپ سے اکتسابِِ فیض کیا۔۔۔

مزید

حضرت سید حامد گنج بخش

سیّد حامد نام، گنج بخش لقب۔ سیّد عبدالرزاق بن سیّد عبدالقادر ثانی گیلانی اوچی﷫ کے فرزند رشید تھے۔ اپنے والد گرامی ہی کے زیر سایہ تعلیم و تربیت پائی تھی۔ جامع کمالاتِ صوری و معنوی تھے۔ شریعت و طریقت اور معرفت و حقیقت میں وحیدالعصر تھے۔ سلسلہ قادریہ میں اپنے زمانے کے ممتاز بزرگ تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے استفادہ حاصل کیا۔ شاہانِ وقت بھی آپ کی عقیدت مندی کو باعثِ فخر و مباہات جانتے تھے۔ تمام عمر ہدایت خلق میں گزاری۔ اپنی زندگی ہی میں خلافت و سجادہ نشینی اپنے فرزند جمال الدین ابوالحسن موسیٰ کو تفویض کردی تھی۔ آپ کےخلفاء میں سے شیخ سیّد شیر علی شاہ ملتانی﷫ اور شیخ داؤد کرمانی﷫ زیادہ مشہورِ زمانہ ہوئے ہیں۔ ۹۷۸ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ مزار اوچ میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ شیخ حامد گنج بخشِ دو جہاں شیخِ محبوبی است سالِ وصلِ او ۹۷۸ھ   شد بملکِ خلد زیں فانی س۔۔۔

مزید

حضرت شاہ نعمت اللہ ولی

کنیت ابوالسعادت، لقب عفیف الدین، باپ کا نام سعد یافعی ہے۔ یمن کے رہنے والے تھے۔ آپ کا قیام زیادہ عرصہ حرمین الشریفین میں رہا ہے۔ شافعی مذہب تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی میں اپنے زمانے کے علماء و فضلاء میں ممتاز درجہ رکھتے تھے۔ آپ کو نسبتِ ارادت چند واسطوں سے حضرت غوث الاعظم﷜ سے حاصل ہے۔ تاریخ یافعی، کتاب روضتہ الریاحین، نشرالمجالس با حوال خوارق و کرامت حضرت غوث الثقلین آپ کی مشہور تصانیف ہیں۔ جب حضرت سیّد جلال الدین مخدومِ جہانیاں جہاں گشت سہروردی اوچی﷫ المتوفیٰ ۷۰۷ھ مکہ معظمہ گئے تو امام صاحب سے بھی ملاقات کاشرف حاصل کیا۔ ان دونوں حضرات میں اس درجہ اتحاد و محبت کا تعلق بڑھا کہ اس کی نظیر دیکھی نہیں گئی۔ امام صاحب نے سلسلۂ چشتیہ سے اخذِ فیض کے لیے حضرت مخدومِ جہانیاں کو حضرت شیخ سید نصیرالدین محمود چراغ دہلی﷫﷫ المتوفیٰ ۷۵۷ھ کی خدمت میں جانے کو کہا۔ چنانچہ حضرت مخدوم﷫ جب ہندوستان لوٹے تو دہلی م۔۔۔

مزید

حضرت سیدّی محمد غوث گیلانی حلبی

مشاہیر و اکابر ساداتِ حسنی سے ہیں۔ حضرت غوث الاعظم سے نسبت آبائی ہے۔ صاحبِ عظمت و کرامت، واقفِ منقول و معقول تھا۔ عبادت وریاضت اور زہد و ورع میں یکتائے روز گار تھے۔ سید اصغر علی گیلانی صاحب شجرۃ الانوار رقم طراز ہیں کہ سیّد محمد کے بزرگوں میں سے اوّل سیّد ابوالعباس احمد بن سید صفی الدین المعروف بہ سید صوفی بن سید سیف الدین عبدالوہاب بن حضرت محی الدین سید عبدالقادر جیلانی قدس سرہٗ اپنے چھوٹے بھائی سید ابوسلیمان کے ساتھ ۶۵۶ھ میں ہلاکوخاں تاتاری کے حملۂ بغداد اور قتل و غارت کے وقت بغداد سے نکل کر روم میں آگئے۔ پھر جب کچھ امن و امان ہوا تو حلب میں آکر اقامت گزیں ہوگئے۔ سید محمد غوث﷫ یہیں پیدا ہوئے۔ تعلیم و تربیت اپنے والد سے حاصل کی۔ عنفوانِ شباب میں پدر بزرگوار کی اجازت سے مختلف ممالک اسلامیہ کی سیرو سیاحت کو نکلے۔ حرمین الشریفین کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ عراق، عرب، ایران، خراسان، ترکستان اور سن۔۔۔

مزید

حضرت سید محمود حضوری

سید محمود نام، حضوری لقب، باپ کا نام خواجہ شمس الدین المشہور شمس العارفین تھا۔ سلسلۂ نسب امام موسیٰ[1] کاظم﷫ تک منتہی ہوتا ہے۔ غُور[2] کے رہنے والے تھے۔ سیّد محمود اپنے والدِ ماجد کی وفات کے بعد نقل مکان کرکے پہلے اوچ اور وہاں سے لاہور آکر محلہ حاجی[3] سرائے میں سکونت پذیر ہوگئے۔ آپ جامع علوم و فنون تھے۔ اپنے زمانے کے عارف کامل اور استاد گرامی تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے اخذِ فیض کیا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ جو شخص آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوتا وُہ اسی روز رسول اللہﷺ کے دیدار سے خواب میں نعمت حاصل کرتا اسی لیے آپ حضوری کے لقب سے مشہور زمانہ ہوئے۔ دوسری روایت یہ کہ آپ کا مرید جلدی ہی اور اوجِ طریقت پر پہنچ کر درجۂ حضوری حاصل کرلیتا۔ آپ کا سلسلۂ ارادت حضرت غوث الاعظم﷫ تک اس طرح منتہی ہوتا ہے۔ آپ مرید اپنے والد شمس الدین کے اور یہ مرید سیّد یعقوب کے اور یہ عبدالقادر۔۔۔

مزید

حضرت سید حامد گنج بخش

سیّد حامد نام، گنج بخش لقب۔ سیّد عبدالرزاق بن سیّد عبدالقادر ثانی گیلانی اوچی﷫ کے فرزند رشید تھے۔ اپنے والد گرامی ہی کے زیر سایہ تعلیم و تربیت پائی تھی۔ جامع کمالاتِ صوری و معنوی تھے۔ شریعت و طریقت اور معرفت و حقیقت میں وحیدالعصر تھے۔ سلسلہ قادریہ میں اپنے زمانے کے ممتاز بزرگ تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ کے علمی و روحانی فیوض و برکات سے استفادہ حاصل کیا۔ شاہانِ وقت بھی آپ کی عقیدت مندی کو باعثِ فخر و مباہات جانتے تھے۔ تمام عمر ہدایت خلق میں گزاری۔ اپنی زندگی ہی میں خلافت و سجادہ نشینی اپنے فرزند جمال الدین ابوالحسن موسیٰ کو تفویض کردی تھی۔ آپ کےخلفاء میں سے شیخ سیّد شیر علی شاہ ملتانی﷫ اور شیخ داؤد کرمانی﷫ زیادہ مشہورِ زمانہ ہوئے ہیں۔ ۹۷۸ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ مزار اوچ میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ شیخ حامد گنج بخشِ دو جہاں شیخِ محبوبی است سالِ وصلِ او ۹۷۸ھ   شد بملکِ خلد زیں فانی س۔۔۔

مزید

حضرت شیخ بہلول دریائی

سلسلۂ قادریہ کے مشائخ عظام اور اولیائے ذوی الاحترام سے ہیں۔ حضرت شاہ لطیف[1] برّی قادری سہروردی قدس سرہٗ کے نامور مرید خلیفہ تھے۔ علم و فضل و زہدو تقویٰ تھے اپنے معاصرین میں ممتاز تھے۔ اپنے مرشد کی وفات کے بعد عراق و عجم کی سیاحت کو نکلے۔ پہلے نجفِ اشرف پہنچے۔ دو سال تک حضرت علی﷜ کے مزار اقدس پر اعتکاف کیا۔ وہاں سے کربلا آئے۔ حضرت حسین﷜ کے مزار پر تین ماہ حاضری دیتے رہے وہاں سے مکہ معظمہ آئے۔ مناسکِ حج ادا کیے۔ یہاں سے مدینہ منورہآئے روضۂ رسول اکرمﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ پھرمشہد مقدس آئے۔ حضرت علی رضا امام ہشتم اثنا عشری کے مزار پر حاضری دی۔ یہاں سے بشارت پائی کہ ایک مرد حق فلاں پہاڑ کی غار میں بیٹھا ہوا ہے جو سلسلۂ قادریہ ہی سے منسلک ہے اُس کے پاس جاؤ اور اپنا حصّہ لو جو اگرچہ وہ مرد مجذوب ہے مگر پیر روشن ضمیر ہے۔ چنانچہ یہ اشارۂ غیبی پاتے ہی آپ وہاں پہنچے دیکھا کہ غار میں ایک مرد دیرینہ۔۔۔

مزید

حضرت سید میر میراں گیلانی

حضرت سیّد مبارک حقانی گیلانی اوچی کے فرزند رشید تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے والد ماجد ہی کے سایۂ عاطفت میں پائی تھی۔ اُنہی کے مرید و خلیفہ بھی تھے۔ عابدو زاہد، متقی و صاحب الارشاد تھے۔ اوچ سے نقلِ مکان کرکے لاہور آگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قبولِ عام عطا فرمایا تھا تمام عمر درس و تلقین میں گزاری۔ ۹۸۶ھ میں وفات پائی۔ مرقد گورستان میانی میں ہے۔ بجنت رفت زیں دنیاے فانی! وصالش مخزن الاسرار فرما ۹۸۶ھ   چوں آں مقبل مبارک میر میراں بخواں ’’مقبل مبارک میر میراں‘‘ ۹۸۶ھ ۔۔۔

مزید

حضرت حماد دیاس بن مسلم

ابو عبداللہ کنیت۔ حماد بن مسلم دیاس نام۔ دیاس دوشاب فروش کو کہتے ہیں اور دوشاب انگور یا کھجور کے شیرہ کو کہتے ہیں جو باسی اور ترش ہوچکا ہو۔ اسی اعتبار سے اس کو دوش آب یعنی باسی کہا جاتا ہے۔ (نیز اس کے معنی ٹھنڈا پانی بیچنے والے کے بھی ہیں) اپنے زمانے کے پیرانِ کبار، عارفِ اسرار اور صاحبِ خوارق و کرامت میں سے تھے۔ حضرت غوثِ اعظم کے پیر بھائی تھے۔ حضرت ِثقلین اکثر آپ کی خدمت میں جاتے تھے اور فوائد عظیم حاصل کرتے تھے۔ اگرچہ اَن پڑھ تھے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی عطا فرماکر دولتِ علم سے مالامال کردیا تھا۔ آپ کے کم و بیش بارہ ہزار مرید تھے۔ ایک روز فرمانے لگے میرے بارہ ہزار مرید ہیں اور ہر رات میں سب کو یاد کرتا ہوں اور ان کی ضرورتون کو خدا سے طلب کرتا ہوں۔ ان میں سے اگر کوئی گناہ کے جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کےلیے توبہ کی توفیق کی دعا مانگتا ہوں یا پھر اس کے لیے جہان سے اٹھالینے کی در۔۔۔

مزید